07:56 am
دینی مدارس اصحابِ صفہ کے چبوترے!

دینی مدارس اصحابِ صفہ کے چبوترے!

07:56 am

   ایک مسلمان کی اصل شناخت اس کا نظریہ حیات ہے،وہ اسلوبِ زیست جو نبی آخر الزامان ﷺ کے صحابہؓ نے اپنایا تو دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی اسناد کے ساتھ آسودہ خاک ہوئے،ان کے بعد تابعین ؒ ، تبع تابعین ؒ کا دور آیا  انہوں نے بھی اس ورثے کی پاسبانی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی،جو اصحابِ رسول ﷺ نے ان تک پہنچایا تھا ،وہ اصحابِ رسول ﷺ جنہوں نے خطبۃالوداع کے وقت دیئے گئے پیغامِ رسالت کوسارے عالم کے کونے کونے تک پہنچانے میں  کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔وہی خطبہ ہی انسانی حقوق کا پہلا اور آخری منشور ہے ،جس نے ہمیشہ کے لئے انسانی  مساوات کی حتمی اور آفاقی حدود متعین فرما دیں ،اس خطبے نے انسانی رویوں میں ایک ایسا انقلاب بر کیا جس کی مثال آج تک نہیں ملتی۔عجمی اور عربی،کالے اور گورے اور مفلس و نادار اور متمول کے درمیان کھڑی ساری فضیلتوں کی دیواریں  منہدم کر دیں ۔غلاموں اور عورتوں کے حقوق متعین کر دیئے گئے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھا م لینے پر گمراہی سے بچ جانے کا واضح درس دے دیا گیااور کیا ۔خوب فرمایا اللہ کے آخری نبی ﷺ نے کہ ’’آگاہ رہو جاہلیت کا ہر کام میں اپنے  اپنے دونوں قدموں نے نیچے دفن کر رہا ہوںـ‘‘سرکار دوجہاں ﷺ نے اسی عظیم اجتماع کے موقع پر یہ مژدہء روح فرسا بھی سنا دیا کہ ’’ اے لوگو ! بخدا مجھے علم نہیں کہ آ ج کے بعد میں اس جگہ تم سے مل سکوں گا یا نہیں‘‘۔آپ ﷺ نے کار نبوت  علمائے امت کے ذمہ لگا دیا ،امت نے اس وقت سے بار نبوت اٹھانے کا وعدہ کیا اور آج تک اپنے وعدے پر عمل پیرا  ہیں ۔ہاں مگر پندرہویں صدی ہجری تک پہنچتے پہنچتے تبدیلیوں کا ایک طوفان برپا ہو چکا۔ مسلمان اپنی طاقت اور حیثیت کے مطابق بھلائی کا پرچم اٹھائے رہے ،مگر معاشرتی سطح پر ہونے والے تغیرات کا اندازہ صحیح طور پر نہ لگایا گیا ۔
 
اصحاب صفہ کے چبوتروں پر بے سروسامان بیٹھے طلبا پر اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اولین ریاست پاکستان کے حکمرانوں نے دھیان نہ دھرا ۔کسی نے توشہ آخرت کے لئے جینے والوں کی دنیوی زندگی کو توجہ کے قابل نہ سمجھا ۔نانِ جویں کو ترستے ان طلبا کے شکموں میں بھوک اور تعصبات ایک ساتھ پلے۔
ہندوستان میں مولانا قاسم نانوتوی ؒ نے دارالعلوم دیو بند کی بنیاد رکھی ،مولانا رشید گنگوہی اور مولانا انور کاشمیر ی اور بیسیوں دیگر علماء نے اسے اپنے لہو سے سینچا۔ان کے بعد آنے والوں نے تقسیم کے بعد بھی اسے اجڑنے نہ دیا۔اس کے طلبا پر ہندو حکومتوں کی طرف سے کبھی دہشت گردی کا الزام نہیں لگا،لیکن لا الٰہ کے نام پر بنے پاکستان کی حکومتوں ہی نے یہاں کے مدارس کو دہشت گردی کے اڈے قرار دے کر لوگوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت کا بیج بویا۔ملاں اور مسٹر کے درمیان بے التفاتی کی دیوار کھڑی کر دی گئی۔مسٹر نے اپنے تعلیمی اداروں کے لئے دینی نصاب کو شجرِ ممنوعہ قرار دیدیا۔
محراب و منبر کے وارثوں نے غربت و افلاس کے مارے کچے ذہنوں والے طلبا کے دماغوں میں مسٹر کے خلاف نفرت کا زہر بھردیا۔اسکول ،کالجز اور یونیورسٹیز کو بڑی بڑی گرانٹوں کے ذریعے مضبوط و مستحکم کیا گیا۔مدارس کی خستہ حالی پر کسی کو ترس نہ آیا۔ صدقات و خیرات پر چلنے والے مدارس میں پڑھایا دین جاتا تھا مگر سکھایا تعصب اور تفرقہ جاتا۔امتیاز کی دیوار وقت کے ساتھ دبیز سے دبیزتر ہوتی چلی گئی۔لولہے ،لنگڑے اور معزور و بے آسرا اور افتادگان خاک کے بچے سرِ شام سروں پر تنکوں کی چنگیریں رکھے گھر گھر جا کر روٹیاں  اور رنگ برنگی سالن جمع کرتے ،جو رات کو بچ جاتا صبح ناشتے کے کام آتا ، دوپہر کا کھانا صدقات کی مد میں۔
پاکستان بنے نصف صدی گزر گئی ۔جبہ و دستار والے بزعم خود جنت کما کر سیاست کے میدان میں جا کھڑے ہوئے۔جو معروضی حالات پر نظر رکھتے تھے۔ انہوں نے کروٹ لی ،مسٹر کے تعلیمی نصاب کی مدارس میں گنجائش پیدا کی۔شہروں کی  دیواروں پر حفظ قرآن ،عصری علوم اور میٹرک کرانے کے بہت  ہی پرکشش اشتہارات کی بھرمار ہوئی جس نے مسٹرزکے دماغوں پر بھی دستک دی اور انہوں نے اپنے بچے دینی مدارس میں بھیجنے شروع کئے ۔دیو بند مسلک کے علماء نے اس روایت کے فروغ کے لئے حکومتوں سے گرانٹیں بھی منظور کرائیں۔ 
مولانا سمیع الحق ؒ نے خیبر پختون خواہ میں پی ٹی آئی حکومت کے تعاون سے یونیورسٹی کی سطح تک عصری علوم کے اجرا کی بنیاد رکھی۔وفاق المدارس کے مولانا حنیف جالندھری نے میٹرک سائنس ،آرٹس اور اولیول کے نصاب کو مضبوط کرنے کے لئے کوشاں ہیں ۔تنظیم المدارس بھی اس نظام کی پاسداری میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔اس حوالے سے مولانا طاہرالقادری نے بھی خاطر خواہ کام کیا ہے۔منہاج القرٓن جو لاہور کے علاوہ کہیں زیادہ بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکا،تاہم ان کی محنت رائیگانی نہیں ۔کراچی میں مفتی تقی عثمانی صاحب کا دارالعلوم کراچی جامعہ رشیدیہ بہت بڑی سطح پر دینی اور دنیوی خصوصاََ معیشت پر نادر کام کر رہے ہیں ،مولانا زاہدالراشدی کا اپنا ایک سٹائل ہے ،وہ شاہ ولی اللہ  اور مولانا عبیداللہ سندھی کے فکری وارث ہیں ۔ان کا بیٹا عمار جدید فکری مغلطوں کے ازالوں پر فکر انگیز کام انجام دے رہا ہے۔
بیس اگست کو آرمی چیف جنرمل قمر جاوید باجوہ نے دینی مدارس کے میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کے ساتھ وقت گزار کر اس امر پر مہر تصدیق ثبت کی کہ دینی ادارے بھی عصری علوم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے اور وہ دن دور نہیں جب اصحابِ صفہ کے چبوتروں سے اتر کر آنے والے یہ طلبا تمام شعبہ ہائے زندگی میں اپنا لوہا منوائیں گے۔ ان شاء اللہ

تازہ ترین خبریں