07:57 am
نئے غزنوی میزائل کا کامیاب تجربہ!

نئے غزنوی میزائل کا کامیاب تجربہ!

07:57 am

٭ دشمن کے میزائلوں کو راستے میں تباہ کرنے والے غزنوی میزائل کا کامیاب تجربہ! ہر قسم کے ہتھیار لے کر 290 کلو میٹر تک مار کر سکتا ہے!Oآج یوم یک جہتی کشمیر!O ن لیگ کے مقدمات تینوں جج تبدیلO گیس کمپنیوں کو عوام سے وصول کئے جانے والے 208 ارب روپے معاف، صدارتی حکمO اقوام متحدہ کو وزیرخارجہ کا چوتھا مراسلہO ہزارہ ایکسپریس ٹرین بریک ٹوٹ گئیO ایران گیس کا نیا معاہدہO آصف زرداری ہسپتال منتقلO کراچی: کچرا صاف نہیں کر سکتے:وزیراعلیٰO نوازشریف کی صحت بالکل ٹھیک ہے، جیل حکامO تھائی لینڈ، وزیراعظم، پوری کابینہ عدالت میں حاضرO مقبوضہ کشمیر، جنازوں پر پابندیO ٹرین سے سات مسروقہ موٹر سائیکل برآمدO اکتوبر نومبر میں جنگ ہو گی: شیخ رشید۔
 
٭آج، بروز جمعہ، پھر یوم یک جہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ ساڑھے بارہ بجے بگل بجیں گے، کشمیر کی آزادی کے ترانے گائے جائیں گے اور لوگ گھروںاور دفتروں سے باہر نکل کر کشمیر کی آزادی کے نعرے لگائیں گے، دعائیں مانگیں گے۔ یہ عمل ہر جمعہ کے روز دہرایا جائے گا۔
٭شہنشاہانہ دور! ن لیگ کے مرکزی رہنمائوں شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز اور رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمات سننے والے لاہور کی تین خصوصی عدالتوں کے جج مسعود ارشد، محمد نعیم اور مشتاق الٰہی کو اچانک اس وقت تبدیل کر دیا گیاجب وہ ان لوگوں کے مقدمات سن رہے تھے۔ اٹارنی جنرل انور منصور کے مطابق تبادلوں کے احکام دو دن پہلے جاری ہو چکے تھے مگر اعلان اب ہوا۔ مختلف ذرائع کے مطابق حکومت کو ان ججوں کی کارروائی پسند نہیں آ رہی تھی۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی جج کو مقدمہ کی سماعت کے دوران تبدیلی کا حکم سنایا گیا۔ جج مسعود ارشد، رانا ثناء اللہ کیس کی سماعت کر رہے تھے، اچانک انہوں نے کہا کہ مجھے فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے اس لئے اب کیس کی سماعت نہیں کر سکتا۔ اس پر وہاں موجود لیگی وکلا نے ہنگامہ کر دیا۔ جج نے کہا کہ مجھے ابھی واٹس ایپ پر تبادلے کا حکم موصول ہوا ہے۔ یہی صورت حال شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شریف کے خلاف کیس سننے والے جج محمد نعیم ارشد اور نیب کے کیس سننے والے جج مشتاق الٰہی کے ساتھ پیش آئی۔ ان ججوں کو لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی وزارت انصاف و قانون کی درخواست پر بھیجا تھا۔ جج مسعود ارشد کی تین سالہ مدت سات فروری 2020ء کو ختم ہونا تھی۔ دوسرے ججوں کی بھی ایسی ہی صورت حال تھی۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو پتہ چلا کہ جج مسعود ارشد کا تعلق ن لیگ سے رہا ہے۔ اور خدشہ تھا کہ وہ حکومت کی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں سنائے گا۔ دوسرے ججوں کے بارے میں بھی حکومت کو ایسی ہی اطلاعات ملی تھیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اٹارنی جنرل انور منصور کے مطابق ان ججوں کو ہٹانے کا فیصلہ اچانک نہیں ہوا بلکہ دوروز پہلے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا تھا۔ یہ بات اوربھی تعجب انگیز اور پراسرار ہے کہ یہ حکم دو دن تک کیوں روکے رکھا گیا؟ اور خاص ڈرامائی انداز میں تیسرے دن عین اس وقت پر واٹس ایپ پر کیوں بھیجا گیا؟ کیا اس شاہانہ مزاج کا مظاہرہ مطلوب تھا کہ حکومت کی درخواست پر آنے والے جج حکومت کے ماتحت اور اس کی خواہشات کے فرماں بردار ہونے چاہئیں؟ یہ تین جج پسند نہیں تھے تو آنے والے تین نئے جج کیا وفاداری کا حلف اٹھا کر آئیں گے؟ ملک پہلے ہی مختلف انداز سے انتشار اور بے چینی کا شکار ہے۔ دشمن سر پر کھڑا ہے۔ حکومت کا ہی ایک وزیر انتباہ کر رہا ہے کہ اکتوبر نومبر میں بھارت سے جنگ ہونے والی ہے (اس کو ٹائمز آف انڈیا نے شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے) اور عدالتوں میں ڈرامائی اکھاڑ بچھاڑ کی جا رہی ہے۔ آئینی شرائط کو نظر انداز کر کے محض صدارتی احکام کے ذریعے الیکشن کمیشن کے پسندیدہ ارکان بھرتی کر لئے جاتے ہیں! کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ تین ’ناپسندیدہ‘ جج اچانک تبدیل کئے جانے کا بیرون ملک کیا تاثر جا رہا ہے؟ کسی کو یہ جاننے، سننے کی ضرورت ہی نہیں! اب جو نئے جج آئیں گے، کیسے غیر جانبدار تسلیم کئے جائیں گے۔ پرانی کہاوت ہے کہ ’اشرفیاں لُٹیں، کوئلوں پر قبر‘۔ افغانستان پر حکمران ایک شخص بچہ سقہ نے خزانہ خالی ملنے پر سونے کے کیلوں والے چمڑے کے سکے چلا دیئے تھے؟ کیا وہی دور آ رہا ہے؟
٭کراچی کے پونے دو کروڑ باشندے زندہ درگور! وزیراعلیٰ سندھ نے کھلا اعلان کر دیا ہے کہ حکومت شہر کو کچرے سے صاف نہیں کر سکتی! نااہلی اور کیا ہوتی ہے؟ مفلوک الحال لاکھوں شہری غلیظ کچرے کی تعفن کی زد میں ہیں، ہسپتال مریضوں سے بھر رہے ہیں، پانی نہ بجلی، سڑکیں کھنڈر! تو پھر حکومت کیا کام کر رہی ہے؟ باپ کو جیل میں تڑپتا چھوڑ کر گلگت بلتستان میں تفریحی پک نک منانے والے شہزادے کو 40,35 گاڑیوں کا پروٹوکول اپنے اور وفاقی حکومت کو ہر وقت دھتکارنے کے سوا سندھ حکومت کے پاس اور کیا کام ہے۔ کراچی شہر کا میئر کھیل تماشوں میں مصروف ہے۔ اپنی نااہلی کا بوجھ ایک سابق میئر کے کندھوں پر ڈالنے کا اور پھر واپس لے لینے کا تمسخرانہ تماشا! اور سابق میئر! اپنے وقار، عزت و آبرو، نہ پارٹی کی سربراہی کا کچھ خیال! موجودہ میئر نے نوکری پیش کی تو بھاگ پڑے، سارے افسر بلال لئے، کوئی نہ آیا، ساتھ ہی نوکری سے برخاست! یہ پاکستان کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ بدنصیب شہر کا عالم ہے! چھ سال سے موجود ایک وزیراعلیٰ، وزیروں، مشیروں، خصوصی معاونوں کی فوج ظفر موج، جو صرف اسمبلی میں مخالفین سے چومکھی لڑائی لڑتے وقت دیکھی جاتی ہے! سب کے سب کروڑ پتی وڈیرے، جاگیر دار، نواب، کسی کو پتہ ہی نہیں عوام کس حال میں ہیں! ان کا وزیراعلیٰ کہ رہا ہے کہ کراچی کے سنگین ترین مسئلے سے اس کی حکومت کا کوئی تعلق ہی نہیں! میں مقبوضہ کشمیر کا نوحہ لکھوں یا کراچی کی بدنصیبی پر دُکھ بھری داستانیںبیان کرتا رہوں؟ الاَمان!
٭ایک شائع شدہ مختصر خبر دیکھیں، زندہ قوموں کا رویہ کیا ہوتا ہے۔ تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں ایک طالب علم نے عدالت میں درخواست دی کہ وزیراعظم ’یوتھ چان اوچا‘ اور کابینہ نے حلف اٹھاتے وقت حلف کی ایک سطر نہیں پڑھی، اس طرح حلف پورا نہیں ہوا اور کابینہ غیر قانونی ہے۔ عدالت کے حکم پر وزیراعظم اور پوری کابینہ عدالت میں پیش ہو گئی۔ عدالت کے سامنے مکمل حلف پڑھا اور جان چھڑائی! قارئین اندازہ لگا لیں کہ میں اور کیا کہنا چاہتا ہوں!
٭ایک بات لکھنا روز بھول جاتا ہوں، پہلے اسے لکھ لوں۔ ایک بہت سینئر صحافی اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ’’میں چودھری شجاعت حسین کے پاس گیا اور مشورہ دیا کہ فرزند اقبال جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال کو اپنی پارٹی (ق) لیگ کی طرف سے سینٹ کا رکن نامزد کر دیں۔ چودھری صاحب نے جواب دیا کہ ’’نہیں جی نہیں! سیاست میں زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کو نہیں لانا چاہئے، حکم ماننے کی بجائے، بحث کرنے اور اپنے مشورے دینے لگتے ہیں‘‘ (چودھری شجاعت حسین، بی اے، وفاقی وزیر اطلاعات، داخلہ، محنت اور عبوری وزیراعظم!)
٭مقبوضہ کشمیر میں شہداء کے جنازوں میں شرکت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ پوری ریاست میں پولیس کو غیر مسلح کر کے ہتھیار رکھوا لئے گئے ہیں۔ پولیس اس پر سخت ناراض ہو گئی ہے اس کے دو بڑے افسروں کا بی بی سی سے بیان آ رہاہے کہ پولیس کو تو فوج کے کلرک بنا دیا گیا ہے۔ فوج کا معمولی افسر بھی پولیس کے بڑے افسروں سے یوں مخاطب ہوتا ہے جیسے اپنے کسی اردلی سے بات کر رہا ہوں!
٭ممبئی: پولیس نے ایک شخص ’’گان سلیوا‘‘ کو اس الزام میں گرفتار کر لیا کہ اس گھر میں مشہور ادیب ٹالسٹائی کی کتاب ’’وار اینڈ پیس‘‘ کیوں رکھی ہوئی ہے۔؟ہائی کورٹ کے جج جسٹس ’سارنگ کوتوال‘ نے بھی اسے قابل مواخذہ الزام قرار دیا ہے۔

تازہ ترین خبریں