07:41 am
عقل وشعورسے عاری

عقل وشعورسے عاری

07:41 am

جب جنگل میں ایک شہنشاہ کے طورپرحکمرانی کرنے،اپنی زوردارگرج سے چارسو رتعاش پیدا کرنے اورچوکڑیاں بھرتے ہرنوں کاشکارکرنے والا شیربوڑھا ہوجاتاہے،فولادی میخوں جیسے اس کے لمبے نوکیلے دانت جھڑجاتے ہیں،اس کاپیٹ لٹک کرزمین کو چھونے لگتا ہے، پیلاہٹ اس کی بجھی بجھی سی آنکھوں کے گوشوں میں جم سی جاتی ہے۔اس کے پوپلے منہ سے بدبودارمادہ رال کی شکل میں بہنے لگتاہے‘اس کی اکڑی ہوئی دم پچھلی دونوں ٹانگوں کے درمیان دب کررہ جاتی ہے توایک دن وہ جنگل کے دلدلی حصے میں دھڑام سے گرجاتاہے۔وہ اپنے بیمار نڈھال بوڑھے جسم کی تمام ترتوانائیاں سمیٹ کراٹھنے کی کوشش کرتاہے لیکن ڈگمگاکررہ جاتاہے۔ اس کی گردن ایک طرف کولڑھک جاتی ہے اوروہ لاچارسا ہوکراپنے اعضا ڈھیلے چھوڑدیتاہے۔اس کی جان یکایک نہیں نکل جاتی بلکہ اسے جانکنی کی طویل اذیت سے گزرناپڑتاہے۔
 
ایسے میں اکثراسے بیتے ہوئے دن یادآتے ہیں ۔ جب وہ جوان،طراراورطرحدارتھا۔جب سارا جنگل اس کی دہشت سے تھراجاتاتھا ،جب وہ اپنی کچھارسے نکلتاتھاتوچرندوپرندپرکپکپی طاری ہوجاتی تھی۔ جب وہ زقندیں بھرتاہوااپنے شکارپرجھپٹتااور آن واحد میں اپنے دانت اس کی گردن میں گاڑدیتا تھا،جب اس کے تیزپنجے ہاتھی کی موٹی کھال کوبھی ادھیڑکررکھ دیتے تھے۔بوڑھا مریل جان بہ لب شیراپنی سوچوں میں مگن بصد مشکل اپنی آنکھیں کھولتاہے تواسے اپنے اردگرد چھوٹے چھوٹے ہرن،گیدڑ، لومڑیاں حتیٰ کہ خرگوش بھی حلقہ بنائے بیٹھے نظرآتے ہیں۔وہ سب ہنس رہے ہوتے ہیں ۔ٹھٹھہ مخول کررہے ہوتے ہیں۔کوئی چوہاکسی بل سے نکل کراس کی پیٹھ پرسوارہوجاتاہے اوررقص کرنے لگتاہے۔ شیراپنے دائیں اورپھربائیں پنجے کوحرکت میں لاکر چوہے کوپکڑناچاہتاہے لیکن فالج زدہ بازوحرکت میں نہیں آتے۔
 اس کے دل میں یہ احساس انگڑائی لیتاہے کہ میں شیرہوں،جنگل کابادشاہ ہوں،یہ سب میری رعایا ہیں۔ کیاہواجومیں بوڑھاہوگیا ہوں،کیاہوا جو میرے دانت جھڑگئے ہیں،کیا ہوا جومیں اپنے ہاتھ پائوں نہیں ہلاسکتا۔اب بھی بادشاہ ہوں۔اس احساس کے انگڑائی لیتے ہی وہ منہ کھول کرپوری طاقت سے گرجناچاہتاہے لیکن نہ جبڑاپوری طرح کھلتاہے،نہ پھیپھڑے پوری طرح پھولتے ہیں۔ گرج بلی کی میائوں بن کرحلق کے آس پاس تحلیل ہوجاتی ہے،یہاں تک کہ حشرات الارض اورچھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑے بھی نکل آتے اوربادشاہ سلامت کے جسدِ بیمارسے لپٹ جاتے ہیں۔ جاں بہ لب شیرنہ اپنے آپ کوکڑی دھوپ سے بچانے کیلئے کسی سایہ داردرخت کی پناہ لے سکتا ہے نہ تیزطوفانی بارش سے بچنے کیلئے کسی غارکارخ کر سکتاہے۔پھرعافیت کاوہ لمحہ آتاہے جب جنگل کے بادشاہ کی سانسیں تھم جاتی ہیں۔وہ مرجاتاہے۔ بھیڑیے،لگڑبھگڑ،گیدڑاورگدھ اس کی لاش نوچنے لگتے ہیں اورشام تک متعفن ہڈیوں کے ڈھیرکے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔
شیر،جنگل کا بادشاہ ہونے کے باوجودایک جا نو ر،ایک درندہ ہی ہوتاہے۔اس کے پاس عقل،فہم ، ا د ر ا ک،سمجھ بوجھ اورتجزیے کی صلاحیت نہیں ہوتی ۔وہ خیروشرکی تمیزبھی نہیں رکھتا ۔ وہ طاقت کے نشے میں اپناانجام بھول جاتاہے۔وہ اس جذبہ واحساس سے بھی عاری ہوتاہے کہ جنگل کی مخلوق اس کے بارے میں کیاخیال کرتی ہے۔اسے کبھی یہ اندازہ نہیں ہو پاتاکہ کب لوگ اس سے محبت کررہے تھے اورکب پھولوں جیسی لطافت رکھنے والی یہ محبت،نفرتوں کے الامیں تبدیل ہوگئی لیکن انسان،چاہے وہ درندہ صفت ہی کیوں نہ ہو،چاہے اس میں حیوانیت کے تمام اجزا ہی کیوں نہ بھرجائیں،وہ بہرحال انسان ہوتا ہے۔وہ فہم،عقل، ادراک،سمجھ بوجھ اور تجزیے کی صلاحیت رکھتاہے۔اس کے سامنے ماضی کے تجربات کاایک لامتناہی سلسلہ ہوتاہے جسے بنیادبناکروہ اپنی منزل اور اپنے راستے کاتعین کرسکتاہے۔وہ عزت اورذلت کے فرق سے شناساہو تا ہے۔ وہ زندگی، موت اوراس کے بعدکی زندگی کے تقاضوں سے آگاہ ہوتاہے۔اسے معلوم ہوتاہے کہ بدنامی اورنیک نامی کیا ہوتی ہیں۔ وہ جانتاہیکہ تذلیل اورتعظیم کسے کہتے ہیں۔ وہ جانتاہے کہ زندگی،کبھی جان اورکبھی تسلیم جان کانام ہے۔اسے علم ہوتاہے کہ عوام کی نگاہوں میں گرجانے کے بعدکوئی بڑے سے بڑاعہدہ بھی تکریم نہیں دے سکتا۔ہرانسان کے اندرایک میزان موجود ہوتی ہے جسے ضمیربھی کہتے ہیں۔یہ ضمیربڑی بے لاگ گواہی دیتاہے،ہاں کبھی کبھی اس کوزنگ بھی لگ جاتاہے۔اس کی گواہی میں کھوٹ آجاتاہے اورمیزان کاتوازن برقرارنہیں رہتا۔
 انسان کے حواس سلامت ہوں تواسے ادراک ہوتاہے کہ کون سافیصلہ کرناہے اورتاریخ کی کتاب میں کس حوالے کے ساتھ زندہ رہناہے۔ شیرکو معذور اور مفلوج ہونے اوردھڑام سے زمین پرگرجانے کے باوجود اندازہ نہیں ہوتاکہ اس پرکیاگزررہی ہے یہاں تک کہ اس کی بادشاہت،مکھیوں،چیونٹیوں اورچوہوں کارزق ہوجاتی ہے لیکن انسان کے حواس خمسہ مقفل نہ ہوجائیں تو وہ اچھی طرح جان جاتاہے کہ تذلیل وتحقیر کی آخری حدکہاں سے شروع اورکہاں پرختم ہوتی ہے۔اس کے سامنے سارے راستے ہاتھ کی لکیروں کی طرح کھلے ہوتے ہیں۔بدلتے وقت کے تیوروں کوجانچنے کیلئے اس کے پاس بیسیوں پیمانے ہوتے ہیں۔اگروہ خودفریبی کے مرض میں مبتلانہ ہوتوساراعالم اس کیلئے آئینہ خانہ بن جاتا ہے۔وہ ہردیوار،ہردریچے میں جھانک کر اپنے چہرے کے حقیقی خدوخال دیکھ سکتاہے۔وہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ میری آبرولوگوں کی گردنوں پرمسلط رہنے میں ہے یاترکہ توشہ سمیٹ کررخصت ہوجانے میں ہے۔سفاکی اورناانصافی کے زورپراقتدارکے نشے میں اگراس کے حواسِ خمسہ اس کاساتھ نہیں دیتے اوروہ ایک صائب فیصلے پرنہیں پہنچتا،توجان جائیے کہ وہ اللہ کی پکڑمیں ہے جس کاارشاد ہے کہ وہ نامرادلوگوں کے دلوں پرمہریں لگادیتا،ان کی سماعتیں چھین لیتااوران کی آنکھوں پرپٹیاں باندھ دیتاہے۔
ایساسفاک پرلے درجے کابزدل ہوتاہے جوخم ٹھونک کرمیدان میں آنے اورمظلوم عوام سے سندِ قبولیت حاصل کرنے کی بجائے صدارتی آرڈیننس سے دیواریں پھلانگ کر کشمیر پر بندوق کے زورپرقبضہ کرتا ہے۔ فسطائیت کے لمبے نوکیلے فولادی میخوں جیسے دانتوں سے وہ عوام کوادھیڑتااورنوچتارہتاہے۔ اس کے آس پاس بیٹھے امیت شاہ کی قبیل جیسے افراد، بچی کھچی ہڈیاں چچوڑنے والے اس کی درندگی اورآدم خوری کے قصیدے گاتے رہتے ہیں۔خلقِ خدا کے سینے میں نفرتوں کا الاؤبھڑکتارہتاہے۔ ان کی دعائیں عرشِ معلی کے گردوپیش منڈلاتی رہتی ہیں اور پھرایک دن آمردھڑام سے گرتاہے اور حشرات الارض اس کاجسدِ ناسورچاٹنے لگتے ہیں۔حیرت اس بات پرہے کہ شیرنامی درندہ توعقل وشعورسے عاری ہونے کے سبب عبرتناک انجام سے دوچارہوتاہے لیکن دل ودماغ اور سمجھ بوجھ رکھنے والے ظالموں کی سوچ پرپتھر کیوں پڑجاتے ہیں کہ دھڑام سے گرتے وقت انہیں کچھ خبرہی نہیں ہوتی؟اقتدارکے نشے میں اس قدر بد مست ہوتے ہیں کہ اقتدار کی لالچ میں عالم نزع کے وقت بھی جوکچھ روزِسیاہ کیلئے بچاکررکھاہوتا ہے،اپنے چہرے کی کالک سمیت مزید رسوائی سمیٹنے کیلئے ایسی ہی حماقتوں کے ساتھ میدان میں کودجاتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں