08:23 am
داستانِ گلاب

داستانِ گلاب

08:23 am

پچھلی سات دہائیوں سے زائدکشمیری عالمی ضمیر کو جگانے کی کوشش کررہے ہیں بالخصوص پچھلے دو عشر و ں سے آزادی کی تحریک میں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں نے اپنی جان کی قربانی دیکرآزادی حاصل کرنے کاعزم پوری آب وتاب سے جاری وساری رکھاہواہے۔بھارتی ظلم وستم اورجبری تسلط کے خلاف کچھ دیرکیلئے یہ تحریک مسلح جدوجہد کی صورت میں بھی جاری رہی لیکن اب تک بھارت نے کشمیرمیں ظلم وستم کاوہ بازارگرم کررکھاہے جس سے پوری مہذب دنیابھی آگاہ ہے لیکن اب تک کسی بھی عالمی ادارے کو بھارت کواس بہیمانہ ظلم وستم روکنے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھانے کی توفیق نہیں ہوئی۔اگر کسی انسانی ہمدردی کے ادارے نے کشمیرکے معاملے میں کسی دلچسپی کااظہاربھی کیا تودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کانعرہ لگانے والی بھارتی سرکارنے کشمیرتک رسائی دینے سے صاف انکار کر دیا لیکن اس کے باوجود کشمیرمیں ہونے والے ظلم وستم کی داستانیں اکثرعالمی ضمیرکو جھنجھوڑتی رہتی ہیں۔
 
8برس قبل بعض مشروط پابندیوں کے ساتھ بھارت نے یورپی یونین کے ایک وفدکوبھولے سے کشمیرجانے کی اجازت دیدی تواس وفدنے محدود وقت اوربے شمارپابندیوں کے باوجودجو70صفحات پرمشتمل ایک چشم کشارپورٹ مرتب کی اس کاحاصل اک جملہ یہ بھی تھاکہ’’کشمیردنیاکی خوبصورت ترین جیل ہے‘‘۔ 18سے 24مئی2011 ء کو ایمنسٹی انٹرنیشنل کے چاررکنی وفدنے بکرم جیت باتراکی سربراہی میں وادی کے سیاسی،غیرسیاسی اورسول سوسائٹی کے کئی افراد سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ کئی دوسرے آزادذرائع سے معلومات حاصل کیں۔اس رپورٹ کے باضابطہ اجراء کیلئے ایمنسٹی کے اس وفدنے دوبارہ سرینگرکا دورہ کیااوراپنی پریس کانفرنس میں اس رپورٹ کوایک کتابی شکل میں کشمیری عوام اورذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے پیش کیا ۔
حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے لیڈروں سیدعلی گیلانی،میرواعظ عمرفاروق کے علاوہ دیگر کشمیری لیڈروں شبیراحمد شاہ،لبریشن فرنٹ کے ملک یاسین اور نعیم خان نے اس رپورٹ کازبردست خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی برادری کواس کانوٹس لینے کی اپیل بھی کی۔اس رپورٹ کے حقائق کوکشمیرکے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ بھی جھٹلانے کی ہمت نہ کرسکے اورکچھ تحفظات کے ساتھ اس رپورٹ کی روشنی میں کچھ اصلاحی اقدامات اٹھانے اوراس کوردی کی ٹوکری میں نہ پھینکنے کاسیاسی وعدہ کئے بغیرنہ رہ سکے لیکن ’’وہ وعدہ ہی کیاجووفاہوگیا ‘‘ کے مصداق اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی جبکہ اس رپورٹ کے بعددرجن سے زائدرپورٹس بھی منظرعام پرآچکی ہیں۔
اس 70صفحات کی رپورٹ میں کشمیریوں کی حالِ زارکاجونوحہ بیان کیاگیااس میں سرِفہرست’’پبلک سیفٹی ایکٹ‘‘جیسے ظالمانہ قانون کوہدفِ تنقید بنایاگیاتھاجس کوخود بھارتی سپریم کورٹ کالاقانون قراردے چکی ہے۔اس رپورٹ میں بھارتی حکومت کے ساتھ عدلیہ کوبھی برابرکاقصورواراورشریک مجرم قراردیاگیا۔انہی ظالمانہ قوانین کی بناپرحکومت عدلیہ کے کسی بھی فیصلے اورکسی بھی حکم کونہ صرف نظرانداز کردیتی ہے بلکہ بعض معاملات میں عدلیہ کے فیصلوں کی کھلم کھلا دھجیاں اڑائی گئیں اورکئی مقدمات میں عدلیہ کوناکامی کاسامنا کرناپڑا۔زمینی حقائق تویہ ہیں کہ سیکورٹی وانٹیلی جنس ادارے اورپولیس خودکو قانون سے بالاترسمجھتے ہوئے نہ صرف عدلیہ کے فیصلوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے بلکہ اب توان کے جاری مظالم کو روکنے والاکوئی ایساآہنی ہاتھ موجودہی نہیں جوان کو کشمیری عوام پرغیرقانونی ظلم وستم روارکھنے سے روک سکے۔
پبلک سیفٹی ایکٹ جوکہ بین الاقوامی قانون کی صریحاًخلاف ورزی ہے اورخود بھارت کی اعلیٰ عدالتیں بھی اس کوکالا قانون قراردے چکی ہیں لیکن اس کے باوجوداس قانون کاپہلے سے کہیں زیادہ بے ہنگم استعمال ہورہاہے۔دنیاکاکوئی قانون معصوم بچوں پرظلم وستم روارکھنے کی اجازت نہیں دیتالیکن کشمیرمیں ہزاروں نابالغ بچے اس کالے قانون کے تحت نظربند ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی کئی رپورٹس میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس کی تصدیق کردی ہے کہ اس کالے قانون کے نام پرلاقانونیت کابازارگرم ہے۔پہلی رپورٹ میں صرف2003ء سے لیکر2010ء تک کے ان مقدمات کا جائزہ لیاگیا جواس کالے قانون کے تحت درج کئے گئے۔اس تحقیق سے پتہ چلا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے ظالمانہ قانون کے تحت انسانی حقوق کی زبردست پامالی کی گئی اوراس عرصے میں اس وحشیانہ قانون کے تحت آٹھ ہزار سے زائدلوگوں کوقیدکیاگیاجبکہ صرف جنوری 2010 ء سے لیکر31دسمبر 2010ء کے آخرتک 322افرادکو گرفتارکرکے بے پناہ اذیتوں سے دوچارکیاگیا۔اس رپورٹ میں مزیدیہ انکشاف بھی کیاگیاکہ اس انسانیت سوزقانون کے تحت جن افرادکو گرفتار کیاگیا،انہیں نہ توفوری طورپرگرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیاگیااورنہ ہی ان کواپنی صفائی کیلئے کسی قانونی امدادکی سہولت فراہم کی گئی۔ایک طرف توریاست کے عسکری ادارے نے اس بات کا اعتراف کیاکہ اب وادی میں کوئی جنگجوسرگرم نہیں اوردوسری طرف دس لاکھ فوج کے علاوہ سیکورٹی اورانٹیلی جنس اداروں کی بھرمارنے ہرکشمیری مردو زن اوربچوں کودنیاکی اس خوبصورت جیل میں ہراساں کرنے کاکام جاری رکھا ہواہے۔اس قانون کے تحت جہاں آزادی پسند قیادت کی پہلی اوردوسری صف کے رہنماؤں کوجیل میں رکھ کران کی آوازکودبایاجارہاہے وہاں مجبورومقہور بوڑھے مردوزن اوربچے بھی اس قانون کی دسترس سے محفوظ نہیں۔اپنے بنیادی انسانی حقوق کامطالبہ کرنے والے مظاہرین کوبھی اسی غیرقانونی قانون کے تحت انتقام کانشانہ بنایاجارہا ہے۔
رپورٹ میں دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کادم بھرنے والی بھارتی سرکارکے چہرے سے یہ نقاب بھی اٹھایاگیاکہ کشمیرمیں حکومتی ادارے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار افراد کوعدالت میں مجرم ثابت کرنے اورانہیں سزادلوانے کی بجائے ان بےگناہ افرادکوجیلوں میں بندرکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اوران مبینہ قوانین کے تحت متوازی ظالمانہ فوجداری نظام چلایاجارہاہے۔رپورٹ میں اس ظالمانہ قانون،انتظامی حراست کوفوری منسوخ کرنے، نظربندیوں پرفوری باقاعدہ فردِجرم عائدکرنے، مجسٹریٹ کے سامنے فوری پیشی کویقینی بنانے،اسیروں کیلئے قانونی مشورے،طبی معائنے کی سہولت اورعزیز واقارب کے ساتھ رابطے میں سہولت کی فراہمی کویقینی بنانے کامطالبہ کیاگیا۔رپورٹ میں کئی اور سفارشات کوبھی شامل کیاگیاجس میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اقوام متحدہ کے خصوصی اداروں کی رسائی کویقینی بنایاجائے اورانسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس برائے ایذارسانی اورورکنگ گروپ برائے غیرقانونی گرفتاری کی سفارشات کابھی فوری جائزہ لیاجائے۔
دوسری طرف اب بھارت نے کشمیرمیں جہاں مزیددولاکھ فوج کااضافہ کردیاہے وہاں بھارتی فوجیوں کو کشمیری زبان سکھانے کاعمل محض اس لئے شروع کر دیاگیاکہ ڈوگرہ سرٹیفکیٹ کے تحت ان کوکشمیری شہریت دیکروادی میں آبادی کاتوازن تبدیل کرکے مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کردیا جائےتاکہ وادی کومستقل طورپرمذہبی بنیادپرتقسیم کردیا جائے اور مستقبل میں اس تقسیم سے فائدہ اٹھاکرکشمیر کو قانونی طورپربھارت کاحصہ قراردینے میں کوئی مشکل باقی نہ رہے لیکن سازشی عناصر کبھی بھی اپنے اس پروگرام میں کامیاب نہ ہوسکیں گے۔کیاوہ اس بات کوبھول گئے ہیں کہ ایک لاکھ جانوں کی قربانی کے بعد بھی کشمیریوں کے عزم میں ذرہّ برابر کمی نہیں آئی وہ بھلا اس سازش کوکیسے کامیاب ہونے دیں گے۔یہی وجہ ہے کہ کل جماعتی کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی اوردیگر رہنماؤں نے ایسے کسی بھی منصوبے کی بھرپور مزاحمت کااعلان کیاہے اوردنیابھرمیں بسنے والے کشمیریوں نے اظہارِ یکجہتی کیلئے اس غیرقانونی سازش کے خلاف سخت ردعمل کااعلان بھی کیاہے۔  
منافقت کے نصاب پڑھ کرمحبتوں کی کتاب لکھنا
بہت کٹھن ہے خزاں کے ماتھے پہ داستانِ گلاب لکھنا

تازہ ترین خبریں