09:07 am
کراچی: تماش بینوں کے نرغے میں ٭کراچی: خرافات پہ خرافات! کچرے کے ڈھیر اسی طرح پڑے رہ گئے! سندھ حکومت سوئی رہی، میئر وسائل کی کمی کا رونا روتا رہا

کراچی: تماش بینوں کے نرغے میں ٭کراچی: خرافات پہ خرافات! کچرے کے ڈھیر اسی طرح پڑے رہ گئے! سندھ حکومت سوئی رہی، میئر وسائل کی کمی کا رونا روتا رہا

09:07 am

٭وزیراعظم کی کشمیر بارے تقریر کے اپوزیشن کی مذمت، بھارتی میڈیا کی لیڈ سٹوری بن گئیO نریندر مودی اور ٹرمپ کے قہقہےO بھارتی جج 40 کروڑ روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتارO فرانس:-7 سی کانفرنس کا اعلامیہ جاری نہ ہو سکاO دو سو سائیکلوں پر باراتO فضل الرحمان، آج اے پی سی اجلاس، منسوخO سمندری طوفان کو بم مار کر روکا جا سکتا ہے:ٹرمپ۔
 
٭وزیراعظم عمران خان نے قوم کے نام خطاب میں اعلان کیا کہ ’’دنیا ساتھ دے نہ دے، ہم کشمیر کے ساتھ ہیں، فوج تیار ہے، ہر حد تک جائیں گے، بھارت نے آخری حربہ اختیار کر لیا، اب جو کریں گے، ہم کریں گے!‘‘ وزیراعظم کے اس بیان کا سیاسی خاص طور پر کشمیری حلقوں نے پُرجوش خیر مقدم کیا مگر اپوزیشن نے اس تقریر کو بزدلانہ، عاجزانہ اور بے اثر کہہ کر مسترد کر دیا۔ اپوزیشن کے ان ریمارکس کو بھارتی میڈیا شہ سرخیوں کے ساتھ چھاپ رہا اور نشر کر رہا ہے۔ اپوزیشن، خاص طور پر ن لیگ کے کچھ قائدین کے ریمارکس انہی کے الفاظ میں پڑھئے:۔ ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کے الفاظ ’’یہ ایک ناکام، نااہل، بے بس اور لاچار شخص کا خطاب تھا، پاکستانی توپہلے ہی کشمیریوں کے ساتھ ہیں، انہیں گرمانے کا کیا فائدہ؟ وزیراعظم کے پاس عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا کوئی نقشہ ہی نہیں‘‘ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری کا تبصرہ۔ ’’وزیراعظم نے کشمیری مائوں بہنوں کے لئے کسی عملی اقدام کا اعلان نہیں کیا، ناتجربہ کار اور غیر ذمہ دار حکومتی دور میں خارجہ محاذ پر پاکستان کی پالیسی کمزور ہے۔‘‘ ن لیگ کی مریم اورنگزیب کا سوال ’’…وزیراعظم صاحب! آپ کے بچے کہاں ہیں؟ آپ سے کام نہیں ہو رہا تو قوم کو بتا دیں…جے یو آئی کے اکرم درانی‘‘ ’’حکومت خطرناک ہے، ایک دو ماہ میں بڑے فیصلے ہونے والے ہیں…‘‘
٭جیسا پہلے کہا گیا ہے، اپوزیشن کے یہ الفاظ اور ریمارکس بھارتی میڈیا میں بڑے طنزیہ انداز میں نمایاں دکھائے جا رہے ہیں۔ ان باتوں کا عمران خان یا ان کے اردگرد جمع بہت سے ’وزرائے خارجہ‘ جو بھی جواب دیں، تاہم اپوزیشن کی ایک ’بات‘ کا عام جواب یوں بن سکتا ہے۔ پوچھا گیا ہے کہ وزیراعظم کے بچے کہاں ہیں؟ جواب ہو سکتا ہے کہ وہیں جہاں نوازشریف، اسحاق ڈار اور جنرل پرویز مشرف کے بچے رہ رہے ہیں۔ ویسے جہانگیر ترین کے بچے بھی کہاں ہیں؟ ان باتوں کو چھوڑتا ہوں۔ دوسری باتیں۔
٭فرانس کی جی7- کانفرنس میں نریندر مودی نے انگریزی بولی۔ ٹرمپ کی ہنسی چھوٹ گئی۔ دونوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور ہنسنے لگے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مودی بہت اچھی انگریزی بولتے ہیں، اخبار نویس ان سے ضرور بات کریں‘‘ انگریزی بولنے کا معاملہ بھی عجیب ہے! پنجاب کے ایک سابق وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں صرف میٹرک پاس تھے۔ انہوں نے ایک بار راولپنڈی میں نالہ لئی کے پل کی تقریب میں انگریزی کا ایک جملہ بولا، اخبارات نے نمایاں خبریں شائع کی کہ ’’وائیں صاحب نے انگریزی بولی‘‘ قومی اسمبلی کے ایک رکن نے برطانیہ کے ایک سفارت کار سے انگریزی میں بات کی۔ سفارت کار نے کہا کہ مجھے اُردو نہیں آتی، آپ انگریزی میں بات کریں۔اس نے کہا میں انگریزی ہی بول رہا ہوں!
٭اسلام آباد میں صحافیوں نے کشمیر کے مسئلہ پر ڈی چوک تک مشعل بردار ریلی نکالی۔ اس کالم کی تحریر کے بعد ایک ادبی تنظیم ’جگنو‘ کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب کے باہر ادیبوں شاعروں کا احتجاجی مظاہرہ ہونے والا تھا۔ گزشتہ روز اس کالم میں بتایا گیا تھا کہ لاہور سے ادیبوں شاعروں کی کنٹرول لائن تک ریلی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ نامور سفر نامہ نگار، ناول نگار، سلمیٰ اعوان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ادیبوں شاعروں کی ریلی کا انتظام کر رہی ہیں۔ اس کے انتظامات طے کئے جا رہے ہیں۔ مختلف شہروں سے بھی ایسی اطلاعات آ رہی ہیں۔ ہیرو کرکٹر جاوید میاں داد نے بھی کنٹرول لائن پر مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ وہ بیرونی کرکٹروں سے بھی رابطے کر رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم کے زیرحراست پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے کیمپ جیل لاہور سے اخبارات کو کشمیر کی حالت زار کے بارے میں ایک دلگداز نظم بھیجی ہے، اس کے ابتدائی بول ہیں، ’’سنو مودی! میرے کشمیر نے آزاد ہونا ہے…تمہیں برباد ہونا ہے… تم اس تاریخ میں ایک ویسٹ پیپر (ردی کاغذ) سے زیادہ … کچھ نہیں تھے…کچھ نہیں ہو، کچھ نہیں ہوں گے!…‘‘
٭گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے جھنگ روڈ کے کیمپس کے باہر متعدد بورڈ نصب کئے گئے ہیں ان پر علامہ اقبال کی تصویر کے ساتھ ان کے شعر بھی لکھے گئے ہیں۔ ستم یہ کہ ایک شعر کے سوا باقی کوئی بھی شعر بھی علامہ اقبال کا نہیں۔ کسی شخص نے کسی معمولی شاعر کے انتہائی بے وزن، بے بحر اور پست قسم کے عامیانہ شعر لکھوائے ہیں۔ اس پر فیصل آباد کے شہریوں نے سخت غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ مزید ستم یہ ہے کہ ہربورڈ کے نیچے یونیورسٹی کے رجسٹرار کا عہدہ درج ہے۔ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہوں۔ ملک کے عظیم قومی رہبر کا اس پست انداز سے تمسخر اڑایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کیمپس کے شعبہ اُردو کا چیئرمین اقبالیات کا پروفیسر ہے! استغفار! یہ بورڈ کئی روز لگے رہے۔ اس پروفیسر کو، یونیورسٹی کے رجسٹرار کو دکھائی نہ دیئے۔ یہ حرکت سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے، ان لوگوں سے اس حرکت کی سخت جواب دہی ضروری ہے۔
٭اور دوسری بات! نادرا سے ایک شخص رحمان خاں کو شناختی کارڈ 21201-2376783-7 جاری ہوا۔ میرے پاس اس کی تصویر آئی ہے۔ اس پر رحمان خاں کی تاریخ پیدائش 31-13-3019 چھپی ہوئی ہے یعنی یہ کسی ایسے رحمان خاں کا کارڈ کا کارڈ ہے جسے 100 سال بعدہی سال کے کسی 13 ویں مہینے میں پیدا ہونا ہے!! ظاہر ہے یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے۔ نادرا کی انتہائی نااہلی، غفلت، لاپروائی اور جہالت کا واضح ثبوت! ظاہر ہے کہ اس کارڈ کے غلط سلط اندراجات کو کسی سطح پر چیک نہیں کیا گیا۔ کارڈ کی تصدیق کرنے والے رجسٹرار جنرل کا نام نمایاں ہے! یہ معمولی نہیں، فاش غلطی ہے۔ اب رحمان خاں کو کسی ہرجانہ کی ادائیگی کی بجائے نئی فیس کے ساتھ نئے سرے سے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑے گا، اسے اذیت دینے والے کسی کلرک، رجسٹرار جنرل کا کوئی محاسبہ نہیں ہو گا! کیسے کیسے نااہل لوگ اور کیا کیا عہدے!
حیدرآباد، بھارت: ایک سپیشل جج راما رائو ایک زیرحراست بڑے صنعت کاربھنندرجان کو ضمانت منظور کرنے کے لئے 40 کروڑ روپے کی رشوت وصول کرتا ہوا پکڑا گیا۔ ہمارے ہاں ایک جج ارشد ملک کو صرف 10 کروڑ پیش کئے گئے تھے!

تازہ ترین خبریں