09:04 am
منافقانہ روئیے ۔ سورہ نساء کی روشنی میں

منافقانہ روئیے ۔ سورہ نساء کی روشنی میں

09:04 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس کے بعد ایک نیا موضوع شروع ہوا کہ مسلمانوں میںبھی ایک کردار ایسا موجود ہے کہ جو خود اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، لیکن اس کا رویہ غیر اسلامی ہے۔ اُس رویہ کا ایک پہلو یہاں بیان ہوا۔ وہ یہ کہ یہ لوگ اپنے مقدمات نبی اکرمﷺ کی عدالت میں لے جانے کی بجائے یہود کی عدالت میں لے جاتے ہیں۔ انہیں اللہ کا اور شریعت کا فیصلہ پسند نہیں ہے۔ وہ جب یہ دیکھتے ہیں کہ فلاں معاملے میں مجھے یہودی عدالت میں سے اپنی مرضی کا فیصلہ ملے گا تو وہ ادھر رجوع کر لیتے ہیں۔ چنانچہ جن آیات کاآج ہم مطالعہ کریں گے، اُن میں یہی بات آئی ہے۔ فرمایا: ’’کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کروائیں ۔‘‘ (النساء۔۶۰)
 
یعنی یہ زبان سے تو ایمان کے دعوے دار ہیں، آپؐ کی نبوت و رسالت کی گواہی دیتے ہیں،لیکن ان کا حال یہ ہے کہ اپنے مقدمات طاغوت کے پاس لے جاتے ہیں۔طاغوت کیا ہے؟ طاغوت ہر وہ شخص ہے جو اللہ اور رسولؐ کا دشمن ہے۔ ہر وہ اجتماعت طاغوت ہے، جو دین کی راہ میںکھڑی ہو۔ ہر وہ نظام طاغوت ہے جو اللہ و رسول ﷺ کی بالادستی اور فیصلہ کن حیثیت کو تسلیم نہ کرے۔
 ’’ حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔ ‘‘
سورۃ البقرہ میں ایک سچا اور پکا مومن کہا ہی اُسے کیا گیا ہے جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے ۔ جو کہے کہ میں اللہ کی حاکمیت کے سوا کسی اور کی حاکمیت کو نہیں مانتا ۔ اللہ کے قانون کے سوا کسی ورلڈ آرڈر، کسی قانون کو نہیں مانتا اور اللہ پر ایمان پختہ رکھے فرمایا کہ وہی شخص ہے کہ اس نے ایک مضبوط کنڈے پر ہاتھ ڈالا ہے۔ وہی واقعی سچا اور پکا مومن ہے۔ آگے فرمایا: ’’اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے۔‘‘ 
یہ لوگ دراصل شیطان کے وسوسوں اور سازش کا شکار ہیں۔ شیطان چاہتا ہے کہ انہیں کھلی گمراہی میں ڈال دے۔ اسی لئے تو یہ طاغوت کے انکار کی بجائے اس کے پاس اپنے فیصلے لے جاتے ہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ کسی شخص سے کہا جائے کہ اس معاملے کو اسلام کی عدالت میں لے جا کر فیصلہ کر ائو اور وہ کہے کہ مجھے یہ عدالت قبول نہیں ہے، تویہ روش حقیقت کے اعتبار سے کفر ہے۔ 
آگے فرمایا:’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم اللہ نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آئو تو تم منافقون کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں۔‘‘
منافقین کے لئے قانون شریعت کے تحت فیصلے کروانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آئو حضرت محمدﷺ کی عدالت کی طرف، آپﷺ سے فیصلہ لو، تو چونکہ ظاہر میں مدعی اسلام ہیں، اس لئے صاف طور پر انکار نہیں کر سکتے۔ مگر آپؐ کے پاس آنے سے اور حکم الٰہی پر چلنے سے بچتے ہیں اور رکتے ہیں کہ کسی ترکیب سے جان بچ جائے اور رسول کو چھوڑ کر جہاں ہمارا جی چاہے اپنا جھگڑا لے جائیں۔ یہ اس لئے ہے کہ ان کے اندر کھوٹ ہے۔ یہ بہت نمایاں منافقا نہ رویہ ہے کہ آدمی اللہ اور رسولﷺ کے احکام اور قوانین سے پہلو تہی اور صرف نظر کرے اور اپنے مقدمات طاغوت کے پاس لے کر جا کر وہاں سے فیصلے کروائے۔ اہل ایمان کو اس رویہ سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی مسلمان ہو اور یہود کی عدالت میں، کافروں و مشرکوں کی عدالت میں جا کر اپنے مقدمات کا تصفیہ کرائے۔یہی بات آگے سورۃ المائدہ میں نہایت سخت وعید کی صورت میں آئی ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کے نازل کئے کلام کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی کافر ہیں… وہی ظالم ہیں… وہی فاسق ہیں۔ بڑی سادہ سی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک قانون شریعت دے دیا ہے، اور مسلمانوں سے کہا کہ تم میری زمین پر اس قانون کو نافذکرو۔ زمین اللہ کی ہے۔ وہی اس کا خالق و مالک وہی ہے۔ اس پر حق حاکمیت بھی صرف اسی کا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ زمین پر اللہ کا قانون نافذ اور قائم ہو۔ان آیات کے شان نزول میں ایک واقعہ ہے۔ جو یوں ہے کہ یہود فصل خصومات میں رعایت و رشوت کے عادی تھے۔ اِس لئے جو لوگ جھوٹے اور منافق اور خائن ہوتے، وہ اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ خاطر کریں گے اور آپؐ کے پاس ایسے لوگ اپنا معاملہ لانا پسند نہ کرتے کہ آپ ؐ حق کی رعایت کریں گے ، کسی شخص کی رعایت نہ کریں گے۔ سو مدینے میں ایک یہودی اور ایک منافق کہ ظاہر میں مسلمان تھا کسی امر میں دونوں جھگڑ پڑے۔ یہود ی جو سچا تھا اُس نے کہا کہ چل محمد ﷺ کے پاس اور منافق جو جھوٹا تھا اُس نے کہاکہ چل کعب بن اشرف کے پاس جو یہودیوں میں عالم اور سردار تھا۔ آخر وہ دونوں آپﷺ کی خدمت میں جھگڑا لے کر آئے تو آپﷺ نے یہودی کا حق ثابت فرمایا۔ منافق جو باہر نکلا تو کہنے لگا کہ اچھا حضرت عمر ؓ کے پاس چلو۔ جو وہ فیصلہ کر دیں وہی منظور، اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا۔ غالباً یہ سمجھا ہو گا کہ میں مدعی اسلام ہوں، اس لیے یہودی کے مقابلہ میں میری رعایت کریں گے اور حضرت عمرؓآپؐ کے حکم سے مدینہ میں جھگڑے فیصل کیا کرتے تھے۔ چنانچہ وہ دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے۔ جب حضرت عمرؓنے یہ جھگڑا سنا اور یہودی کے بیان سے اُن کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ قضیہ آپﷺ کی خدمت میں جا چکا ہے اور آپﷺ اس معاملہ میں یہودی کو سچا اور غالب کر چکے ہیں تو حضرت عمرؓنے اُس منافق کو قتل کر دیا۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں