09:03 am
ہندو مت کی تشکیل

ہندو مت کی تشکیل

09:03 am

کئی قارئین کے لیے یہ بات تعجب خیز ہوگی کہ اٹھارہویں انیسویں صدی سے قبل ’’ہندوازم‘‘ یا ہندومت کی اصطلاح وجود نہیں رکھتی تھی۔ ہندوستان کا سماج واضح طور پر ذات پات میں تقسیم ہے اور ہمالیہ سے لے کر کیپ کومورین تک سیکڑوں مقامی دیوی دیوتاؤں کی پرستش کی جاتی ہے، ان مختلف خطوں کے باسیوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن انھیں ایک مشترکہ دھرم کا حصہ بتایا جائے گا اور اسے ’’ہندوازم‘‘ یا ہندو مت کا نام دے دیا جائے گا۔ برصغیر کے مختلف علاقوں میں مذہبی پیشوائیت کے دعوے دار ہندوستانی برہمنوں کو آج بھی یہ بات گراں گزرتی ہوگی کہ نچلی ذات سے تعلق رکھنے والوں کا شمار بھی اسی دھرم کو ماننے والی فہرست میں ہوتا ہوگا جہاں ان کا نام بھی لکھا جاتا ہے ۔ خیر، انھوں نے لکھنے پڑھنے اور فہرستیں تیار کرنے کا جھنجھٹ ہی کب پالا ہے۔  
 
 ’ہند‘ اور ’ہندو‘ کے لفظ بھی ہندوستان کے باہر فارس کے علاقے سے یہاں آئے۔ ماہرین لسانیات کے مطابق فارسی لفظ ہندو سنسکرت کے لفظ سندھو کی تبدیل شدہ صورت ہے، جس میں’س‘‘ کی جگہ ’ہ‘ نے لے لی۔ 850سے 600قبل مسیح کے دوران اسکو پارپولا نے بھی یہی بیان کیا ہے۔ اسی لیے رگ وید میں بیان کی گئی ’’سپتا سندھوا‘‘ (ساتھ دریائوں کی سرزمین) کو آوستا میں ’’ہپتا ہندو‘‘ لکھا گیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں حملہ آور ہونے والے فارسی فاتحین نے اسے ہندوستان کا نام دیا۔ اس کا مقامی نام بھارت تھا۔ فارسی ماخذات سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’انڈیا‘‘ بھی فارسی ہی سے لیا گیا اور اس کے آغاز میں ’ایچ‘‘ کو ’آئی‘ سے تبدیلی کردیا گیا۔ 
برطانوی مداخلت سے قبل ہندوستان میں پرستش کی رائج رسومات کوئی باقاعدہ نظام اعتقاد نہیں رکھتی تھیں۔ ایک ہی خطے میں سانپوں اور کائنات کی حقیقت مطلق کی پرستش کی جاتی تھی اور کبھی تو ایک ہی وقت میں ایک شخص ان دو الگ الگ تصورات پر یقین رکھتا تھا۔ مذہبی کتابیں سنسکرت میں تھیں، ان تک ہر کسی کی رسائی نہیں تھی اور صرف برہمنوں ہی کو یہ زبان آتی تھی اور ان کے علاوہ کسی کو یہ زبان سیکھنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ آج بھی جب عام آدمی سنسکرت میں مذہبی رسوم کی ادائی کے لیے کسی برہمن کو اپنے گھر بلاتا ہے تو وہ اپنے آبا و اجداد کی اسی روایت پر عمل کرتا ہے۔ کڑی مذہبیت کے بجائے اس کی حیثیت صرف معمول کی مذہبی رسومات تھیں۔ 
مسلمانوں کے بارے میں بھی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مختلف کتابوں میں تاثر دیا جاتا ہے کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا۔ اس کے برخلاف ایران اور وسطی ایشیا سے آنے والے صوفیا نے یہاں خانقاہیں تعمیر کیں اور لنگر اور تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا۔ وہ اپنے پاس آنے والوں سے یکساں سلوک کرتے تھے ، ان کی دیکھ بھال کرتے تھے جس کی وجہ سے لوگ اسلام کی جانب متوجہ ہوئے۔ اونچی ذات کے چند ہندوؤں نے مغلوں کی قربت کے لیے بھی اسلام قبول کیا تاہم مسلمان ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق نچلے ذاتوں ہی سے تھا۔ یہ زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ نہیں تھے، عربی کا علم نہیں رکھتے تھے اور اکثر کو مساجد تک رسائی بھی حاصل نہیں تھی، اس لیے وہ مسلمان ہونے کے بعد بھی پہلے کی طرح زندگی بسر کرتے رہے۔ اسی لیے مذہب کی عام صورت مقامی اور صوفی روایات سے زیادہ قریب تھی اور دیہات میں ہندو مسلمان کی تفریق بہت واضح نہیں تھی۔ راجستھان کے کچھ معاصر محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض علاقوں میں جب انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ وہ ہندو ہیں یا مسلمان تو ان کا جواب تھا’’ہم ہندومسلمان ہیں‘‘۔ یہ لوگ صوفی بزرگوں کے مزارات پر حاضری بھی دیتے اور  مقامی دیوی کے لیے بلی بھی چڑھاتے ہیں۔ انہی حالات کے پیش نظر 1927میں تبلیغی جماعت قائم کی گئی۔ اس جماعت کا بنیادی مقصد تبدیلی مذہب کے بجائے مسلمان کہلانے والوں کو اپنے تصور اسلام کے مطابق مذہبی تعلیمات سے آشنا کرنا تھا۔
برطانوی پہلے تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی شکل میں کاروبار کے لیے ہندوستان آئے۔ 1765میں انہیں مغل دربار سے اپنے زیر انتظام علاقوں سے محصول جمع کرنے کا پروانہ ملا۔ اس کے بعد سے کمپنی نے ایک انتظامی ادارے کی حیثیت اختیار کرلی اور اس کے افسران نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ہندوستانی سماج اور رسومات کا گہرائی سے جائزہ لینا شروع کردیا۔ اٹھارہویں صدی میں یہاں مذہب کی رائج صورت، دیوی دیوتاؤں ، مکاتب فکر اور فرقوں کی بہتات نے انگریز کو حیرت زدہ کردیا۔ مقامی مذہبی عقائد و رسومات کی تشریح اور تفہیم کے لیے برطانوی کوششوں کا فطری نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں ہندوستانی ثقافت کو بہت قریب سے دیکھنے کے مواقع میسر آئے۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں