07:54 am
   بے دانشی کا دور 

   بے دانشی کا دور 

07:54 am

  بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ پارلیمان عوامی امنگوں کی ترجمان ہوتی ہے! ذرا ذرا سی بات پر جن عوامی نمائندوں کا استحقاق مجروح ہو جایا کرتا ہے وہ عوام کے ووٹ کی بدولت مقدس ایوان تک پہنچتے ہیں ۔  جب حسن عطا ہو تو نزاکت آ ہی جاتی ہے! بالکل ایسے ہی  بندہ الیکشن جیتے تو استحقاق کے معاملے میں حساسیت پیدا ہو ہی جاتی ہے۔ بندہ ہی بندوں کے ووٹ سے نمائندہ بن کے اپنے ہی جیسے بندوں کا دیوتا بن جانے کے زعم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایسی کئی شخصیات سیاست کے کوڑے دان میں جلوہ افروز ہیں جنہیں دیکھ کے یہ شعر یاد آتا ہے!
 
دیوتا بننے کے چکر میں معلق ہو گئے 
اب ذرا نیچے اترئیے آدمی بن جائیے
کمال یہ ہے کہ اپنے استحقاق کے لیے حد درجہ حساس عوامی نمائندہ جب اپنے ہی جیسے دوسرے عوامی نمائندے کا استحقاق مجروح کرتا ہے تو رائج الوقت بی جمہوریت کا حسن نکھر نکھر کے سامنے آتا ہے۔ کشمیر جیسے اہم مسئلے پر ہونے والے اجلاس کی تلخیاں آسانی سے نہیں بھلائی جا سکتیں ۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے دو چرب زبان نمائندوں نے جس طرح ایک دوسرے کی عزت افزائی فرمائی وہ پارلیمان کی پیشانی پر لگنے والے سیاہ ترین دھبوں میں شمار کئے جانے کے لائق ہے۔ سیاست کے تھڑوں پر بیٹھے پیشہ ور کاریگروں میں یہ منہ ماری اور دشنام طرازی  تو روز کا معمول ہے ۔ ایک کے بدلے چار سنا کے بدلہ چکانا ہی بہادری کا معیار ہے ۔ دونوں نمائندوں نے ایک دوسرے کے سر پر جو خاک ڈالی اُس پر کسی کو کیا رنج ہوسکتا ہے؟ اصل تکلیف دہ اور شرمناک پہلو تو یہ ہے کہ  لغویات بکنے کا مقابلہ اُس اجلاس کے دوران ہوا جو کہ کشمیر جیسے حساس موضوع پر غور و خوض کے لیے طلب کیا گیا تھا ۔ دونوں پیشہ ور سیاست دانوں نے اپنی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کے محصور و مجبور عوام کی توہین کی ۔ 
بھارتی میڈیا پر اس بکواس بازی کے مناظر دکھا کر پاکستان کی بھد اُڑائی گئی ۔ دنیا کو یہ پیغام گیا کہ پاکستان کی پارلیمان کشمیر کے بارے سنجیدہ نہیں ۔ دیگر  تقاریر نے یہ تاثر پختہ کیا کہ غیر سنجیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت متحد نہیں ۔ پارلیمان میں ایسا شہ دماغ کوئی نہیں جو واضح لائحہ عمل پیش کر سکے۔ مودی سرکار نے انتہائی حساس معاملے پر بہت بڑا اقدام کیا ۔ مضمرات کے ساتھ ساتھ یہ اقدام  بھارتی قیادت کی اپنے نظریات سے پختہ وابستگی کا بین ثبوت بھی ہے۔ برسوں پہلے ایک قابل ترین سابق سفارت کا ر کے یہ الفاظ ذہن میں گونجے کہ مودی کی صورت بھارت میں ایک حقیقی نظریاتی قائد ایوان اقتدار میں پہنچ چکا ہے ۔  خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے لہٰذا پاکستان کو حد درجہ احتیاط درکار ہے۔ 
ہم نے یہ احتیاط کی کہ گذشتہ عہد حکومت میں چار برس تک وزیر خارجہ کا تقرر کئے بغیر کام چلایا گیا ۔ نظریاتی تنزلی کا یہ عالم کہ کبھی لبرل ہونے کا دورہ پڑ جاتا تھا تو کبھی سویلین بالا دستی کا بخار دماغ کو چڑھ جاتا تھا ۔ بانی پاکستان  محمد علی جناح او ر مفکر پاکستان علامہ اقبال نے ہندو شدت پسند ذہنیت کا ادراک کرتے ہوئے جو ملک حاصل کیا اُس کی مقدس سرحد کو عہد حاضر میں ایک صاحب نے زمین پر کھینچی گئی بے معنی لکیر قرار دیتے ہوئے مسلم قومیت کے تصور کو آلو گوشت کے پیالے میں غرق کر ڈالا ۔ یہ فکری تنزلی سقوط ڈھاکہ کے بعد اس دعوے سے بڑا سانحہ ہے جس میں اندرا گاندھی نے دو قومی نظریئے کو خلیج بنگال میں غرق کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بے عملی کا یہ عالم رہا کہ بادل نخواستہ سال میں ایک تقریر جنرل اسمبلی میں فرما کر اور پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کی چھٹی منا کر رسمی خانہ پُری کی جاتی رہی۔ معنی خیز سُست روی اور عدم دلچسپی کا نتیجہ سفارتی ناکامیوں کی صورت بھگتنا پڑ رہا ہے۔ قوم کشمیر یوں کے دکھ درد کو محسوس کر رہی ہے! ہر پاکستانی ہی نہیں ہر درد دل رکھنے والا مسلمان کرب میں مبتلا ہے۔ 
اصل رونا تو حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کی بے حسی اور نااہلی کا ہے۔بار بار دعویٰ کیا جاتا ہے کہ قوم کا بچہ بچہ کشمیر کے لیے کٹ مرے گا! کوئی صاحب فرماتے ہیں کہ مودی کے ہاتھ توڑ دئیے جائیں گے ! غاصب ہندوستان کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ بھارت میں گھاس نہیں اُگے گا اور مندروں میں گھنٹیاں نہیں بجیں گی ۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ سب کیسے ہوگا ؟ تصور کی دنیا میں شعلہ بیاں مقررین  کے کٹ مرنے اور مودی کے ہاتھ توڑنے سے اُن کشمیریوں کو کیا حاصل ہو گا جن کے بچے حقیقت میں کٹ مر رہے ہیں ؟ بے دانشی کی انتہا ہے کہ پارلیمان میں موجود کسی جماعت یا فرد کی جانب سے کوئی قابل عمل یا قابل فہم تجویز ابھی تک سامنے نہیں آئی ! اگر استحقاق مجروح نہ ہو تو پارلیمان میں عوام کی امنگوں کی ترجمانی فرمانے والا کوئی نمائندہ یہ بتا دے کہ کشمیر کے لیے  اب کرنا کیا ہے ؟ 

تازہ ترین خبریں