08:19 am
حرص بمقابلہ قناعت و توکل

حرص بمقابلہ قناعت و توکل

08:19 am

انسان میں حرص کا ایک پہلو ہے۔کچھ مل گیا تو اس سے مطمئن نہیں کہ اس سے اس کی ضروریات پوری ہوجائیں گی۔دلوں میں قناعت نہیں ہے۔زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی لالچ انسان کے دل میں یہ خیال پیدا کرتی ہے کہ فلاں شے دوسرے کو کیوں ملی مجھے کیوں نہیں ملی؟یہ اس کی کمزوری کا مظہر ہے۔جو لوگ اس جی کی لالچ سے بچالئے گئے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس بیماری سے پاک کردیا، کامیابی تک پہنچنے والے یہی لوگ ہیں۔اس کے مقابلے میں قناعت،صبر و توکل کا جذبہ ہے۔حرص رذائل اخلاق میں سے ہے۔آپ دیکھیں گے کہ دنیا میں حرص کس بناء پر ہوتا ہے۔انسان اپنے جائز حقوق پر قناعت نہیں کرتا۔زیادہ سے زیادہ کے حصول کے لئے وہ ناجائز راستے بھی اختیار کرتا ہے۔دنیا میں جو جھگڑے، قتل و غارت گری اور فساد ہے وہ زر، زن یا زمین کے حصول کیلئے ہے۔کچھ چیزوں کی محبت اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں رکھ دی ہے اور وہ ان کے حرص میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔اس کو کوئی شے پھر روک نہیں سکتی ۔اس کو اگر روکنے والی کوئی شے ہے تو وہ تصور آخرت ہے۔اللہ پر ایمان اور اس کا تقویٰ کہ اس نے مجھے ان باتوں سے روکا ہے اور اپنے انجام کا خیال کہ انجام کار کے اعتبار سے کہ خواہش نفس کے اپنے تقاضے ہیں لیکن مجھے اپنے نفس کو لگام دینی ہے چنانچہ سورہ تکاثر میں یہی بات بیان کی گئی کہ تمہیں کثرت کی طلب نے غافل کئے رکھا یہاں تک کہ قبر تک پہنچ گئے۔حضور ﷺ کی بڑی پیاری حدیث ہے جس کے راوی حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ ہیں ۔
 
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تووہ لازماًچاہے گا کہ ا یسی تیسری وادی بھی مجھے مل جائے حالانکہ یہ دووادیاں بھی اس کی سات نسلوں کے لئے کافی ہوںگی۔ابن آدم کے پیٹ کو کوئی شے نہیں بھر سکتی سوائے قبر کی مٹی کے۔قبر میں پائوں لٹکائے بیٹھا ہے لیکن کثرت کی طلب ختم نہیں ہوتی۔وصیت میں یہی باتیں درج کی جاتی ہیں کہ کاروبار کو کون اور کیسے چلائے گا۔آگے فرمایا کہ کوئی نہیں جلد ہی جان لوگے ۔ ایمان بالآخرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سمجھیں کہ اصل زندگی تو وہ ہے، یہ دنیا تو صرف ایک عارضی قیام گاہ ہے۔یہ امتحان گاہ ہے جس میں ہمیںجتنا عرصہ رہنا ہے اس کے لئے اللہ نے سامان فراہم کردیا ہے تاکہ اس سے استفادہ کیا جائے۔اپنی آخرت کو جوہماری منزل ہے ، بنانے کی فکر کرنی ہے۔اگر ہمیں کچھ جمع کرنا ہے تو وہاں کی زندگی کے لئے کہ اصل زندگی تو ہے ہی آخرت کی زندگی لیکن ایمان بالآخرت ہمارے دماغ کے ایک گوشے میں ایک پوٹلی میں بندھا رہ جاتا ہے۔اس کا ہماری عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں رہتا ۔ہمارا ایمان دنیا اور دولت دنیا ہے۔اسی طرح سورہ ہمزہ میں فرمایا کہ خرابی و بربادی ہو طعنہ زنی کرنے والے اور چغلی کھانے والے کی۔مال جمع کرتا اور گن گن کر رکھتا ہے۔یہ ایک ذہنیت ہے جسے قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔اسی قرآن میں کہا گیا ہے کہ اس میں تمہارا ذکر موجود ہے۔ہر قسم کی شخصیتوں اور طبائع کا خاکہ قرآن میں کہیں نہ کہیں مل جائے گا۔ہر شخص اس آئینے میں اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے ۔
دنیا کی دلچسپیاں عارضی ہیں لیکن ساتھ ہی بتادیا گیا ہے جن چیزوں کی محبت اللہ نے د ی ہے کہ اگر اس تھوڑے سے امتحانی وقفے میں ان میں اپنے آپ کو تھام کر رکھوگے اور بقدر ضرورت ان سے استفادہ کروگے تو اس کا انعام بہت بڑا ہے لیکن اگر انہی چیزوں کے پیچھے پڑگئے تو انجام بہت خطرناک ہے۔ایک طرف رب کی رضا ہے تو دوسری جانب نفس کی خواہشات ہیں جن کی طلب بڑھتی چلی جاتی ہے۔اسی میں تو امتحان ہے۔سورہ آل عمران میں ان چیزوں کا ذکر ہے جن کی محبت انسان کے دل میں رکھ دی گئی ہے۔فرمایا کہ انسانو ں کے لئے مزین کردی گئی ہے خواہشات کی محبت جواس کے نفس میں راسخ ہیں۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں