09:06 am
کشمیر کے آنسو، ٹرمپ، مودی کے قہقہے

کشمیر کے آنسو، ٹرمپ، مودی کے قہقہے

09:06 am

مظلوم کشمیریوں کے خون کے آنسوئوں کو ٹرمپ اور مودی نے قہقہوں میں اڑا دیا، ان قہقہوں کو چیخوں میں بدلنے کے لئے کسی اسامہ بن لادن اور مولانا محمد مسعود ازہر کی ضرورت ہے… اسامہ تو شہادت کا تاج سر پر سجائے اللہ کے حضور جاپہنچے،مسعود ازہر نجانے کہاں ہیں؟
 
کوئی مت سمجھے کہ میں ’’جذباتی‘‘ ہوں؟ یقین مان لیں میں جذباتی نہیں ہوں، لیکن گزشتہ رات وزیراعظم عمران خان کی تقریر جس نے بھی سنی اس نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ صرف کشمیری ہی نہیں بلکہ پاکستان بھی کشمیر کا مسئلہ دنیا کو باور کرانے میں ناکام ہونے کے بعد اب اپنے آپ کو تنہا تنہا محسوس کررہا ہے۔
اگر اسلامی ممالک کشمیر کے مسئلے پر ہمارا ساتھ نہیں دے رہے تو کیا ہم اسی طرح کشمیریوں کا قتل عام ہوتا دیکھتے رہیں گے؟ آج24 واں دن ہے کشمیر میںکرفیو لگے ہوئے، لوگوں کو اشیاء خوردونوش میں انتہائی قلت کا سامنا ہے، یہ ایک دو چار لوگوں کی بات نہیں بلکہ سوا کروڑ کے لگ بھگ معصوم بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے۔
کشمیری سرینگر میں مرتے رہیں اور ہم کراچی، اسلام آباد یا مظفر آباد کی سڑکوں پر مظاہرے کرتے رہیں، کشمیریوں کو بھارتی فوج کے درند ے نوچتے رہیں اور ہم کشمیر کے مسئلے پر آخری حد تک جانے کے دعوے کرتے رہیں … کیا اس طرح کشمیر آزاد ہو جائے گا؟ میں نہیں کہتا کہ بھارت سے جنگ کرو، کہیں اسلام آباد میں موجود بھارتی لابی مجھ پر شدت پسند ہونے کا ہی الزام لگاڈالے۔ نہ جنگ کرو، نہ جہاد و قتال کرو لیکن اتنا تو کرو کہ ’’امام المجتہدین‘‘ حضرت قبلہ جاوید غامدی کی زیرقیادت جہاد مخالف دانش وروں، وزیروں اور سیاست دانوں کا ایک پانچ سو رکنی وفد دہلی نریندر مودی کی خدمت میں روانہ کرو کہ جو وہاں جاکر مودی بدمعاش کو سمجھا سکے کہ ’’ہم نے تو تمہارے بھارت کو محفوظ بنانے کے لئے جہاد کشمیر کے جہاد ہونے کا ہی انکار کر دیا تھا، ہم تو ٹی وی سکرینوں پر بیٹھ کر کشمیری جہادیوں کو دہشت گرد کہا کرتے تھے، ہم نے تو امن کی آشا کے نام پر بھارتی پرچم کے سپیشل پیج چھاپ کر انہیں ہر پاکستانی کے گھر تک پہنچانے کی کوشش کی تھی، ہمارے اجتہاد، ہماری گفتگو، ہماری تقریروں، بحث ، مباحثوں کا سارا نچوڑ جہاد دشمنی پر مبنی ہوتا تھا۔
جب ہماری کوششوں اور عالمی دبائو کے تحت کشمیری مجاہدین پابندیوں کی زد میں آئے تو آپ نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد کے پہاڑ گرانا شروع کر دیئے، مودی جی ، بس کرو بس، ہماری محنت پر پانی مت پھیرو، ممکن ہے کہ نریندر مودی جہاد مخالف دانشوروں کے وفد کی ہی بات مان کر کشمیریوں پر ظلم و ستم بند کر دے، لیکن اگر پھر بھی کشمیریوں پر ظلم و ستم بند نہیں ہوتا تو حضرت ’’قبلہ‘‘ جاوید غامدی سے فتویٰ طلب کیا جائے کہ اس کے بعد آخر کون سا طریقہ اختیار کیا جائے کہ جس سے کشمیریوں کو بھارتی غلامی سے آزادی حاصل ہوسکے؟
یہ جنگ ہے جنگ آزادی اور آزادی کبھی بھیک مانگنے اور دنیا کو پکارنے سے حاصل نہیں ہوا کرتی، یہ جنگ ہے، جنگ آزادی اور آزادی حاصل کرنے کے لئے میدانوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
اب مجھے غامدی دستر خوان کا کوئی راتب خور یہ سمجھانا شروع نہ کر دے کہ یہ زمانہ میدانوں کا نہیں ٹیکنالوجی کا ہے ، میں جانتا ہوں کہ یہ دور ٹیکنالوجی کا ہے اسی لئے یہ خاکسار عرض کرچکا ہے کہ مودی کو راضی کرنے کے لئے غامدی وفد کو دہلی بھجوایا جائے، رہ گئی بات ٹیکنالوجی کی تو وزیراعظم عمرن خان خود تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے، بھارت اگر بدمعاشی، غنڈہ گردی اور دہشت گردی پر اترا ہوا ہے، کشمیری مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلنے سے وہ باز نہیں آرہا تو کیا ایٹم بم ہم نے چاٹنے کے لئے بنایا تھا؟
سنا تو یہ تھا کہ ٹیکنالوجی سے ملکوں کے دفاع کا کام لیا جاتا ہے، کشمیر میں پاکستانی روز شہید ہو رہے ہیں ، جی ہاں سرینگر میں شہادتوں کے تاج پہننے والے ’’پاکستانی‘‘ ہیں، سید علی گیلانی پاکستانی ہے، یاسین ملک پاکستانی ہے، کشمیر کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں پاکستانی ہیں، اگر اپنے شہیدوں کی میتوں کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر دفن کرنے والے بھی پاکستانی نہیں ہیں،پاکستانی پرچم کو لہراتے ہوئے گولیوں سے چھلنی ہونے والے بھی اگر پاکستانی نہیں ہیں تو پھر پاکستانیت کس کا نام ہے؟
اگر کشمیر میں لاکھوں پاکستانیوں کی جانیں بچانے کے لئے ہم ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے سے ڈرتے رہے تو لوگ سوال تو اٹھائیں گے کہ اس ٹیکنالوجی کا کیا فائدہ کہ جو پاکستانیوں کی حفاظت کے ہی کام نہ آسکے، کشمیر آزادی کے حصول کے لئے تڑپ رہا ہے، ہمیں ہر قیمت پر کشمیر میں بسنے والے پاکستانیوں کو غلامی سے نکلنے کیلئے مدد فراہم کرنی ہے۔(ان شاء اللہ)

تازہ ترین خبریں