09:05 am
اک تھوڑااورانتظار!

اک تھوڑااورانتظار!

09:05 am

(گزشتہ سےپیوستہ)

چندبرس قبل مجاہدین کی مسلح جدوجہد کو یہ کہہ کردھوکہ دے کرروک دیاگیاتھاکہ پورے مقبوضہ کشمیرمیں عوام کی سیاسی تحریک کو غلبہ حاصل ہوگیاہے اور عالمی طاقتیں درپردہ سرگرم ہوگئی ہیں ۔اب ایک مرتبہ پھربھارتی استعمارنے گھبراکربرطانیہ اورامریکہ کواپنی مدد کیلئے بلایا ہے کہ وہ کسی طرح اس تحریک کو سردکرنے میں ان کا ہاتھ بٹائیں۔سناہے کہ ان دونوں ملکوں کے سفیرحریت کانفرنس کے قائدین سے ملاقات کرکے ان کوبھارتی حکومت کے ساتھ بات چیت پر آمادہ کرنے کیلئے جلدہی کشمیرروانہ ہورہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے حریت کانفرنس کے قائدین کوبھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پربٹھا کربات چیت میں الجھا دیا جائے اوراسی دوران کشمیری عوامی تحریک کا ’’ٹیمپو‘‘ ختم کرکے اس تحریک کو ناکام بنا دیا جائے تاکہ بھارت کو ایک دفعہ پھر تازہ دم ہوکر کشمیر پر اپنا جبری قبضہ مزیدمضبوط کرنے کا موقع مل جائے اورکشمیریوں کوایک دفعہ پھر آزادی سے کوسوں دورکر دیا جائے‘‘!
ایک اطلاع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی فرقہ واریت کوہوادینے کیلئے پچھلے دنوں سکھوں اورکشمیری مسلمانوں کوآپس میں لڑانے کی ناکام کوشش بھی کر چکی ہے جس کوبروقت کشمیری اورسکھ برادری نے ناکام بنادیا ہے۔یاد رہے چندسال پہلے چھتی سنگھ پورہ کاواقعہ ابھی تک لوگوں کویاد ہے جس میںــ’’را‘‘نے چالیس سے زائدسکھوں کوبھارتی فورسز کے ہاتھوں مروا کر ان کاالزام کشمیری مجاہدین کے سرپرتھوپ دیا تھا، بعد میں بھارت کی اپنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی تفصیلی پورٹ میں بھارتی’’را‘‘کی اس سازش کابھانڈہ پھوڑدیاتھا۔
قیامِ پاکستان کے وقت بھی چانکیہ سیاست نے ایسے ہی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے سب سے پہلے اکا دکاخنجرزنی کے واقعات سے فسادات کی بنیاد رکھی،اس کے بعد وسیع پیمانے پر بلوئوں کااہتمام کیاگیاجس میں دس لاکھ سے زائد مسلمانوں کوشہید کردیا گیااورآخرمیں مسلمانوں کی املاک کونذرِ آتش کردیا گیا لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔اب چانکیہ کے پیروکاراسی عمل کوکشمیرمیں دہرارہے ہیں۔شائد یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے اہم لیڈرمرلی منوہرجوشی کایہ کہنابڑامعنی خیز تھاکہ ’’کشمیرمیں سرمایہ کاری مت کرو‘‘ انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرمیں94ہزار کروڑ روپے جھونک دیئے گئے ہیں جومجموعی آبادی کامحض ایک یادوفیصدہے،اس طرح دوفیصد آبادی ہماراچودہ فیصد بجٹ کھاجاتی ہے۔ کچھ ایسے ہی خیالات کااظہارراجیہ سبھامیں اپوزیشن لیڈرارون جیٹلی کی طرف سے بھی سامنے آیا ہے ’’کشمیرپالیسی نہروکی غلطی سے پیداہوئی ہے، جو رقومات کشمیرمیں فورسزپراس وقت خرچ کی جارہی ہیں،وہ ان کسانوں کی فلاح وبہبود پرخرچ کی جاتیں جواس وقت بھوک سے مررہے ہیں۔ حقیقت تویہ ہے کہ آزادی کے بعدسے کشمیرکی صورتحال پہلی باراتنی خراب ہوئی ہے‘‘۔
بی جے پی کے دو اہم رہنماں کی طرف سے کشمیرکوایک معاشی بوجھ سمجھنے میں کیاپیغام مضمرہے اس کافیصلہ توبہت جلدوقت کردے گا۔ تاریخ کا یہ عبرتناک عمل ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تومٹ جاتاہے۔کشمیریوں نے اپنے ایک لاکھ شہداسے زائدکی قربانیوں نے یہ ثابت کردیاہے کہ اگرروس اور امریکہ اپنی بے پناہ طاقت کے بل بوتے پرعراقیوں اور افغانیوں کونہ دباسکے توبھارت توان سے زیادہ طاقتورنہیں ہے۔ مجھ سے ایک امریکی صحافی نے سوال کیا کہ’’آخر نہتے کشمیری اورکتنی دیر لڑتے رہیں گے؟‘‘۔ ’’بہتر ہوتا اگرتم یہ سوال بھارتی حکومت سے کرتے کہ وہ کتنی دیراورکشمیریوں سے لڑنے کی ہمت رکھتی ہے‘‘!میرے دل سے اٹھنے والی یہ آواز شائد کشمیریوں کے ترجمانی کرسکی یانہیں لیکن اس امریکی صحافی نے فوری اس بات کا اعتراف کیا کہ مظلوم کی طاقت کے سامنے کوئی نہیں ٹھہرسکا ،یہی تاریخ کا عبرتناک سبق ہے جو بالآخر ان ظالموں کا مقدر بنے گا۔
مودی اپنے اس مکروہ عمل سے کشمیرمیں آبادی کے تناسب کوتبدیل کرنے کیلئے تمام حربے آزمائے گا۔کیا ایک لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی اس بات کی روشن دلیل نہیں کہ جس رب نے ہرانسان کوآزادپیداکیاہے،وہ ہرحال میں حریت کیلئے اپنی جاں تک قربان کردینے کاعزم رکھتاہے۔اگرسروں کی گنتی مقصودہے توپھران مجبورومقہوربے گناہ سرفروشوں کی تعداد بھی سامنے آنی چاہئے جوکشمیر کی آزادی کیلئے قلم کردیئے گئے۔ان اجتماعی قبروں میں دفن گمنام شہدا کا بھی حساب ہوناچاہئے جن کی مائیں ابھی تک نوحہ کناں ہیں،جن کے معصوم بچے اپنے والدین کی صورت دیکھنے کوترس رہے ہیں،ان معصوم جوان بچیوں کا بھی حساب ترتیب دینا ہوگا جن کی عصمت دری کرکے اپنے قبیح جرائم کے ثبوت مٹانے کیلئے ان کوشہیدکردیا گیا۔
کشمیر میں جوکچھ ہوا،اورابھی تک ہو رہا ہے، سب نے کھلی آنکھوں سے دیکھا۔د و ہفتے کرفیوکی آڑمیں میں دودرجن سے زائد نوجوانوں کوبیدردی کے ساتھ شہید کردیا گیا، ان کی چیخیں،ان کا پاک لہورہنے دیجئے لہواپناراستہ خود بناتا ہے۔وہ پکارتاہے،پکارے گا۔امریکہ وبرطانیہ کب تک زبانی جمع خرچ سے کام چلائیں گے،اسے رہنے دیجئے۔ دیکھتے رہئے یہ لہوکیسے پکارے گا۔ ضرور پکارے گا،چاہے زبانِ خنجر لب سی لے۔ان طاقتوں کے حواری مسلمان حکمرانوں میں تو تھوڑی سی بھی شرم،تھوڑی سی بھی حیاباقی نہیں رہی کہ بے گناہ کشمیریوں پرجومظالم ڈھائے جارہے ہیں، حج خطبہ میں ان کیلئے دعاہی کرسکیں یااس پر کوئی احتجاج کرسکیں،شائد ان کو اپنے اقتدارکاسنگھاسن ڈولتاہوانظرآنے لگتاہے،کوئی نہیں پوچھتایارو۔ میرے رب کی ہیبت وجلال کی قسم،وہ خودپوچھے گا، ضرورحساب لے گا۔میں اورآپ کس گنتی میں ہیں!عاجزاورناکارہ۔
 اپنے اقتدار کوبچانے کیلئے یہ بزدل حکمران اوران جیسے سارے’’حربی اور بہادر‘‘ میرے رب سے کیسے لڑیں گے؟یہ میرے رب کوروشن خیالی اورماڈریٹ ہونے پرکیسے قائل کرلیں گے؟آپ میرے رب ذوالجلا ل کا سامنا کرسکتے ہیں؟رہنے دیجئے اپنی دانش وبیش کوبات لمبی ہوجائے گی۔ یہ توچھوٹے چھوٹے سے بونے امریکن آتے ہیں ان کوقائل نہ کرسکے۔ جی ہاں یہ خودغرض انسان،اسی طرح الجھارہتاہے خود فریب انسان،جی جناب اسی طرح۔
بالکل یہی سمجھتاہے کہ جس طرح وہ موت کوبھولاہواہے،موت بھی اسے بھول چکی ہوگی لیکن آتی ہے وہ،ہزارپہرے بیٹھادیجئے،دیواریں چنوالیجئے،کیمرے لگالیجئے۔وہ نہیں رکتی۔ آتی ہے اورسرعام آتی ہے۔کوئی نہیں بچ سکااس سے اورہاں ہم سب اپنے رب کے حضورپیش کیے جائیں گے۔ضرورپیش کیے جائیں گے ۔آپ سمجھ بیٹھے ہیں یہ محفل سدا سجائیں رہیں گے۔واہ،واہ، آفرین آفرین کرنے والے درباری یونہی داددیتے رہیں گے۔ نہیں،بالکل بھی نہیں۔سب کچھ ختم ہوجائے گالیکن کشمیریوں کی منزل بہت قریب ہے ،جی ہاں یہ ایسی حقیقت ہے جیسے سورج مشرق سے نکل کرمغرب میں غروب ہوجاتاہے۔کشمیرکی آزادی کوکوئی نہیں روک سکتااوربھارتی ناجائز قبضہ بہت جلدغروب ہونے کوہے۔ بس اک تھوڑااورانتظار........ منزل بہت قریب ہے!

تازہ ترین خبریں