07:42 am
چین کا ایک اور اعلان

چین کا ایک اور اعلان

07:42 am

٭چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، سربراہ چینی فوج جنرل زوکلی آنگ، چینی وزیرخارجہ 6 ستمبر کو پاکستان آئیںگےO مقبوضہ کشمیر میں جھڑپیں، پولیس کو غیر مسلح کرنے پر احتجاجO جعلی اکائونٹس، آصف زرداری، فریال تالپور سمیت 39 ملزم گرفتار، 13 ارب روپے وصول، 51 ارب کی جائیداد منجمدO پنجاب میں ٹرانسپورٹ کے کرائے 35 فیصد اضافہO وزیراعظم کے بارے بلاول کی تلخ گفتگو، بھارتی میڈیا کی شہ سرخیاںO بھارت کی 9 ریاستوں میں بغاوت تیز ہو گئیO وزیراعظم ہائوس 41 لاکھ 13 ہزار کا نادہندہ، بجلی کاٹنے کا نوٹس O پاکستان نے ٹڈی دل بھیج دیا ہے، بھارت کا واویلا۔
 
٭پاکستان کے دورہ کرنے والے چین کے ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین (چیف آف سٹاف) جنرل زوکلی آنگ نے پاکستان کی بری اور فضائی کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ بحریہ کے سربراہ سے ملے اور اعلان کیا کہ چین ہر حالت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ چین کی طرف سے یہ نئی بات نہیں، اس نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے البتہ بھارتی میڈیا کے لئے یہ بیان خاص طور پر اعلان بہت تکلیف دہ ثابت ہوا ہے کہ چین کے وزیرخارجہ 6 ستمبر کوپاکستان کے یوم دفاع کی تقریبات میں شرکت کے لئے اسلام آباد آ رہے ہیں۔ 6 ستمبر1965ء کو بھارتی فوج نے کسی اعلان جنگ کے بغیر رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔ جسے پاکستان کی جانباز افواج نے سخت ترین ناکام بنا دیا تھا۔ 54 برسوں سے6 ستمبر کا دن ’’یوم دفاع‘‘ کے طور پر منایا جاتا جا رہا ہے۔ ابتدا میں اس روز ملک میں عام تعطیل ہوتی تھی اور بڑے شہروں میں بڑی سطح پر فوجی تقریبات ہوتی تھیں مگر آہستہ آہستہ بھارت کے احتجاج پر یہ سرگرمیاں مدھم پڑتی گئیں۔ چھٹی ختم کر دی گئی اور اس دن کی یاد صرف اخبارات کے عام ایڈیشنوں تک محدود ہو گئی۔ نوازشریف کی حکمرانی کے دور میں تو یہ دن بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا۔ اس برس مقبوضہ کشمیر کے حالات کے باعث جنگی فضا پیدا ہونے پر یہ دن پھر ابھر آیا ہے۔ واضح طور پر یہ دن بھارتی جارحیت کے خلاف مذمت کی علامت ہے۔ اس میں چین کے وزیرخارجہ کی شرکت بھارت کے جارحانہ عزائم کے خلاف کھلا انتباہ ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر پاکستان کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لئے کچھ دوسرے ممالک کے نمائندے بھی آ رہے ہیں۔ ظاہر ہے ان میں ترکی کا نمائندہ بھی شامل ہو گا۔ 6 ستمبر کے بعد اگلا دن، 7 ستمبر یوم فضائیہ کا ہے۔ پاکستان کی فضائیہ نے جس طرح بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ دی تھی، اس کی داستانیں اپنی جگہ ولولہ انگیز ہیں۔
قارئین کرام معذرت! تھوڑی دیر کے لئے ایک سال پیچھے جا رہا ہوں۔ ’’کالم راوی نامہ‘‘ 28 اگست 2018ء چند دلچسپ مختصر دلچسپ باتیں ’’نئے وزیر ریلوے شیخ رشید کا لاہور میں دوسرا اجلاس! وزیر بہت گرم تھے، 22 گریڈ کے جنرل منیجر کمرشل سے ریلوے کی بعض باتیں پوچھیں، اس نے بتائیں۔ وزیر نے کہا کہ یہ تو مجھے پہلے ہی معلوم ہیں، کیا طوطا کہانی سنا رہے ہو۔ افسر نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے تو پوچھنے کی کیا ضرورت تھی؟ وزیرنے کہا ’شٹ اپ‘۔ افسر بولا ’’یُو شٹ اپ‘‘۔ وزیر نے کہا کہ اجلاس سے نکل جائیں۔ افسر چلا گیا، دو سال کی چھٹی کی درخواست بھیج دی۔ وزیر نے حکم دیا کہ اجلاس کی کارروائی باہر نہیں جائے گی۔ اگلے روز تمام اخبارات میں پوری کارروائی چھپ گئی!
٭’’عارف علوی، اعتزاز احسن اور فضل الرحمان نے صدارتی امیدوار کے کاغذات داخل کروائے۔ میاں شہباز شریف نے مشترکہ امیدوار کے لئے مولانا فضل الرحمان کو پیپلزپارٹی سے مشورہ کے لئے بھیجا۔ وہ خود ہی امیدوار بن گئے۔ عارف علوی کو بھاری اکثریت حاصل ہے۔ یہاں ایک دلچسپ بات کہ کچھ عرصہ پہلے مصری شاہ لاہور میں رہنے والے کچھ دماغی مسئلے والے ایک صاحب فضل الرحمان لاہوری عرف ’مجاہد اُردو‘ نے بھی صدارتی امیدوار کے طور پر کاغذات داخل کروائے، جو وصول ہوتے ہی مسترد ہو گئے۔ اس نے باہر آتے ہی ایک وزیٹنگ کارڈ بنوایا۔ اس پر درج تھا۔ فضل الرحمان سابق صدارتی امیدوار!‘‘
٭’’سندھ کا گورنر عمران اسماعیل صرف ایم اے پاس ہے‘‘۔ سعید غنی (وزیر پیپلزپارٹی)۔ ’’تمہارا صدر آصف زرداری بھی تو صرف میٹرک تھا‘‘ اور یہ تو بتائو بلاول کی تعلیم کیا ہے؟‘‘ تحریک انصاف کا جواب
٭قارئین محترم! واپس موجودہ با تھیں۔ بلاول زرداری نے گلگت میں سات روز گزرنے کے بعد واپسی پر نیب کی جیل میں والد آصف زرداری سے ملاقات کی اور بیان دیا کہ ’’میرے والد کو قتل کیا جا رہا ہے، عمران خان پہلے پاکستان کو آزاد کرے پھر کشمیر کی بات کرے۔‘‘ اس بات کو بھارتی اخبارات نے شہ سرخیوں سے چھاپا اور ٹیلی ویژن میڈیا بار بار بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کرتا رہا۔ یہی انداز مریم نواز کا تھا۔ روزانہ ایک نہ ایک زہریلی بات، جو فوراً بھارتی میڈیا پر چل پڑتی تھی۔ مریم تو کچھ عرصے سے خاموش ہے۔ اب بلاول نے بھارتی میڈیا کو گرمانا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان نے اکتوبر میں اسلام آباد پر لشکر کشی اور ملک کو اس حکومت سے آزاد کرانے کے اعلان کو بھی بھارتی میڈیا نمایاں جگہ دے رہا ہے۔ مولانا نے 29 اگست کو اسلام آباد میں کل پارٹی کانفرنس بلا رکھی تھی اسے اس لئے منسوخ کر دیا گیا ہے کہ بلاول زرداری نے اسلام آباد میں موجود ہونے کے باوجود شرکت سے معذرت کر دی یہی صورتحال شہبازشریف کی ہے۔ ایسے میں کانفرنس کیا ہونی تھی۔یہ خبر بھی عام ہو چکی ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے موجودہ حالات میں اسلام آباد کے لاک آئوٹ بارے مولانا کے پروگرام میںشریک ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
٭وزیراعظم ہائوس غریب ہو گیا۔ بجلی کے واجبات ادا نہیں کر سکا۔ 41 لاکھ 13 ہزار کے واجبات جمع ہو گئے۔ غالباً بِل ادا کرنے کی سکت نہیں رہی ہو گی۔ مگر بجلی والے بھی بار بار تقاضا کرنے سے تنگ آ گئے اور بالآخر وزیراعظم ہائوس کو بل کی عدم ادائیگی پر بجلی کاٹنے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔ بجلی کے محکمہ کی جرأت اپنی جگہ مگر اسے وزیراعظم ہائوس میں داخل کون ہونے دے گا! ایک باد شاہ کھانا کھا رہا تھا۔ اس کے غلام نے بادشاہ کو روکا کہ نوالے میں ایک بال جا رہا ہے۔ بادشاہ نے شکریہ ادا کیا، نوالہ پھینک دیا اور وزیر کو باہر نکال دیا کہ بادشاہ کے کھانے پر بھی نظر رکھتا ہے!
٭ایک عزیز نے پوچھا ہے کہ جنگی ماحول کا تو سن رہے ہیں مگر جنگی ماحول کا عام سماں دکھائی نہیں دے رہا۔ اسے بتانا چاہتا ہوں کہ فوج تو ہر لمحے پوری طرح تیار ہے، مگر ضروری نہیں کہ سرحدوں پر ہر وقت طیاروں کی گھن گرج دکھائی دے۔ مسلح افواج ایک سیکنڈ سے بھی کم مدت میں فوری طور پر حرکت میں آ سکتی ہیں۔ بعض باتیں عام نہیں کی جا سکتیں۔ ایک بات ایک فوجی افسر نے بتائی کہ سرحدوں اور مورچوں میں موجود فوجی افسروں کے پاس جدید قسم کی گھڑیاں ہوتی ہیں۔ سرحد پار دشمن کی ذرا سی بھی حرکت ان گھڑیوں کے ذریعے سیکنڈ سے بھی کم مدت میں ہیڈ کوارٹر میں پہنچ جاتی ہے۔ اس وقت مسلح افواج ہر لمحہ پوری طرح مستعد ہیں۔ دشمن کی ہر وقت پوری طرح زیر نگاہ ہے۔ اس لئے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
٭بہائوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے گرلز کالج کے ہوسٹل میں ایک طالب علم دانیال برقعہ پہن کر ایک لڑکی کے ساتھ اندر داخل ہو گیا۔ جمال ڈھال سے شک پڑنے پر پکڑا گیا اور پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ لڑکی نے روتے ہوئے کہا کہ دانیال میرا منگیتر ہے، میں اسے ہوسٹل کا کھانا کھلانا چاہتی تھی۔ ہمیں معاف کر دیا جائے۔ اس پر ایک پرانا شو یاد آ گیا ہے کہ محبوب نے اپنے دیوانے کو گھر بلایا تو وہ اتنا خوش ہوا کہ جوش میں بھاگتا ہوا محبوب کے گھر سے دو چار میل آگے نکل گیا!
٭حکومت نے ایک پروگرام بنایا ’وزیراعظم نوجوان پروگرام‘ کابینہ نے یہ نام تبدیل کر دیا ہے۔ نیا نام ہے: پرائم منسٹرز نیا یوتھ انٹر پری نیور شپ پروگرام‘‘ قارئین کچھ سمجھے ہوں تو مجھے بھی بتا دیں۔
٭بھارتی میڈیا کا پراپیگنڈا۔’’پاکستان نے کروڑوں ٹڈیوں کا دَل راجستھان بھیج دیا ہے جو کروڑوں کی فصلیں کھا کر پھر پاکستان واپس چلا گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں