07:54 am
 سیاست اور سیاسی کلچر۔II

 سیاست اور سیاسی کلچر۔II

07:54 am

یوں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیاست ایک پروفیشن ہے جو کہ یقینی طور پر ہے کیونکہ جس نے بھی اس  کار زار میں ایک بار قدم رکھا اس کی ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی اور یہ پیشہ اپنی اگلی نسلوں کو منتقل کرتے ہیں اور ہمارے وطن عزیز میں تو برسوں سے ایک ہی جماعت سے وابستہ سیاستدانوں سے یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ وہ حکمران خاندان کے بچوں کے اتالیق کے فرائض بھی انجام دیں تاکہ آنے والے وقتوں میں وہ عنان حکومت سنبھال سکیں۔ کسی بھی پروفیشن کی طرح سیاست میں بھی درجہ بندی ہوتی ہے اور یہ فیصلہ حکمران خاندان کو کرنا ہوتا ہے کہ کون کس جگہ کے لئے مناسب اور موزوں ہے اور ساتھ ہی ساتھ خاندان سے وابستگی اور وفاداری کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔  عوام کو جمہوریت کا سبق بار بار یاد کرایا جاتا ہے اور جمہوریت کے ثمرات بھی بتائے جاتے ہیں لیکن یہ  ثمرات کبھی جمہور تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ جمہور کو ہمیشہ جمہوریت کی بحالی‘ استحکام کیلئے قربانیاں دینے کیلئے تیار کیا جاتا ہے اور ایک طویل عرصے سے انہیں  یہی بتایا جارہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ انگریز حکمران کا دیا ہوا نظام‘ بیوروکریسی اور فوج ہے۔ کبھی یہ بتایا جاتا ہے کہ نئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ آئین میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے الیکشن جب بھی ہوتے ہیں تو کبھی خلائی مخلوق اور کبھی نادیدہ ہاتھوں کا ذکر کرکے الیکشن کو متنازعہ بنا دیا جاتا ہے اور واویلا مچایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کو آزاد خودمختار بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ الیکشن کے قواعد و ضوابط بدلنے کی ضرورت  ہے لیکن یہ کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ جناب! یہ سب کس نے کرنا ہے۔ اتنی بار اسمبلیاں منتخب ہو کر اپنی مدت بھی پوری کرچکیں تو معزز ایوان نے کیوں اس نظام کو بدلنے اور الیکشن کمیشن کو آزاد و خودمختار بنانے کیلئے کام نہیں کیا۔
 
جب حکومت کے خلاف حزب اختلاف  جلسے جلوس نکالتی ہے احتجاج کرتی ہے تو سسٹم بچانے کی کوششیں شروع ہوجاتی ہیں کیا اسی سسٹم کو بچانے کے لئے اتنی سنجیدگی سے کام کیا جاتا ہے جس سسٹم کو بدلنے کا عزم اقتدار میں آنے سے پہلے ہر معزز رہنما کرتا ہے۔ اگر وہ سسٹم ڈیلیور نہیں کرپارہا‘ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے  اور موجودہ تقاضوں پر پورا نہیں اترتا تو اس سسٹم کو بدلنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کیوں نہیں کی جاتیں۔ ٹاسک فورسز کی سفارشات بھی آخر کیوں اسی سسٹم کے دائرے میں گھومتی رہتی ہیں۔
جب بھی نئی حکومت آتی ہے تو ظاہر ہے نئے لوگ آتے ہیں لیکن یہ بھی تو ان جیسے ہی ہوتے ہیں وہی پجارو کلچر‘ وہی لینڈ کروزر‘ وہی جہاز ‘ وہی کلف کے اکڑے ہوئے لباس‘ فرق تو صرف چپل کا پڑا ہے گم شوز کی جگہ پشاوری  چپل آگئی  ہے۔ اسی طرح اقتدار کے ایوانوں  میں گھومنے والے لوگ خود اقتدار میں  تو نہیں مگر خود کو شامل اقتدار  تصور کرتے ہیں شاموں مہنگے ترین کیفے میں کافی اور ہاف آئس کریم سے مہمانوں کی تواضع کررہے ہوتے ہیں۔
ہر کوئی گلہ کرتا ہے مہنگائی بہت ہے غربت بڑھ گئی  ہے۔ کسی بھی مارکیٹ میں جائیں گاڑی پارک کرنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ کسی بڑے شاپنگ مال‘ کسی فائیو سٹار ہاسپٹل جائیں اس کی پارکنگ میں دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں بکثرت نظر آئیں گی۔
یوں لگتا ہے نہ جمہور کو دل چسپی ہے کہ نظام تبدیل کیا جائے اور نہ ہی سیاستدانوں کو۔ دونوں اپنی اپنی جگہ مطمئن ہیں بھلا ہو ہمارے مذہبی رہنمائوں کا انہوں نے محروم طبقات کو آخرت میں بہترین حصہ ملنے کی یقین دہانی کرائی ہوئی ہے وہ شاید اسی میں خوش ہیں کہ یہاں نہیں تو جنت میں باغات اور محلات پر ان کی اجارہ داری ہوگی۔ کبھی انہیں آئی ایم ایف سے قرضہ مل جانے کی خبر خوش کردیتی ہے تو کبھی دوست ممالک سے ملنے والی امداد سے خوش ہوجاتے ہیں اور وقتی طور پر بھول جاتے ہیں کہ مہینے کے آخر میں جب محض ایک پنکھا اور دو بلب جلانے پر دس ہزار کل بل آئیگا تو کیسے ادا کریں گے۔
سابقہ ادوار میں بجلی‘ گیس اور آئل کے اداروں کے نظام اور کارکردگی کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ریگولیٹری اتھارٹیز بنائی گئی تھیں وہ بھی اپنا بنیادی کام بھول کر اب ٹیرف بڑھانے کی سفارشات تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ملکی پیداوار بڑھانے اور انویسٹمنٹ فرینڈلی اور بزنس فرینڈلی ماحول بنانے کیلئے شاید کسی کے پاس وقت نہیں ایک پبلک فرینڈلی اکنامک ماڈل پر کام کرکے اگر کم از کم اقتصادیات کے نظام کو ہی بدل دیں تو شاید سسٹم خود بخود بہتر ہونا شروع ہوجائے۔ 
 

تازہ ترین خبریں