07:57 am
آزاد کشمیر کا اعلان آزادی یا انقلابی حکومت؟

آزاد کشمیر کا اعلان آزادی یا انقلابی حکومت؟

07:57 am

 آزاد جموں و کشمیر کے اعلان آزادی کی تجویز جنرل(ر)حمید گل مرحوم کی بھی پیش کردہ ہے ۔ جنرل صاحب سے متعدد بار بات چیت کا اتفاق ہوا۔ 2001ء میں ایک ملاقات ان کے گھر چکلالہ سکیم تھری میں ہوئی۔ ایک صحافی دوست کے ہمراہ ان کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت آزادی کا اعلان کرے اور پاکستان فوری طور اسے تسلیم کرے ، آزاد کشمیر کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لے۔ ان کے مطابق یہی مسئلہ کشمیر کا حل ہے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت سے آزادی دلانے واحد طریقہ بھی۔پاکستان کا آزاد کشمیر کے ساتھ دفاعی معاہدہ زبردست آپشن ہے۔ جس کے تحت آزاد کشمیر پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہو گا۔ پاکستان پر حملہ آزاد کشمیر پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اگر آزاد کشمیر کی اپنی فوج بنے تو یہ فوج فوری حرکت کرے گی۔ اگر آزاد کشمیر اسمبلی آزادی کی قرارداد میں آزاد کشمیر کو پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائیندہ قرار دینے کا بھی اعلان کرے تو اس کا مطلب ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر بھی حملہ پاکستان پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اس طرح پاکستان شاید قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی جارحیت  کا جواب دینے کی پوزیشن میں آجائے۔ 
آزاد جموں و کشمیرکی جانب سے آزادی کا اعلان یا جلا وطن حکومت یا انقلابی حکومت کے قیام کے آپشن پر ماضی میںدبے الفاظ میں بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے۔ تا ہم یہ بحث اس ایشو کو پاکستان کے مفادیا مخالفت کے خانوں میں ڈال کے ختم ہوجاتی رہی ۔ گفتگو نجی محفلوں سے کبھی باہر نہ نکل سکی۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور تقسیم کشمیر جیسی جغرافیائی تبدیلیوں کے بعد پاکستان میں یہ بحث از سر نو شروع ہوئی ہے۔  نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ دنیائے صحافت  کے شہسوار محمود شام نے بھی اس پر قلم اٹھایا ہے۔ جن کے مطابق اگر آزاد جموں و کشمیر کی اسمبلی اپنے آپ کو ایک آزاد اور خود مختار مملکت ہونے کی قرارداد پاس کر کے آزادی کا علان کر دے، پاکستان کی حکومت اسے فوراً تسلیم کرے اور دوست ممالک سے اسے تسلیم کروانے کی سفارتی مہم شروع کرے۔ ان کے بقول انہوں نے یہ سوال دسمبر 1972ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے ایک سال پورے ہونے پر صدر ذوالفقار علی بھٹو سے انٹرویو میں بھی کیاتھا  جس کا جواب بھٹو صاحب نے یوں دیا کہ اس آپشن کا ہر حکومت نے جائزہ لیا ہے لیکن بعد میں اس نتیجہ پر پہنچی کہ یہ بات اس کے حق میں نہیں جائے گی۔ لیکن انھوں نے یہ قطعی طور پر کہا تھا کہ کشمیریوں کو جب بھی رائے دہی کا حق ملا تو وہ بھارت کے لئے ووٹ نہیں دیں گے۔ ان کے لئے ہم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر بھی وہ ہمارے نعرے لگاتے ہیں۔ ہمارا پرچم بلند کرتے ہیں۔ 
’’مودی حکومت نے آرٹیکل 370اور 35اے ختم کر کے کشمیر کو متنازعہ علاقہ نہیں رہنے دیا تو جو علاقہ ہم آزاد کروا چکے ہیں۔ جہاں اپنا صدر ہے۔ اپنا وزیراعظم۔ اپنی سپریم کورٹ۔ اپنی اسمبلی۔ اپنا پرچم۔ اپنا الیکشن کمیشن۔ ہر اعتبار سے آزاد کشمیر خود مختار ہے  تو اس کا اعلان آزادی ایک طرف بھارت میں کھلبلی مچا سکتا ہے، دوسری طرف عالمی رائے عامہ کو متوجہ کر سکتا ہے۔ پاکستان وہاں اپنا سفارتخانہ قائم کرے۔ کشمیر کمیٹی اور وزارت امور کشمیر ختم کر دی جائے۔ آزاد کشمیر کا اپنا وزیر خارجہ ہو۔ چین یقینا اس حکومت کو تسلیم کرے گا۔ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اقوام متحدہ میں رکنیت کی درخواست دے۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم اسے اپنا رکن بنائے۔ مسلمان ملکوں پر زورد یا جائے کہ وہ آزد جموں و کشمیر کی حکومت کو تسلیم کریں۔ سری لنکا اسے تسلیم کرنے پر مائل ہو سکتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کے لئے سیٹیں خالی رکھی جائیں۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ اس سے سیاسی، سفارتی طور پر دنیا بھر میں ایک نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے اور کشمیر میں تحریک آزادی کو تقویت مل سکتی ہے۔ ’’تری جنت میں آئیں گے اک دن‘‘ کی تمنا بھی پوری ہو سکتی ہے۔  ‘‘
  آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اگر آزادی کی کوئی قرارداد منظور کرتی ہے اور پاکستان اسے تسلیم کر کے فوری دفاعی معاہدہ کر لیتا ہے تو  یہ بھارت کے لئے عالمی سطح پر ایک بڑا سفارتی دھچکا ہو گا۔ جنرل حمید گل جیسا دفاعی ماہر جو دنیا کی تحریکوں  سے باخبر رہا ہو، اگر مسئلہ کشمیر کا حل اسے تجویز میں بہتر سمجھتا ہے تو اس پر فوری اور سنجیدگی سے غور و خوض کی ضرورت ہو گی۔ بلا شبہ یہ بھارت کے لئے تاریخ کا ایک بڑا اپ سیٹ  ہو گا۔آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مقبوضہ وادی اور مقبوضہ جموں کی بھی نمائندگی ہے۔ مہاجرین مقیم پاکستان کے لئے مخصوص نشستیں ہیں۔ لداخ کی نمائیندگی نہیں۔  1989کے مہاجرین کی بھی نمائندگی نہیں۔لداخ کے  مہاجرین کو بھی نمائندگی دی جا سکتی ہے۔ گلگت بلتستان کا الگ سیٹ اپ ہے۔ بھارت کبھی کشمیر کو اپنا اندرونی اور کبھی دوطرفہ مسئلہ قرار دے کر دنیا کو دھوکا دے رہا ہے۔ 73سال سے بھارت کی یہی حکمت عملی رہی ہے۔ جب پاکستان مسئلہ کشمیر حل کرنے کی بات کرتا ہے تو بھارت کہتا ہے کہ یہ اندرونی یا داخلی مسئلہ ہے۔ جب دنیا کہتی ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کریں تو بھارت کہتا ہے کہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان  دو طرفہ مسئلہ ہے۔  پاکستان بھی ہمیشہ بھارت کی اس چال نما سازش کا بخوشی شکار ہوتا رہا ہے۔ پاکستان بھی بھارت کے اس جال سے کبھی باہر نہ نکل سکا۔ یا اس نے نکلنے کی کوشش ہی نہ کی۔ متبادل بہترین آپشنز پر توجہ نہ دی۔
 اگر آزاد کشمیر اسمبلی کی آزادی کا اعلان جیسی قرارداد منظور ہوتی ہے تب بھی مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہو گی‘بلکہ یہ تنازعہ نئے سرے سے ابھر کر دنیا کے سامنے آ جائے گا۔ تب کشمیری جاندار طریقے سے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں پورے جموں و کشمیرمیں سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کا مضبوطی سے مطالبہ کر سکیں گے۔ دنیا کشمیریوں کے اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور ہو گی۔ 

تازہ ترین خبریں