07:55 am
کشمیر‘ عرب اور پراکسی؟

کشمیر‘ عرب اور پراکسی؟

07:55 am

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ’’متحدہ عرب امارات ہمارا دیرینہ دوست ہے‘ ہماری قوم کو عادت ہے جذباتی ہونے کی‘ یو اے ای نے آپ کا ساتھ بھی دیا ہوا ہے مت بھولیں‘ جب آپ کو مالی مشکلات تھیں تو اسی عرب امارات نے آپ کا ساتھ دیا تھا‘ آج بھی بہت بڑی تعداد پاکستانیوں کی دبئی‘ ابوظہبی میں رزق حلال کمانے کے لئے بیٹھی ہے اور یو اے ای نے ان کے لئے سہولتیں فراہم کر رکھی ہیں‘ اسے مت بھولئیے‘‘
 
پاکستانی قوم اتنی جذباتی بھی نہیں جتنا شاہ محمود قریشی نے سمجھ لیا ہے‘ قوم باشعور ہے اور سمجھ رہی ہے کہ آج  کے دور میں کوئی مسلم ملک ہو یا غیر مسلم سب کے اپنے اپنے ذاتی مفادات ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح نائن الیون کے واقعات کے بعد رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے مسلم ’’امہ‘‘ کے مفاد کو پس پشت ڈال کر ایک نظریاتی اسلامی مملکت کو افغانستان کو جائز حکمران ملا محمد عمر اور ان کے طالبان کے خلاف امریکی صلیبی جنگ میں جھونک ڈالا تھا۔
مورخ جب بھی تاریخ لکھے گا تو اسے لکھنا پڑے گاکہ پاکستان کی سرزمین سے ہزاروں مرتبہ اڑانیں بھر کر امریکی جنگی جہازوں نے مسلمان ملک افغانستان پر خوفناک بمباری کی تھی۔ شہنشاہ عالم پناہ نے گوانتاناموبے جیسے بدنام زمانہ عقوبت خانوں کو پرویز مشرف کی مدد سے آباد کیا تھا‘ ’’آہ‘‘ مورخ یہ بھی لکھے گا کہ نظریاتی اسلامی مملکت پاکستان کے حکمران نے 5,5ہزار ڈالروں کے بدلے مسلمان نوجوانوں کو پکڑ پکڑ کر امریکیوں کو فروخت کیا تھا‘ انسانوں کو فروخت کرنے کی یہ کہانی طویل بھی ہے المناک اور درد ناک بھی‘ اس لئے اس کو مزید کریدے بغیر میں شاہ جی کی خدمت میں عرض کرونگا کہ بدنام زمانہ قاتل اور دہشت گرد  نریندر مودی کو  اماراتی ایورڈ ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر عربوں کے خلاف جو گند بھری کمپیئن چلائی گئی اس میں پاکستانی قوم نہیں بلکہ مختلف لابیوں سے وابستہ  مخصوص عناصر پیش پیش رہے۔
قاتل اور دہشت گرد نریندر مودی کو ملنے والے ایوارڈ کے حوالے سے میرا موقف بالکل واضح ہے‘ لیکن اس ’’ایوارڈ‘‘ کو بنیاد بنا کر عربوں پر تبرا بازی کرنے والوں نے بھی اس ملک کی کوئی خدمت نہیں کی‘ مشہور مثال ہے کہ ’’گرا گدھے سے اور غصہ کمہار پر‘‘ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو سعودی عرب کی شہ رگ نہیں بلکہ پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ کشمیری چلتی گولیوں میں بھی نعرے لگاتے ہیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان‘ ان کا مخصوص نعرہ ہے کہ دل‘ دل‘ جان‘ جان پاکستان‘ پاکستان‘ مقبوضہ کشمیر کے نام میں تو کشمیر آتا ہے‘ مگر وہاں رہتے سارے پاکستانی ہیں‘ ان کے دماغ بھی پاکستانی ہیں‘ ان کے دل بھی پاکستانی ہیں‘ بلکہ دل کی دھڑکنیں بھی  پاکستان کے نام پر ہی دھڑکتی ہیں۔
یہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے پاکستانیوں کو تنہا نہ چھوڑے‘ انہیں ہر حال میں آزادی دلوانے کی جدوجہد کرے۔ اس نازک موقع پر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے پر زیادہ سے زیادہ حمایت لینے کی کوشش کرے‘ اگر کسی ملک کی حمایت اسے نہیں ملتی تو اس کا کیا مطلب ہے کہ اس سے بھی دشمنی مول لے لی جائے؟ مختلف ملکوں کی ’’پراکسیوں‘‘ نے اس نازک اور حساس معاملے کو بھی جس طرح سے اچھالنے کی کوششیں کیں وہ انتہائی افسوسناک اور قابل نفرت ہیں‘ میرے نزدیک اس موقع پر جنہوں نے عربوں کے خلاف کمپیئن چلائی انہوں نے بھارت کا ہی فائدہ کیا۔
سوشل میڈیا کے ذریعے سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک کو نشانہ بنانے والے ’’سازش‘‘ خود تو کسی کو ایک وقت کا کھانا کھلانے کی ہمت نہیں رکھتے اور فتویٰ بازی اس سعودی عرب اور امارات کے خلاف کر رہے ہیں کہ جہاں آج بھی لاکھوں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں اور زرمبادلہ کما کر پاکستان بھجوا رہے ہیں‘ یہ سب باتیں لکھنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ دہشت گرد نریندر مودی کو ملنے والے ایوارڈ کا دفاع کیا جائے‘ نہیں‘ نہیں ہرگز نہیں‘  یہ متحدہ عرب امارات کی حکومت کا غلط فیصلہ ہے‘ بلکہ مقصود یہ بتانا ہے کہ بعض اوقات مسلم دوست ممالک میں غلط فہمیوں یا تجارتی مفادات کی وجہ سے دوریاں پیدا ہو جایا کرتی ہیں‘ لیکن حکومت اگر چاہے تو ان دوریوں کو دور بھی کر سکتی ہے‘ لیکن ایسے مواقع پر سوشل میڈیا یا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے کسی ملک کے خلاف اگر مہم چلائی جائے گی تو اس سے دوریاں مزید بڑھیں گی۔
کشمیر کو آزاد کروانا نہ سعودی عرب کی ذمہ داری ہے اور نہ امارات کی‘ ان ممالک نے جب بھی پاکستان پر برا وقت آیا‘ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔کشمیر جس پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اس پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے گھر جاتی امراء میں جب نریندر مودی آیا تھا اور دونوں نے ایک دوسرے کے سر پر پگڑیاں پہنائی تھیں کیا اس وقت کشمیر میں خون نہیں بہہ رہا تھا؟ مسئلہ کشمیر اور جہاد کشمیر کو سب سے زیادہ نقصان پاکستان کی حکومتوں‘ سیاست دانوں اور میڈیا نے پہنچایا ہے‘اگر ہم مخلص ہوتے تو نوبت یہاں تک پہنچتی ہی کیوں؟کچھ سینئر ’’سیانے‘‘ پاکستانی حکومت کو فلاں فلاں کو ایوارڈ دینے کے مفت مشورے دے کر ’’پراکسیوں‘‘ سے داد سمیٹ رہے ہیں‘ ان کے مشورے بڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے دنیا میں ایواڈ دینے کا کوئی مقابلہ ہو رہا ہے‘ حکومت نے اگر ان کے مشوروں پر عمل کیا تو وہ پھر یاد رکھے کہ اس سے قبل ان ’’سیانوں‘‘ کے مشوروں پر عمل کرنے والے پرویز مشرف تو راندھا درگاہ بن گیا‘ ستم در ستم کہ اسے مشورے دینے والے سینئر ’’سیانے‘‘ آج بڑھ چڑھ  کر اس پر پتھر برسانے والوں میں شامل ہیں۔
بدمعاش مودی کو ملنے والے ایوارڈ کی آڑ میں عربوں پر چڑھائی کرنے والے اگر اس سے آدھی چڑھائی بھی پاکستانی حکومتوں پر کرتے تو کشمیر کا سودا کرنے کی کسی کو جرات ہی نہ ہوتی۔

تازہ ترین خبریں