07:55 am
 مخلص وزیراعظم کی عدم گرفت سے پیدا شدہ مسائل

 مخلص وزیراعظم کی عدم گرفت سے پیدا شدہ مسائل

07:55 am

وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے حوالے سے قوم کے نام خطاب میں بہت عمدہ اسلوب فکر و بیان اپنایا تھا ہم ان کے اس خطاب کو قومی فرض کی بروقت ادائیگی کا نام دیتے ہیں۔
 
مسئلہ کشمیر تو1947 ء سے بھی بہت پہلے 1930  ء سے موجود رہا ہے۔1947 ء پھر1948 ء اور پھر1951 ء میں وزیراعظم نہرو کے خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے جانے سے اس کی شکل و صورت تبدیل ہوئی۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس وقت کشمیریوں کے جائز حق خودارادیت اور استصواب رائے کو تسلیم کیا تھا مگر یاد رہے امریکہ1947 ء سے ہی خطہ کشمیر کو آزاد ریاست دیکھنے کا متمنی تھا جو امریکی اتحادی بن کر امریکی اڈے فراہم کرے۔ اسی لئے تو شیخ عبد اللہ کو نہرو نے منصب سے ہٹا کر 14 سالہ قید میں ڈال دیا تھا۔ لہٰذا امریکہ کی کشمیر کے حوالے سے ’’بندربانٹ‘‘ کو سامنے رکھیں۔ صدر ٹرمپ کی ثالثی کے ساتھ ماضی کی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی بندربانٹ آج بھی وابستہ ہے۔ ذرا آنکھیں کھول کر فوج اور ریاستی اداروں کے تعاون و رہنمائی سے امریکیوں سے ڈیل کریں۔ ذاتی اور افرادی کوشش سے آپ پر ’’کشمیر فروخت کر دیا‘‘ کا الزام لگتا رہے گا جیسے بھٹو نے معاہدہ تاشقند سے صدرایوب خان کو بدنام کرکے اسے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ لہٰذا آپ کی پوزیشن صدر ایوب والی اور اپوزیشن کی بھٹو والی ہوسکتی ہے حالانکہ صدر ایوب نے ہرگز معاہدہ تاشقند میں کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ اگر غلط کیا تھا تو1960-62 ء میں چین بھارت جنگ میں چینی وزیراعظم چو این لائی کی ترغیب کو قبول نہ کرتے ہوئے کشمیر کو فتح نہ کرنے کا تاریخی غلط اور بزدلانہ کام کیا تھا۔ میرا بہت سالوں سے موقف ہے کہ حکمران سیاسی وجود اور ریاستی اداروں کا اتحاد، وحدت، یکجہتی، چین اور روس کی طرح ، سعودیہ و امارت کی طرح ہی پاکستان کی  اصل مطلوب زمینی حقیقت ہے۔ یوں ریاستی اور قومی مفادات و ترجیحات میں ردوبدل بھی ہوتا رہتا ہے اور منزل مقصود  پر پہنچنا بھی آسان ہوتا جاتا ہے۔
5 اگست کا اقدام کشمیر کے حوالے سے اگر بھارتی وزیراعظم نہ کرتے تو ناگالینڈ میں اپنی ریاستی آزادی، آئین، پرچم کی شناخت کا مسئلہ بھی پیدا نہ ہوتا۔ لہٰذا5 اگست کے نریندر مودی حکومت کے اقدامات سے جہاں اہل کشمیر پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹے ہیں وہاں سائوتھ انڈیا کی جبری طور پر ضم شدہ ریاستوں میں بھی احساس محرومی اور توجہ شناخت پیدا ہوگئی ہے کہ ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوسکتا ہے جو اہل کشمیر کے ساتھ 370 اور دوسری آئینی دفعات کے خاتمے سے ہوا ہے۔ لہٰذا 5 اگست کے اقدامات سے بھارت کے کمزور اور غیر مستحکم ہونے کے  نئے مواقع بھی پیدا ہوگئے ہیں مگر یہ بہت طویل مدتی امکانات ہیں۔
جبری طور پر ضم شدہ سائوتھ انڈیا ریاستوں کی مستقبل میں علیحدگی اور دوبارہ ذاتی وجوہ پر اصرار اسی طرح ممکن دکھائی دیا ہے جیسا سوویت یونین آف رشیا میں جبراً ضم شدہ ریاستوں کو صدر گوربا چوف کے اقدامات سے علیحدگی کا پروقار مقام ملا تھا۔ پاک بھارت کشیدگی، کشمکش، جنگ و جدل کم از کم سات سال بقول علمائے فلکیات اور روحانی وجدان کی روشنی میں مورجود رہنا ہے جس میں کبھی بھارت کا پلہ بھاری اور کبھی پاکستان کا پلہ بھاری ممکن دکھائی دے سکتا ہے۔ آواخر ستمبر میں انشاء اللہ وزیرا عظم اقوام متحدہ میں جو کچھ بھارت مخالف کریں گے وہ بہت اہم اور تاریخی ہوگا اس سب  سے پاک بھارت کشیدگی میں یکدم نیا اضافہ ممکن ہوسکتا ہے ۔ لہٰذا اکتوبر کے پہلے ہفتے اور آخری دس دنوں میں پاک بھارت جنگی جھڑپ بہت ممکن دکھائی دے  سکتی ہے جبکہ پاک بھارت میں شدید جنگ کا امکان جنوری2020 ء میں ممکن دکھائی دے سکتا ہے۔ عالمی جنگ 2021 ء سے 2023 ء کے درمیان کافی ممکن ہوسکتی ہے۔  
یہ بایں مجھ سے علمائے فلکیات اور روحانی وجدان شخصیات بار بار کہہ چکی ہیں۔ لہٰذا حکومت اور ریاستی اداروں کو سات سالہ طویل منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ پاکستا ن کو28 مارچ2019 ء تک خارجی تعلقات میں قدم قدم پر غلطیوں سے بچنا ہوگا۔ دوست زیادہ بنانا ہوں گے مگر میں ضروری توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارے کچھ افراد بہت زیادہ خود نمائی کے مرض میں مبتلا ہیں اور جذباتی طور پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ دوبار غلط رویہ اپنا چکے ہیں۔ پہلی مرتبہ جب او آئی سی کانفرنس ابوظہبی میں منعقد ہوئی جس میں سشما سوراج کو بلوایا گیا۔ وزیر خراجہ اور پارلیمنٹ کا جارحانہ رویہ ماضی کا دو ٹوک ریاستی مفادات کی طویل مدتی حصول مفادات منزل سے متضاد تھا۔ دوسری مرتبہ کچھ وزراء کا نریندر مودی کے امارات اور البحرین میں ایوارڈ پر جذباتی اشتعال پیدا کردہ بیانات کا معاملہ ہے۔ سادہ لوح و مخلص وزیراعظم کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ ان کا معاملہ ایسے جذباتی اور نفسیاتی طور ہر وقت خود کو اجاگر کرنے کے مرض میں مبتلا وزراء سے  ہے۔
وزیراعظم اپنی کابینہ کو اخلاقی ضابطہ کی گرفت میں فوراً لائیں ورنہ اپوزیشن کی بجائے اگلے دو تین ماہ میں کابینہ کے خود کو نمایاں کرنے کے مرض میں مبتلا خواتین و حضرات عمران خان سے وزارت عظمیٰ چھن جانے کا حقیقی سبب بنیں گے۔ مزید درخواست کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیئرڈ کشنرسے ذاتی روابط رکھنے والوں کو زیادہ ہرگز اہمیت نہ دیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کے داماد جیئرڈکشنر نے عربوں کا گہرا دوست ہوتے ہوئے بھی اچانک جس طرح فرانس میں جواد ظریف کی آمد کو صدر ٹرمپ کے لئے قابل قبول بنایا اور ایران کو اچانک اتحادی عربوں پر فوقیت دے دی ہے اس مکار اور شاطرانہ رویئے کو اپنے سامنے بھی رکھیں اور آخری بات کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ہرگز نہیں ہونی چاہیے خاص طور پر اگلے تین چار میں کہ پہلے ہی اقتدار سے محروم کچھ علماء معاملات ختم نبوت اور ناموس رسالت کی آڑ میں حکومت و ریاست مخالف مہم جوئی میں مصروف ہیں۔ اوپر سے اسرائیل کے حوالے سے باتیں حکومت ختم ہونے کا سامان ہو جائیں گی۔ اس حالت میں عمرن خان اور جنرل باجوہ کو وہ کچھ کرنا پڑے گا جو مارشل لاء طرز کا ہوگا۔

تازہ ترین خبریں