07:38 am
منافقانہ روئیے ۔ سورۃ نساء کی روشنی میں

منافقانہ روئیے ۔ سورۃ نساء کی روشنی میں

07:38 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

 اور فرمایا کہ جو کوئی ایسے قاضی کے فیصلہ کو نہ مانے اُس کا فیصلہ یہی ہے ۔ اُس کے وارث حضرت محمدﷺ کی خدمت میں آئے اور حضرت عمرh پر قتل کا دعویٰ کیا اور قسمیں کھانے لگے کہ حضرت عمرؓکے پاس تو صرف اس وجہ سے گئے تھے کہ شاید وہ اس معاملہ میں باہم صلح کرا دیں۔ یہ وجہ نہ تھی کہ حضرت محمدﷺ کے فیصلہ سے انکار تھا۔ اُس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ان آیات میں اصل حقیقت ظاہر کر دی گئی اور آپؐ نے حضرت عمرؓکا لقب فاروق فرمایا۔
آگے فرمایا:’’تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ ہمارا مقصود توبھلائی اور موافقت تھا۔‘‘(النساء۔۶۲)
یعنی یہ لوگ منافقا نہ طرز عمل اپناتے ہیں، مگر اُس وقت یہ کہا کریں گے جب انہیں اُن کے کرتوتوں کی سزا ملے گے۔ فصل خصومات میں آنے سے تو یہ چوکے، مگر جب حضرت عمرؓنے ایسا کرنے والے منافق کا سر قلم کر دیا تو اُس وقت رسولﷺ کی خدمت میں قسمیں کھاتے ہوئے آگئے کہ ہم حضرت عمرؓکی خدمت میں صرف اس لئے گئے تھے شاید صلح کرا لیں۔ 
’’ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ تم ان (کی باتوں) کو کچھ خیال نہ کرو اور انہیں نصیحت کرو اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں میں اثر کر جائیں۔‘‘(النساء۔۶۳)
ا للہ تعالیٰ نے یہاں اُن کی قسم اور معذرت کی تکذیب فرمائی کہ منافقین جو بھی زبانی باتیں بنائیں اللہ اُن کے دل سے خوب آگاہ ہے۔ یہ لوگ اسلام اور ایمان کے تقاضوں کو نہیں سمجھ رہے۔ یہ مقامِ محمد کو نہیں سمجھ رہے۔ انہیں احساس نہیں ہے کہ حضور ﷺ کی عدالت کے فیصلے کو نہ تسلیم کرنااللہ کے نزدیک کس قدر بُرا ہے اور اس کی کیا سزا ہے۔ آپ انہیں اس طور سے سمجھائیے کہ یہ بات سمجھ لیں اور اپنا رویہ بدل لیں ۔ آگے فرمایا: ’’اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ اللہ کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے۔‘‘
رسول اس لئے بھیجا جاتا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے ۔ رسول جو بات بھی کہتے ہیں وہ حق ہوتی ہے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔لہٰذا اُن کی اطاعت لازم ہے۔
’’اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور اللہ سے بخشش مانگتے اور رسول (اللہ) بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتے تو اللہ کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے‘‘(النساء۔۶۴)
اگر ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا ہے کہ رسول کے حکم سے جو اللہ کا حکم تھا،ہٹے،کہ جب رسول اللہ ﷺ کی عدالت سے مرضی کا فیصلہ ہوا تو اُس کو نہ مانا اور اپنا فیصلہ حضرت عمرؓ کے پاس لے گئے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس غلط روش پر تائب ہوتے اور اُس شخص کی حمایت میں جھوٹی قسمیں نہ کھاتے جس نے مقام محمدﷺ پہچانا ہی نہیں، رسول خدا بھی اُن کے لئے استغفار فرماتے مگر انہوں نے جھوٹے بہانے بنائے، جھوٹی قسمیں کھا ئیں اور تاویلیں گھڑنے لگے، اُن کی مغفرت ہو تو کیونکر ہو ۔ آگے فرمایا: ’’تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔‘‘ (النساء۔۶۵)
یہ قرآن حکیم کا بڑا منفرد مقام ہے کہ اللہ اپنی قسم کھا کر فرما رہا ہے یہ لوگ ہر گز صاحب ایمان نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ اپنے باہمی تمام معاملات میں آخری اتھارٹی آپﷺ کو نہ مانیں۔ یہ ہے مقام محمد رسول اللہ ﷺ کا۔ اس سے آگے کے الفاظ بہت ہی غیر معمولی ہیں۔نہ صرف یہ آپﷺ سے فیصلہ کروائیں بلکہ یہ بھی لازم ہے کہ آپؐ کے فیصلے پر ان کے دل میں کوئی تنگی بھی نہ ہو۔ اگر دل میں ذرہ بھی تنگی آئی تو یہ ایمان کی نفی ہے۔ ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں ہیں۔ آپؐ کا فیصلہ مان کر اُس کے حوالے سے دل میں تنگی اور گھٹن کا آ جانا بھی ایمان کے یکسر منافی ہے۔ منافقین کا بہت بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اطاعت رسولﷺ سے گریزاں تھے۔ اس بات کو قرآن حکیم نے بہت زیادہ نمایاں کیا ہے، تاکہ ہر دور کے مسلمان اس روش کو پہچانیں اور اس کی روشنی میں اپنا محاسبہ کریں اور دیکھیں کہ کہیں ہمارا طرز عمل تو اس انداز کا نہیں ہے۔سورۃ النساء میں ہی آگے چل کر اطاعت رسولﷺ کے معاملے کو ایک اور انداز سے موکد کیا گیا۔ فرمایا ’’جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے تحقیق اُس نے اللہ کی فرمانبرداری کی۔‘‘ (النساء۔۸۰) 

تازہ ترین خبریں