08:20 am
مدت اقتدار عمران خان پانچ یا دس سال؟

مدت اقتدار عمران خان پانچ یا دس سال؟

08:20 am

ریلوے وزارت چلانے کی بجائے شیخ رشید احمد پیش گوئیوں اور مبشرات و تقدیر و تدبیرات کے معاملات پر اکثر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ سب کو ہی معلوم ہے کہ ان کا اکثر سیاست دانوں ہی کی طرح نجومیوں اور پامسٹوں سے رابطہ رہتا ہے ماضی میں وہ پی سی راولپنڈی میں جاکر ایک بزرگ ماہر نجوم پروفیسر کو اکثر ملتے تھے۔ پامسٹ ہاشمی مرحوم سے رابطے میں رہتے تھے۔ اکتوبر، نومبر، دسمبر میں جنگ کی باتیں بھی انہوںنے ایک نجومی سے ہی پوچھ کر کی ہونگی۔ مشورہ ہے ریلوے وزارت کسی غیر معروف رکن اسمبلی کو دے دیں اور شیخ رشید کو وزیر بے محکمہ بناکر پیش گوئیوں کے کام پر لگا دیں۔ وہ اس کام میں بہت خوش رہیں گے۔ یوں وہ ہندو نجومیوں کے مدمقابل مسلمان نجومیوں کے لشکر کی قیادت کریںگے۔
 
مجھے ایک بزرگ ماہر نجوم نے چند دن پہلے بتایا تھا کہ نواز شریف کو ایک ڈیڑھ ماہ کے لئے سہولتیں میسر آسکتی ہیں مگر صرف چند ہفتوں کے لئے۔ وہ لاہور کے ماہر نجوم اور روحانی عامل جن سے جنرل مشرف اکثر مشورہ کرتے تھے۔ ایک سنڈے میگزین میں ہفتہ وار نجوم کالم بھی لکھتے ہیں۔ ان کے مطابق شیخ رشید کی باتوں میں جھوٹ بہت زیادہ اور حقیقت بہت کم ہوتی ہے۔ یہ بات میں انہی کے کہنے پر لکھ رہا ہوں کہ شیخ رشید کو کچھ مہذب بنایا جاسکے۔
وزیراعظم عمران خان کتنے بد قسمت ہیں کہ اقتدار تو ملا مگر ساتھ ہی جذباتی اور خود نمائی کرنے والے بھی جہیز میں ملے جو عمران کو نیست و نابود کرتے رہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن اکتوبر میں موجودہ حکومت کو نیست و نابود کرنے پر کمربستہ ہیں۔ انہیں حکومت انہدام کے اپنے مشن میں اتنا زیادہ انہماک اور ایقان ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے دگرگوں حالات اور بھارت پاک جنگی صورتحال بھی انہیں دکھائی نہیں دیتی۔ وہ صرف عمران خان کے اقتدار کو نیست و نابود کرنے کی دینی مہم جوئی میں مصروف ہیں بلکہ و ہ تو دینی مدارس کو بھی عمران خان کے ذاتی انہدام کے مقدس جہادی مشن میں اتنا زیادہ استعمال کرنا چاہتے ہیں کہ بالآخر عمران خان وزارت عظمیٰ سے خود ہی الگ ہو جائیں یوں تحریک انصاف کا دوسرا بندہ (شاہ محمود قریشی)؟ وزیراعظم بن جائے مگر مولانا دو ٹوک قومی اسمبلی کی تحلیل کا ہرگز مطالبہ نہیں کرتے کیونکہ عددی اکثریت مولانا کی پارٹی کو قومی اسمبلی میں حاصل نہیں بلکہ اپوزیشن کی عددی اکثریت تو مسلم لیگ اور پی پی پی کو حاصل ہے جبکہ تحلیل اسمبلی کی صورت میں بڑی پارٹیوں پی پی پی اور مسلم لیگ کو کیا ملے گا؟ تحلیل کی صورت میں مستقبل قریب میں ہرگز ہرگز نئے انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں ہوگا بلکہ ’’وار کابینہ‘‘ والی ایسی مضبوط حکومت بنے گی جس کا سربراہ بھی پھر سے عمران خان ہی ہوگا۔ سابق صدر زرداری اگلے تین چار ماہ میں تمام بڑی پارٹیوں کی مشاورت سے قومی حکومت کی تشکیل کی پیش گوئی کرچکے ہیں۔ وہ اس پیش گوئی سے پہلے راولپنڈی کا موسم بدلنے (نیا آرمی چیف آنے) کی بات کرتے رہے مگر عمران خان نے ’’ترپ‘‘ کا پتہ استعمال کرتے ہوئے فوراً آرمی چیف کی مدت میں تین سالہ توسیع کرکے آصف زرداری کی راولپنڈی کا موسم تبدیل ہونے کی خود ساختہ پیش گوئی کو کالعدم کر دیا ہے۔ اب جنرل قمر جاوید باجوہ ہی اگلے تین سال کے لئے 28نومبر کے بعد بھی آرمی چیف رہیں گے۔ میرے وجدان کے مطابق وہ15 نومبر سے بہت زیادہ بے لچک، سخت بے رحم ہو جائیں گے کہ وہ سکارپیو ہیں یہی وقت شریف خاندان اور زرداری کے لئے زیادہ سخت ہوسکتا ہے۔ مولانا جو ماضی کے اقتدار میںرہ کر لذت حاصل کرتے رہے ہیں اس کا حساب کتاب بھی کسی نیب عدالت یا اڈیالہ جیل میں شروع ہوسکتا ہے جبکہ معطل شدہ برطانوی اسمبلی کی طرح اکتوبر میں قومی اسمبلی معطل ہو جائے بشرطیکہ پی پی پی اور ن لیگ بھی مولانا فضل الرحمن کی حکومت انہدام تحریک میں سچ مچ سڑکوں پر جنگ و جدل کا ماحول پیدا کر دیں تو پھر برطانیہ کی طرح اکتوبر، نومبر میں صرف اسمبلی نہیں بلکہ پوری پارلیمنٹ، قومی اسمبلی و سینٹ معطل ہوسکتی ہے اگر جنگی بڑی جھڑپ بھی اکتوبر کے پہلے ہفتے یا آخری دس دنوں میں عملاً ہوگئی تو بھی سینٹ و قومی اسمبلی کو فریز یعنی معطل کرنا اور مارشل لاء نما ایمرجنسی کا نفاذ کافی حد تک ممکن ہوسکتاہے کہ میں فوج کو اس عرصے میں بہت زیادہ دبائو میں دیکھ رہا ہوں۔معطل پارلیمنٹ کی اس حالت میں بھی وزیراعظم تو عمران خان ہی رہیں گے البتہ سینٹ و قومی اسمبلی فریز یعنی معطل ہونے کے ساتھ ہی نئی جنگی کابینہ بھی بن سکتی ہے۔ اگلے تین چار ماہ یعنی جنوری2020ء تک اگر پارلیمنٹ معطل رہتی ہے اور عمران خان ’’وار کابینہ‘‘ بناکر موجودہ کچھ خود غرض، بے کار اور خود نمائی کے شدید مرض میں مبتلا اراکین کابینہ سے بھی نجات حاصل کرلیتے ہیں تو عمران کا بہت زیادہ مشکل سیاسی وقت یعنی پل صراط کا خطرناک سفر بھی محفوظ طریقے سے ہوسکتاہے۔ یہ بات پی پی پی، ن لیگ کے سوچنے کی ہے کہ وہ اکتوبر میں مولانا کی عمران خان مخالف مذہبی مقدس جہادی تحریک کا ایندھن بن کر سینٹ و قومی اسمبلی کی معطلی کا تحفہ پسند کرتے ہیں یا نہیں؟ 
یاد رہے جب 12 اکتوبر 1999 ء کو جنرل مشرف نے نواز شریف کو اقتدار سے محروم کرکے خود کو چیف ایگزیکٹو بنایا تھا تواسمبلی معطل ہوگئی تھی اور ن لیگ میں بعد ازاں بغاوت ہوگئی تھی۔ شریف خاندان سے چوہدری خاندان کی طرح بہت سے لیگی الگ ہوگئے تھے،انہی کا نام ق لیگ بنا تھا۔اگر عمران خان اکتوبر،نومبر کے دو بہت سخت مہینے برطانوی وزیراعظم کی طرح کے سیاسی طریقے کو استعمال کرکے گزار لیتے ہیں تو ان کا پانچ سالہ اقتدار تو مکمل محفوظ ہوگا۔ لاہور میں مقیم روحانی وجدان والے بزرگ تو مدت سے کہتے ہیں کہ عمران خان کے موجودہ اقتدار کی کم از کم مدت ساڑھے چار سال ہے اور وہ اسمبلی کی تحلیل بھی خود اپنی مرضی کے ساتھ کسی ایسے وقت میں کریں گے جب اپوزیشن سیاسی طور پر نیست و نابود ہو جائے گی۔ ان کے مطابق نومبر،دسمبر میں اپوزیشن بہت کمزور ہوگی۔جنرل مشرف کے ماضی کے نجومی اور روحانی بزرگ (رہنے والے لاہور ہی کے) دوست بھی عمران خان کو پانچ سال تک محفوظ وزیراعظم کہتے ہیں البتہ ان کی زندگی کی بہت حفاظت کرنا ہوگی اور بقول پروفیسر غنی جن سے اقتدار سے پہلے عمران خان اکثر ملتے رہتے تھے کا مشورہ ہے کہ وہ معالجین سے بھی رابطے میں رہیں۔

تازہ ترین خبریں