07:39 am
ہندو مت کی تشکیل 

ہندو مت کی تشکیل 

07:39 am

گزشتہ سےپیوستہ)

مزید یہ کہ یورپ میں روشن خیالی کی تحریک نے یورپیوں کے جہاں بینی کے تصورت کو یکسر تبدیل کردیا۔ انہوں نے یہ تسلیم کرنا شروع کردیا کہ تمام انسانوں کی اصل ایک ہے اور سبھی کی ابتدا بربریت تھی اور سبھی تہذیب کا سفر کررہے ہیں۔ ابتدائی چند یورپی اور برطانوی اس نتیجے پر پہنچے کہ ہندوستانیوں کی طرح بہت سی اقوام ترقی کے اس سفر میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ دنیا کو دیکھنے کے اس نئے تناظر نے علمِ بشریات(اینتھروپولوجی) کو جنم دیا جس میں مختلف اقوام کی تہذیب کے سفر میں صورت حال کا جائزہ لیا جانے لگا۔ اس شعبہ علم کے تحت اقوام اور معاشروں کی زمرہ بندی کی گئی۔ بہت سے برطانوی افسران نے مشغلے کے طور پر یہ علم سیکھا اور ہندوستانی سماج اور رسومات کی زمرہ بندی کی۔ ظاہر ہے کہ یہ زمرہ بندی یورپی طریقے پر کی گئی تھی۔ انہوں نے ’’مذہب‘‘ کو ایک طرز حیات کے بجائے ، ہندوستان میں بھی مذہب کو مسیحیت کی طرح اکائی تصور کیا۔ یورپ میں وہ اسلام سے معاملہ کرچکے تھے اور اس کے لیے بغض بھی رکھتے تھے۔ اب انہوں نے اسلام کے علاوہ دیگر مذہبی رسومات کی زمرہ بندی بطور الگ مذہب کے کرنا شروع کردی۔ 
انگریز اسکالرز کے ترجموں سے پہلے اٹھارہویں صدی تک صرف اونچی ذات کے مٹھی بھر ہندوستانی ہی بھگوت گیتا کے بارے میں جانتے تھے۔ انگریز اسکالروں نے اسے ہندو مت کی مقدس کتاب کے طور پر پیش کیا۔ سہولت کے ساتھ بھانت بھانت کے عقائد و رسومات کو ایک زمرے میں رکھنے کی خاطر انگریزوں کو بائبل سے موازنہ کرنے کے لیے کسی مذہبی کتاب کی تلاش تھی۔ لیکن تمام مذہبی کتب سنسکرت میں تھیں اور وہ یہ زبان جانتے نہیں تھے۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ اونچی ذات کے برہمنوں نے پہلے ان مذہبی متون کا سنسکرت سے فارسی میں ترجمہ کیا جس کے بعد مستشرقین نے انھیں انگریزی روپ دیا۔ اس کے نتیجے میں ایسا انقلاب برپا ہوا جس کا موازنہ بائبل کے لاطینی سے مقامی زبانوں میں ترجمے کے اثرات سے کیا جاسکتا ہے۔ جو مذہبی کتب اور متون رسائی سے باہر تھے وہ انگریزی جاننے والے ہر فرد کی پہنچ میں آگئے۔ انگریزوں نے جدید علم سکھانے کے لیے ہندوستانی روایات کا چونچال کرنے کے بجائے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا۔ انیسویں صدی کے وسط سے انگریزوں نے تعلیمی ادارے قائم کرنا شروع کیے جن کے بارے میں 1835میں تھامس بی میکالے نے کہا تھا’’(ان اداروں کے قیام سے) ہم ایسا طبقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے اور ہمارے محکوم لاکھوں افراد کے درمیان ترجمانی کا کردار ادا کرے۔ یہ ایسے افراد پر مشتمل طبقہ ہوگا جو رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی لیکن اپنے ذوق، آراء، اقدار اور فکر کے اعتبار سے انگریز ہوں گے۔‘‘ اسی لیے انگریزی زبان اور یورپی انداز کی زمرہ بندی کی بنیاد پر انیسویں صدی میں ہندوستانی مذہب کی تشکیل میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی، جب ہندوستان پہلی بار مغرب اور قومیت سے متعلق اس کے عالم گیر نظریات سے متعارف ہوا تو اس کے نتیجے میں ہندوازم یا ہند مت کے تصور وجود میں آیا۔ اس کے فوری بعد نو ایجاد ’’ہندوازم‘‘ میں اصلاحات اور اس کی عظمت رفتہ کی بازیافت کی تحریک نے زور پکڑنا شروع کیا۔ برطانوی مطلق العنانیت اور مسیحی مشنریوں نے اس تحریک کو مزید بڑھاوا دیا۔ 
مردم شماری نے بھی ہندوازم ، دیگر مذاہب ، ذات پات اور سماجی حیثیتوں کی زمرہ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ مردم شماری میں ایک نظام کے تحت آبادی سے متعلق معلومات جمع کی جاتی ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر تک برطانوی اندازہ کرچکے تھے کہ اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے انہیں اپنے محکوموں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا ہوں گی۔ یورپ کے اس عددی تناظر نے اکثریت کی حکمرانی کے تصور کو جنم دیا۔ 1872میں پہلی نامکمل اور 1881میں پہلی مکمل مردم شماری ہوئی جس میں مذہبی اعتبار سے ہندو اور مسلمانوں کا شمار کیا گیا۔ 1941میں ہونے والی مردم شماری تک ہندوازم کا تصور ایک مذہب کے طور پر جڑیں مضبوط کرچکا تھا اور اس کے بعد ہندوستان آزاد ہوگیا۔ 
(یہ کالم سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اکرام سہگل اور برلن کی ہمبلوٹ یونیورسٹی کے شعبہ برائے جنوبی ایشیا کی سابق سربراہ بیٹینا روبوٹکا کے اس موضوع پر لکھے گئے سلسلۂ مضامین کا پہلا حصہ ہے)

تازہ ترین خبریں