09:01 am
اک تھوڑااورانتظار!

اک تھوڑااورانتظار!

09:01 am

ہرفرعون یہ سمجھ بیٹھاہے کہ بس وہی ہے عقل وفکرکا علمبردار بہت ضروری ہے وہ ۔اس کی ہدایت ورہنمائی ہی نجات کاسبب ہے۔بس وہی ’’میں‘‘کاچکر۔ نحوست کاچکر‘اسی لیے وہ پکارتارہتاہے۔وہی ہے اعلیٰ وارفع، وہی ہے رب اوررب اعلیٰ بھی۔خودفریبی کی چادرمیں لپٹاہوا۔ موتموت تواسے چھوبھی نہیں سکتی۔ سامان حرب سے لیس۔خد ام اس کی حفاظت پر ما مو ر ہیں۔چڑیا بھی پرنہیں مارسکتی۔دوردورتک کوئی سوچ بھی نہیں سکتاکہ اسے گزندپہنچاسکے۔جیسے وہ موت کوبھول بیٹھتاہے، خودفریب توسمجھتاہے کہ موت بھی اسے بھول جائے گی لیکن ہوتاکچھ اورہے۔سب کچھ ہوتاہے محافظ بھی،سامان حرب بھی،محلات بھی،سازوسامان بھی، آفرین بھی،واہ واہ بھی سب کچھ ہوتاہے اورپھرنیل ہوتاہے،لہریں ہوتی ہیں، منہ زورلہریںرب حقیقی کے حکم کی پابنداورجب وہ گھر جاتاہے پھردوردورتک کوئی نہیں ہوتامدد گار۔تب وہ آنکھ کھولتاہے اورپکارنے لگتاہے ’’نہیں نہیں،میں ایمان لاتاہوں، ہاں میں موسیٰ وہارون کے رب پرایمان لاتا ہوں‘‘ لیکن بند ہوجاتاہے در۔کسی آہ وبکاسے نہیں کھلتا اورپھر وہ غرق ہوجاتاہے۔موت اس کی شہ رگ پردانت گاڑ دیتی ہے۔ختم شد، نشانِ عبرت،داستان درداستان۔
 
فرعون مرتاہے،فرعونیت نہیں مرتی۔اس کے پیرو کارآتے ہیں،آتے رہیں گے۔پھروہ پکارنے لگتے ہیں،ہمارامنصوبہ کامیاب رہا۔ہم ہیں اعلیٰ وارفع ۔ ہمارے پاس ہیں وہ دانش وبینش جوبچالے جائیں گے سب کو۔بس ہمارے پیچھے چلو۔ہماری پیروکاری کروکہ نجات اسی میں ہے۔مصاحبین کے نعرہ ہائے تحسین اسے اس زعم میں مبتلارکھتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے،اس کی مرضی سے چلتاہے کاروبارحیات لیکن پھرایک اور دریا ہوتاہے اورانجام وہی۔
ایک دن میں نے ان سے پوچھاتھا ’’انسان ہیں ہم گناہ توکریں گے۔ ہوگا بھی ، پھر کیاکریں؟ ’’توبولے‘‘ہاں یہ توہے لیکن جب گناہ تنہائی میں سرزد ہوجائے توتنہائی میں اس کی معافی مانگواورجب سرعام ہوجائے،اجتماع میں ہوجائے تواجتماع میں کھڑے ہوکرمعافی کے طالب بن جاؤ۔سچائی کو اختیار کرویہ روشنی ہے،نجات ہے،رہنمائی ہے،سکون ہے۔ اس کی تلخی میں بھی شیرینی ہے،مٹھاس ہے اور جھوٹ! جھوٹ توبس ہلاکت ہے،اندھیراہے، گمراہی ہے، بے سکونی ہے، اطمینان کاقاتل جھوٹ ہے اورانسانیت کابھی۔جھوٹ ایک فریب ہے،سہا نانظرآتاہے ہے نہیں۔ بس سچائی ہی نجات ہے‘‘۔
 پھرایک دن انہوں نے اس سے بھی آگے کی بات کی تھی‘سچائی کے لیے زبانِ صادق کا ہونا ضروری ہے ۔ سچائی پاکیزگی ہے اور جھوٹ نجاست۔ جھوٹ آلودہ زبان سچائی بیان ہی نہیں کر سکتی، تو پہلے اپنی زبان و ذہن کو جھوٹ کی نجاست سے پاک کرو۔ نجس زبان سے ادا کیے ہوئے الفاظ بے معنی و بے اثر ہوتے ہیں، چاہے سننے میں کتنے ہی خوش کن اور سماعت میں کتنے ہی سرور بکھیریں ۔عجیب لوگ تھے وہ ہر مسئلے کی جڑ جانتے تھے۔ بہت سادہ بیان، لیکن روح میں اتر جاتی تھی ان کی بات، اور اب تو بہت سے ہیں شعلہ بیان لیکن!
یقین کریں کشمیرتواب دریافت ہوا ہے ’’پچھلی چھ دہائیوں سے بھارت کشمیر پرکنٹرول حاصل کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اپنے ناجائز قبضے کوقانونی شکل دینے میں ناکام توہمیشہ رہاہے لیکن اب حالات سے صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس بارکشمیرمیں بری طرح پھنس گیا ہے۔خودبھارت کے صاحبِ الرائے لوگ تسلیم کررہے ہیں کہ موجودہ تحریک ماضی کی تمام تحریکوں سے زیادہ پرجوش اورنتیجہ پرپہنچ کردم لے گی۔بھارت کیلئے کشمیرکی صورتحال اب ایسی جان لیواخوفناک دلدل بن گئی ہے کہ اگر ایک پاؤں نکالنے کی کوشش کرتاہے تودوسراپائوں اس سے کہیں زیادہ سنگین دلدل میں دھنستاچلا جاتا ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ اب دلدل سے جان چھڑانابھارت کے بس میں نہیں رہا۔کشمیر کی سنگین بگڑتی سنگین صورتحال پربھارتی سیاستدانوں نے بھی دہائی دینا شروع کردی ہے اورحیرت انگیز طورپرجوبات بھارت کے لبرل سیاستدانوں کوسمجھ نہیں آئی،اس کوبی جے پی کے معروف رہنمامرلی منوہرجوشی نے راجیہ سبھا میں چدم برم کومخاطب کرکے پوچھ لیاکہ ’’وہ بتائیں کہ کشمیریوں کے جائزمطالبات کیاہیں؟مجھے تومکمل آزادی کے علاوہ ان کی کوئی شکائت سنائی نہیں دیتی۔ اگر یہ بات ہے توپھرکشمیریوں کوبتادیجئے کہ یہ ممکن نہیں‘‘!
 اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پرپاکستان کی مجرمانہ خاموشی اورحالات سے فائدہ نہ اٹھانے کی پالیسی کبھی بھِی کشمیریوں کے جذبات کوسرد نہیں کرسکی۔داخلی حالات اورڈپلومیسی کی مجبوریوں کے تحت کشمیریوں کاوکیل،دوست اور علاقائی ایٹمی طاقت ِپاکستان کوتوخاموش کروا دیاگیا ہے لیکن ان تمام مصائب اورافتاد کے باوجودپاکستانی قوم اب بھی کشمیریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی نظرآتی ہے لیکن اس مرتبہ کشمیر کے مسئلے پر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش اوراغماض برتنے کی پالیسی جس کااشارہ ایک معروف کالم نگارکی زبانی انکشاف کیاگیاہے،موجودہ حکومت کوشدید مہنگی پڑے گی۔
قدرت نے مظلوم کشمیریوں کیلئے ایک نیادرکھول دیاہے۔حال ہی کینیڈانے بھارت کے دوجنرلز،تین بریگیڈیئرزاورخفیہ انٹیلی جنس کے دواعلیٰ آفیسرزکوویزہ دینے سے انکارکر دیاہے ۔ یادرہے کہ اس سے قبل چین جیسی عالمی سپرطاقت نے کشمیری شہریوں کوسادہ کاغذپرویزہ جاری کرنے اورکشمیر میں تعینات بھارتی فوجی جنرل کواس بنا پرکہ وہ کشمیر جیسے متنازعہ علاقے میں تعینات ہے ویزہ جاری کرنے سے انکار کرکے عالمی برادری کوایک مرتبہ پھرمتنازعہ کشمیر پراپنی پالیسی کابرملااظہارکرچکی ہے۔ اس سفارتی عمل نے کشمیری عوام کے حوصلے مزیدبلند کردیئے ہیں۔ گویا’’پاسباں مل گئے کعبے کوصنم خانے سے۔‘‘    (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں