07:40 am
پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی؟

پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی؟

07:40 am

پی ٹی ایم یا پی ٹی آئی مخالفین کو گالیاں دینے‘ مخالفین پر الزام تراشیاں کرنے میں آپ پہلا نمبر کس کو دیں گے؟ اس کا سوال سن کر میں چونک اٹھا؟ دیکھیں ہم جیسے طالب علموں نے تو دونوں کا ہی ذائقہ چکھا ہے لیکن پی ٹی ایم کو اس لئے پہلا نمبر دینا چاہوں گا کیونکہ ’’دلیل‘‘ ان کے ہاں بالکل ہی مفقود ہے اور دوسرا یہ کہ پاکستانی فوج ان زبان درازوں کا ٹارگٹ ہے میں فوج کے سیاسی کردار کا سخت مخالف ہونے کے باوجود کبھی نہیں چاہوں گا کہ کوئی بھی پاکستانی جماعت یا گروہ پاکستانی فوج کے خلاف غیروں کا آلہ کار  بن کر فتنہ انگیزی بپا کرنے کی کوشش کرے۔
 
گزشتہ دنوں میرے ’’ناپاک جسارت‘ پی ٹی ایم اور سیکولر ازم‘‘ کے عنوان سے انہیں صفحات پر لکھے گئے کالم کے ردعمل میں پی ٹی ایم کے فتنہ بازوں نے جو منفی رویہ اختیار کیا وہ میرے لئے توحسب توقع تھا ہی‘ مگر سوشل میڈیا پرمتحرک  احباب نے مجھے فون کرکے کہا کہ ہاشمی صاحب! رائو انوار کی پھانسی کے مطالبے کی بنیاد پر بننے والی پی ٹی ایم کے لوگوں کا  رویہ دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے پی ٹی ایم ’’رائو انواروں‘‘ کا مجموعہ بن چکی ہو۔
اس خاکسار نے اپنے کالم میں قرآن مقدس کو فیس بک لائیو میں شہید کرنے والی ملعونہ فوزیہ احمد زئی کے حوالے سے مطالبہ کیا تھا کہ منظور پشتین اس ملعونہ سے اعلان برات کرے‘ کیونکہ ملعونہ کی منظور پشتین کے ساتھ تصویریں ہیں‘ مگر جواب میں ’’گالیاں‘‘
ارے بھائی اگر عزیر بلوچ کی تصویریں آصف زرداری یا قائم علی شاہ کے ساتھ ہوں تو میڈیا ان سے سوالات کرکے ان کی ناک میں دم کر سکتاہے تو یہ منظور پشتین کوئی آسمان سے اتری ہوئی خاص مخلوق ہے کہ جس سے ملعونہ فوزیہ احمد زئی‘ گلائی اسماعیل‘ ثناء اعجاز‘ گل بخاری‘ گستاخ وقاص گورایا کے حوالے سے سوال نہیں ہوسکتا؟ اسلام مخالف سرگرمیوں میں ملوث کوئی مرد یا عورت صرف پی ٹی ایم نہیں کسی بھی سیاسی یا مذہبی پلیٹ فارم پر نظر آئے گی یا کسی خاص گروہ کی  حمایت میں سرگرداں رہے گی تو ہم جیسے طالب علم سوال تو اٹھائیں گے؟
اگر پی ٹی ایم کا کوئی ’’رائو انوار‘‘ سوال اٹھانے کی وجہ سے گالیاں دے یا گولی مارنے کی دھمکیاں دیتا رہے اس کی مرضی‘ لیکن ہمارا کام ہے کہ عوام کے ہونٹوں پر آنے والے سوالات کو لفظوں میں ڈھال کر متعلقہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں‘ عوام پوچھتے ہیں کہ آج جب وطن عزیز انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے‘ سرحد کے اس پار مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے سوا کروڑ سے زائد ’’پاکستانیوں‘‘ کی زندگیاں ہندو شدت پسندوں کے ہاتھوں دائو پر لگی ہوئی ہیں‘ پاکستان اور بھارت میں ایٹمی جنگ چھڑنے کے خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں‘ ان خطرناک حالات میں پی ٹی ایم کے منظور پشتین سمیت دیگر قائدین کہاں کھڑے ہیں؟ کسی بھی بھارتی جارحیت کی صورت میں کیا وہ پاک فوج کے شانہ بشانہ بھارت کا  مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں؟
مجھے ذاتی طور پر پی ٹی ایم کی حب الوطنی پر ذرا برابر بھی شک نہیں ہے اور نہ ہی میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا قائل ہوں لیکن عوام تو سوال پوچھتے ہیں اگر اس سوال کا پی ٹی ایم کے قائدین پریس کانفرنس میں  جواب دیں گے تو ان کے مثبت جواب سے نریندر مودی کے منہ پر بھی پھٹکار پڑے گی‘ مولانا فضل الرحمن کے نام سے کون واقف نہیں ہے؟ ان کے موقف کی سخت گیری کو دیکھ کر بعض لوگ ان کے حوالے سے فوج مخالف ہونے کا تاثر پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات درست نہیں  ہے وہ ایک خاص پیرائے میں سیاسی کردار کے حوالے سے شکوے  شکایتیں تو ضرور رکھتے ہیں‘ مگر یہی مولانا فضل الرحمن ہیں کہ جنہوں نے ہفتہ یکجہتی پاک فوج منانے کا اعلان کیا تھا‘ یہی مولانا فضل الرحمن ہیں کہ دفاع وطن کے حوالے سے جو پاکستانی فوج کے کردار کے نہ صرف  معترف ہیں بلکہ انہیں ملکی سرحدات کا محافظ خیال کرتے ہیں‘ یہی مولانا فضل الرحمن ہیں کہ جو پاکستان کی سرحدات کے اندر اسلام کے نام پر بھی فوج یا دیگر فورسز کے خلاف لڑنا فساد قرار دیتے ہیں۔
پی ٹی ایم کے قائدین کو بھی چاہیے کہ اس نازک موقع پر دوسری محب وطن جماعتوں کی طرح ملکی سلامتی کے حوالے سے اپنا وزن پاکستانی فوج کے پلڑے میں ڈال دے۔میں جب پی ٹی ایم کا ذکر کرتا ہوں تو میرا مخاطب عام پختون نہیں ہوتے کیونکہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ کراچی سے لے کر وزیرستان تک کوئی پختون بھی پاکستان مخالف سوچ نہیں رکھتا بلکہ پختونوں کے ہاں ’’پی ٹی ایم‘‘ کا مقام بھی زیرو ہے بلکہ میرا اصل مخاطب پی ٹی ایم کی وہ قیادت ہے کہ جس نے بعض سادہ لوح پختون نوجوانوں کو پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈے پر لگا دیا تھا‘ اسلام اور پاکستان کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں پختونوں نے پیش کیں‘ جس پر پاکستان میں بسنے والے پختون بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

تازہ ترین خبریں