09:03 am
ایوارڈ جنگ! اب ادیب و شاعر کنٹرول لائن پر

ایوارڈ جنگ! اب ادیب و شاعر کنٹرول لائن پر

09:03 am

٭عرب امارات اورمودی کو ایوارڈO کیا جنگ ہو سکتی ہے؟O بحران کا بھی مودی کو ایوارڈO فضل الرحمان کا اکتوبر میں اسلام آباد پر لشکر کشی کا اعلانO آصف زرداری کی طبیعت زیادہ خراب، سینے میں بھی تکلیفO ادیب اور شاعر بھی کنٹرول لائن پر جائیں گےO بھارتی اپوزیشن کو کشمیر سے نکال دیا گیاO افغانستان میں امن کے بعد طالبان بھارت کا رخ کریں گے:ٹائمز آف انڈیاO مقبوضہ کشمیر پر قیامت کا21 واں دن۔
 
٭بعض اوقات حالات میں اچانک بے قابو قسم کا جذباتی پن پیدا ہو جاتا ہے۔ عرب امارات نے بھارتی وزیراعظم کو عین اس وقت اعلیٰ ترین ایوارڈ دیا جب بھارت مقبوضہ کشمیر پر جبر و تشدد کی خونریز قیامت توڑ رہا تھا۔ پاکستان کی پوری قوم بھارت کی اس بربریت پر مشتعل تھی۔ ایسے میں مودی کو گلے لگا کر ایوارڈ دینا انتہائی نامناسب اور غلط حرکت تھی۔ اول تو مودی کی مذمت کی بجائے اسے ایوارڈ دینا ہی کشمیری عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے والی بات تھی۔ اس ایوارڈ کا اعلان چھ ماہ قبل، فروری میں کیا گیا تھا۔ اسے چھ ماہ مزید ملتوی کیا جا سکتا تھا۔ میں نے اس ایوارڈ کی مسلسل سخت مذمت کی ہے۔ مگر! بعض تلخ حقائق کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ نریندر مودی کو ایوارڈ بہت بری بات تھی مگر یہ کہ عرب امارات نے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ پاکستان کے وزیرخارجہ کے مطابق عرب امارات نے کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کی حمائت کی ہے۔ اگرچہ یہ حمائت کھل کر سامنے نہیں آئی مگر عرب امارات نے وزیرخارجہ کے اس بیان کی تردید بھی نہیں کی! اب بہت اہم مسئلہ کا ذکر کہ عین اس موقع پر جب پاکستان بری طرح مالی بحران کا شکار تھا۔ اس کی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ یہ ناقابل بیان صورت حال تھی۔ اس وقت سعودی عرب، عرب امارات اور چین نے پاکستان کی بروقت مدد کی اس سے پاکستان اس خوفناک صورتحال سے بچ گیا جو دیوالیہ ہونے پر پیش آ سکتی تھی (اقوام متحدہ، عالمی بنک اور آئی ایم ایف پاکستان کا کنٹرول سنبھال لیتے)۔ عرب امارات نے پاکستان کو چھ ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا۔ تین ارب ڈالر قسطوں میں اور باقی وقفہ وقفہ سے آنے تھے۔ تین ارب ڈالر پاکستان کے آٹھ ترقیاتی منصوبوں کے لئے ہیں ان میں صحت، توانائی، تعلیم اور سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں۔ اس سے قبل پچھلے 42 برسوں میں عرب امارات پاکستان کے مختلف شعبوں کے لئے 32 کروڑ ڈالر کی ناقابل واپسی امداد فراہم کر چکا ہے۔ یہ ساری امداد اب بھی بہت اہم ہے۔
زیادہ اہم معاملہ یہ ہے کہ اس وقت عرب امارات میں دس لاکھ سے زیادہ پاکستانی افراد کام کر رہے ہیں جو ہر سال بھاری زرمبادلہ پاکستان میں بھیجتے ہیں۔ ہمیں ان دس لاکھ افراد کے مستقبل کو مدنظر رکھنا ہے۔ عرب امارات کے بارے میں جو انتہائی جذباتی مطالبات کئے جا رہے ہیں ان کے ردعمل میں اگر عرب امارات کی حکومت ان لاکھوں پاکستانی افراد کو فارغ کر دے تو کیا صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے؟ قارئین کے شائد علم میں نہ ہو کہ عرب امارات کی بحری، فضائی اور بری افواج پاکستان کے ہی عسکری ماہرین نے قائم کیں اور ان کی تربیت کی۔ یہ تربیت اب بھی جاری ہے۔ (بھارت کو اس تربیت کی اجازت نہیں دی گئی)۔ یہ چند مختصر حقائق ہیں۔ ملک کی سیاست کو آگے لے جانے کے لئے بہت سے عوامل کو سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ صرف جذباتیت سے کام نہیں چلتا۔ ویسے دیکھا جائے تو عرب امارات پر کوئی دبائو ڈالنے کے لئے ہمارے پاس کیا جواز ہے؟ عرب امارات تو ہمارا ایک پیسے کا بھی احسان مند نہیں۔ مودی کو ایوارڈ دینے پر احتجاج بالکل درست مگر یہ ایوارڈ تو ہمارے چار جرنیلوں کو بھی مل چکا ہے…اور پھر! بھارت کے ساتھ عرب امارات کی 60 ارب ڈالر کی سالانہ تجارت ہو رہی ہے۔ جنوبی بھارت میں عرب امارات میلوں دور تک زیر زمین اپنے پٹرول کے بڑے ٹینک بنا رہا ہے۔ وہ اپنے ان مفادات کو کیسے ترک کر کتا ہے۔ مودی کو ایوارڈ کی مذمت اپنی جگہ مگر ہمارا عالم کیا ہے پتہ ہی نہیں چلتا کہ وزیرخارجہ کون ہے، شاہ محمود قریشی؟ فواد چودھری؟ یا شیخ رشید؟ قارئین کرام! ملک پر بہت نازک وقت آ پڑا ہے۔ ہمیں مودی جیسے خطرناک موذی سے نمٹنا ہے۔ اس کے لئے ایک حد تک جذباتی ہونا ٹھیک ہے مگر ہمیںبہت تحمل، ٹھنڈے دماغ اور تدبر سے کام لے کر آگے بڑھنا ہے۔ خدا تعالیٰ ہمارے عظیم وطن کو سلامت و شادباد رکھے!
٭اب کچھ باتیں جنگ کی! بلاشبہ کسی بھی مسئلے کے آخری حل کے لئے جنگ ناگزیر ہو جاتی ہے مگر جنگ ایسا خوفناک عفریت ہے کہ ہر چیز تباہ ہو جاتی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جنگ کس سے اور کیسے کی جا سکتی ہے! مقبوضہ کشمیر کی بھاری اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے، ہم اس علاقے پر ایک گولی بھی نہیں برسا سکتے۔ بھارت میں 30 کروڑ مسلمان بستے ہیں۔ ہر شہر میں موجود ہیں۔ یہ ہمارے اپنے بھائی، اپنے لوگ ہیں۔ گولہ باری ہو گی تو یہ اور ان عبادت گاہیں بھی زد میں آئیں گی۔ ویسے اب سرحدی اور زمینی جنگوں کا دور ہی نہیں رہا۔ اب تو دور سے میزائل چلیں گے اور میزائل کی خوفناک تباہی عام گولہ باری سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ میں پاکستان اور بھارت میں 1965ء 1971ء اور 1999ء میں تین جنگیں دیکھ چکاہوں۔ ہر بار دونوں طرف ہولناک تباہی، ہزاروں جانیں چلی گئیں، ہزاروں افراد مفلوج ہو گئے۔ دونوں طرف سینکڑوں آباد بستیاں مٹ گئیں، فوجیں مفتوحہ علاقوں کے ایک ایک گھر کی اینٹیں، ایک ایک درخت کاٹ کر لے گئیں اور پھر سلامتی کونسل کے حکم پر جنگ بندی ہوگئی۔ بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد دونوں طرف کی فوجیں مفتوحہ علاقے خالی کر کے پرانی پوزیشنوں پر واپس آ گئیں۔ اب بھی خدانخواستہ جنگ شروع ہوئی تو اگلے ہی روز سلامتی کونسل کا جنگ بندی کا حکم آ جائے گا! اس وقت گولہ بارود کے تبادلے کی بجائے، بیرون ملک پر ہرسطح پرزبردست سفارتی محاذ آرائی کی ضرورت ہے۔ بھارت اب تک سفارتی محاذ پر پسپا ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس مہم کو اور زوردار بنانے کی ضرورت ہے۔
٭لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے صحافیوں نے مقبوضہ کشمیر پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف لاہور سے کنٹرول لائن تک احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا۔ اس میں تینوں شہروں کے علاوہ آزاد کشمیر کے مختلف شہروں خاص طور پر مظفر آباد، ہٹیاں بالا اور چناری کے صحافیوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ ان کے ساتھ آزاد کشمیر کے تاجر بھی شامل ہو گئے۔ آزاد کشمیر کی حکومت اور پولیس نے بہت تعاون کیا تاہم صحافیوں کی اس ریلی کو سکیورٹی کی خاطر کنٹرول لائن سے کچھ دور روک دیا گیا۔ صحافی قائدین نے اس موقع پر ولولہ انگیز اعلان کیا کہ صحافی لوگ! دشمن کے ساتھ صرف لفظی جنگ کے ساتھ اب تلوار اٹھانے کو بھی تیار ہیں۔ اس صحافتی ریلی کی خبریں دنیا بھر کے میڈیا میں نمایاں شائع ہوئی ہیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ کراچی، حیدرآباد، پشاور اور کوئٹہ میںبھی صحافتی حلقے وہاں ایسی ریلیوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار صحافیوں کا اس سطح کا احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔ لفظی جنگ صرف صحافی لوگ ہی بہتر لڑ سکتے ہیں۔ اس ریلی کا ایک اہم اثر یہ ہوا ہے کہ ملک کے ادیب، شاعر بھی حرکت میں آ گئے ہیں۔ ملک کے نامور مصور، شاعر اور ادیب اسلم کمال نے بتایا ہے کہ وہ لاہور اور دوسرے شہروں کے ادیبوں، شاعروں، مصوروں اور خطاط حضرات سے رابطہ قائم کر رہے ہیں کہ لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد کے اہل قلم تو کنٹرول لائن تک مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کے لئے ریلی نکالیں گے، دور کے شہروں میں وہاں جلسے جلوس نکالے جائیں۔ اس بارے فلم، ٹیلی ویژن اور تھیٹر سے بھی اس قسم کے احتجاج کے لئے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ یونیورسٹیوں اور کالجو ںکے اساتذہ اور طلبا بھی کشمیری بھائیوں کی مظلومیت کے خلاف منظر عام پر آئیں۔ زمانہ قیامت کی چال چل گیا ہے، اس کا جواب بھرپور قومی یک جہتی کے ساتھ دینا ناگزیر ہو گیا ہے!

تازہ ترین خبریں