09:02 am
ہائے افسوس‘ ہائے شرمندگی ہائے ندامت‘ مسلم امہ؟

ہائے افسوس‘ ہائے شرمندگی ہائے ندامت‘ مسلم امہ؟

09:02 am

دلچسپ موڑ ہے دلچسپ موڑ‘ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم عمران خان کو موجودہ دور کا گلاب سنگھ قرار دے ڈالا‘ سب سے پہلے کشمیریوں کو فروخت کرکے تجوریاں بھرنے والے تاریخ کے بدنام نام مہاراجہ گلاب سنگھ کی تاریخ پہ نظر کسی اگلے کالم کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔
فی الحال کشمیر کے بوڑھے شیر سید علی گیلانی کو پڑھتے ہیں جنہوں نے کشمیریوں سے کہا ہے کہ وہ بھارت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں‘ بھارتی قبضے سے مکمل آزادی تک جدوجہد جاری رکھنی ہوگی‘ بھارت کشمیریوں کو مارنے کے لئے تیار‘ پاکستان اور مسلم امہ کشمیریوں کی مدد کے لئے آگے آئیں۔
 
’’نوحہ‘‘ کشمیر میں مجاہدین نے بھارتی فوج کے درندوں کو ناکوں چنے چبوا رکھے تھے کہ ایف اے ٹی ایف اے اور عالمی صہیونی دبائو پر عمران حکومت نے جہادی دیوار کو گرا دیا‘ جہادی دیوار کیا گری کہ بدنام زمانہ قاتل نریندر مودی نے نہ صرف یہ کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کوختم کر ڈالا بلکہ کشمیر میں آر ایس ایس‘ شیوسینا کے ہزاروں غنڈوں سمیت بھارت کی مزید فوج کو داخل کرکے وہاں کرفیو نافذ کر دیا۔
چنانچہ آج کشمیر میں جاری کرفیو کا بائیسواں دن ہے‘ نریندر مودی کشمیریوں کو بھوک‘ پیاس سے مارنا چاہتا ہے‘ جو بچ جائیں انہیں گولیوں سے‘ عمران خان حکومت نریندر مودی کا تو کچھ نہ بگاڑ سکی ہاں البتہ اس حکومت نے کشمیری مجاہدین پر کڑی پابندیاں لگا کر دنیا سے کشمیریوں کے لئے مدد مانگنا شروع کر دی‘ دنیا کا اصول یہ ہے کہ جو اپنے پائوں پر مضبوط کھڑا ہو‘ دنیا اسی کی اشک شوئی کرتی ہے‘ متحدہ عرب امارات نے دہشت گرد اور قاتل نریندر مودی کو اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازا تو یار لوگ ’’مسلم امہ‘‘ کے تصور پر ہی کلہاڑے لے کر چڑھ دوڑے۔
یقینا ایک قاتل‘ دہشت گرد اور بدنام زمانہ ہندو شدت پسند نریندر مودی کو اعلیٰ اماراتی سول ایوارڈ سے نوازنا ایک تکلیف دہ اور قابل مذمت عمل ہے اور عرب امارات کے اس عمل پر سب سے جاندار تبصرہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے ایک ٹیوٹ میں کیا ہے...وہ کہتے ہیں کہ ’’ہائے افسوس! وہ شخص جو ہزاروں مسلمانوں کا سب سے بڑا قاتل ہے‘ وہ شخص جس نے ہزاروں مسلمانوں کی زمینوں پہ غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے‘ جس نے کشمیر کو اہل کشمیر کے لئے قید خانہ بنا دیا جس کی وجہ سے کشمیر میں مسلمانوں کا سب سے بڑا قتل عام ہونے جارہا ہے‘ ایسے شخص کو ایک مسلمان عرب ملک کی جانب سے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ’’ہائے افسوس‘‘ ’’ہائے یہ شرمندگی‘‘ ’’ہائے ندامت‘‘
نریندر مودی کو سول ایوارڈ دینا جہاں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی وہاں مسلمانوں کے لئے بھی باعث شرمندگی ہے‘ لیکن جان کی امان پائوں تو کچھ سچی باتوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ ریکارڈ درست رہے۔
کشمیر میں بھارتی درندگی کا شکار بن کر جو ایک لاکھ کے لگ بھگ مسلمان شہید ہوئے وہ 5اگست سے پہلے تھے کوئی فواد چوہدری سے پوچھ کر قوم کو بتا سکتا ہے کہ ایک لاکھ کے لگ بھگ کشمیری مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو عمران خان نے بار‘ بار ٹیلی فون کرنے کی کوششیں کیوں کی تھیں؟
 ہزاروں کشمیری مائوں‘ بہنوں کو درندگی کا نشانہ بنانے والے بھارت کے گرفتار پائلٹ کو کس جذبہ خیر سگالی کے تحت واہگہ بارڈر کراس کرایا گیا؟
کیا وزیراعظم عمران خان کا وہ جذبہ ’’سگالی‘‘ اسی بدنام زمانہ قاتل نریندر مودی کے لئے نہ تھا کہ جسے گزشتہ دو روز قبل ایک عرب ملک نے اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازا؟ جس وقت پاکستان میں ایک مخصوص گروہ بھارت کے ساتھ آلوئوں اور پیاز کی تجارت کے لئے مرا جارہا تھا کیا اس وقت کشمیر آزاد ہوچکا تھا؟
ایک میڈیا گروپ نے جب امن کی آشا کے نام پر تماشا لگا کر تجوریاں بھرنے کا کام شروع کر رکھا تھا کیا تب کشمیر نریندر مودی سے آزادی حاصل کر چکا تھا؟
سرینگر میں کشمیری مسلمانوں کا خون بہہ رہا تھا اور واہگہ بارڈر پر بھارتی بی ایس ایف کی بانہوں میں بانہیں ڈالے کچھ لوگ بھنگڑے ڈال رہے تھے کیا وہ بھنگڑے ڈالنے والے بھی عرب امارات کے لوگ تھے؟ ’’سیفما‘‘ کے پلیٹ فارم سے بھارت کی محبت کو پاکستان میں پروان چڑھانے والے ’’سینئرز‘‘ اور ’’جونیئرز‘‘ کا تعلق بھی کیا کسی عرب ملک سے ہی ہے؟ جب پاکستان پر حکمرانی کرنے والے دبئی کے شہری ہوں گے‘ یہاں پیسے کما کر وہاں فلیٹ اور محل بنائیں گے‘ پاکستان کے قانون سے بھاگ کر یا ڈیل پروگرام کے تحت کوئی سعودی عرب اور کوئی عرب امارات میں جابسے گا تو پھر امارات کے حکمرانوں سے شکوہ کیسا؟
دلچسپ‘ انتہائی دلچسپ‘ سابق صدر آصف علی زرداری کا گھر عرب امارات میں ہے‘ بلاول‘ آصفہ اور بختاور کی پرورش یو اے ای میں ہوئی‘ رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف آج بھی عرب امارات میں زندگی کے سانس پورے کر رہا ہے‘ ہمارے حکمرانوں کے امارات کی حکمران فیملی سے ذاتی تعلقات رہتے ہیں‘ ہر ’’سینئر‘‘ کالم نگاری کا دعویدار‘ دبئی میں شامیں گزارنا اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے۔
بعض پاکستانی ٹی وی چینلز کے مالکان آج بھی دبئی میں رہائش پذیر ہیں‘ لیکن اس سب کے باوجود اگر ’’نریندر مودی‘‘ جیسا قاتل اور بدنام دہشت گردی امارات کا سب سے بڑا سول ایوارڈ لینے میں کامیاب ہوا تو اس میں ’’مسلم امہ‘‘ کے تصور کا کیا قصور ہے؟
مجرم تو پاکستان کے وہ حکمران بھی ہیں کہ جو عرب امارات کے حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر ’’سمجھانے‘‘ کی بجائے اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات سمیٹتے رہے‘ فواد چوہدری کو تو موقع ملنا چاہیے‘ فرماتے ہیں کہ ’’پاکستان میں ایک طبقہ پاکستان سے زیادہ عرب اور ایران کے لئے فکر مند رہتا ہے۔ ’’امہ‘‘ نہیں سرحدیں مقدس ہیں۔‘‘
فواد چوہدری نے ہمیشہ کی طرح بات ادھوری کی ہے ورنہ پورا سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے اور سیکولر گروہ کو تو ہمیشہ قادیانی اور امریکی مفادات کے تحفظ کی فکر لاحق رہتی ہے‘ اگر سیکولر شدت پسند اور حکمران مافیا کے وابستگان قادیانیوں اور امریکیوں کے مفادات کے تحفظ میں سینہ سپر رہیں گے تو پھر ایران یا عرب کی فکر میں گھسنے والوں سے شکوہ کیسا؟
حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے قدموں میں جان پیدا کرے‘ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے تحفظ کی پہلی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے‘ جب حکمران خود اس ذمہ داری سے پہلوتہی کریں گے تو پھر کوئی دوسرا ہماری مدد کونہیں آئے گا۔وزیراعظم کچھ مدت کے لئے غامدی ’’فکر‘‘ کو جھٹک کر کشمیریوں کی فکر کریں تو انہیں ہر قیمت پر اعلان جہاد کرنا پڑِے گا‘ کشمیر کا جہاد دہلی تک پہنچا تو یہی سول ایوارڈ مودی کے گلے میں لعنت کا طوق بن جائے گا ۔ ان شاء اللہ

تازہ ترین خبریں