08:24 am
مقبوضہ کشمیر سے متعلق برکھادت کا اعتراف 

مقبوضہ کشمیر سے متعلق برکھادت کا اعتراف 

08:24 am

برکھادت بھارتی صحافی ہیں بھارت میں اپنی قابلیت اور ذہانت کی بنیاد پر بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تھا اور واپس دہلی آکر تبصرہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی روزمرہ کی بنیاد پر زبردست پامالی ہو رہی ہے بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ ظلم و تشدد وہاں کا قانون بن چکا ہے کشمیریوں کے ساتھ دوسرے درجے کا سلوک کیا جارہا ہے، بھارت کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے اس وقت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پریشر ککر جیسی بن چکی ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ اسی طرح کا تبصرہ مشہور بھارتی ٹی وی چینل NDTSنے کیا ہے اور کہا ہے کہ مودی کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق یکطرفہ فیصلہ کشمیریوں کو قبول نہیں ہے وہ اس کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتے رہیں گے تاآنکہ مودی اپنا فیصلہ واپس لے لے۔ اسی قسم کے تبصرے برطانوی اور امریکی اخبارات نے بھی کیے ہیں،ان اخبارات میں مقبوضہ کشمیر میں اپنے نمائندوں سے بات چیت کر کے وہاں صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر انسانیت سوز ظلم کیے جارہے ہیں جن کو فوراً بند ہونا چاہیے۔ اس ظلم میں بھارت کی قاتل فوج اور انتہا پسند مسلم دشمن تنظیم RSSبھی شامل ہے،اس صورت حال کے پیش نظر مقبوضہ کشمیر میں کسی وقت بھی ایک بڑا دھماکہ ہو سکتا ہے جس کو مودی سنبھال نہیں سکے گا۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو لگے ہوئے چھبیس روز ہو چکے ہیں، سرینگر میں اشیائے خوردونوش ختم ہو چکی ہیں ہر طرف خوف و ہراس کا سایہ پھیلا ہوا ہے، بھارت کی قابض فوج نے جگہ جگہ چیک پوسٹ قائم کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے آمدورفت کا سلسلہ تقریباً منقطع ہو چکا ہے۔ اس تکلیف دہ اور ناگفتہ صورت حال کے پیش نظر وہاں کے وکلاء نے کرفیو کو توڑتے ہوئے عدالت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں لیکن جج صاحبان تاریخیں بڑھا کر ان مقدمات کو بے اثر بنارہے ہیں ۔ 
 
دہلی کے بعض ذمہ دار اور ا نسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے سپریم کورٹ میں نریندر مودی کے خلاف اپیل دائر کی ہے ایسی اپیلیں دہلی کے کئی وکلاء کی جانب سے بھی کی گئی ہیں جن میں بڑی وضاحت سے کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ نریندر مودی کے حکم پر کیا جارہا ہے جو کہ مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے۔ سپریم کورٹ نے نریندر مودی کے خلاف انہیں طلب تو کر لیا ہے لیکن سپریم کورٹ اس کے خلاف کسی قسم کا حکم دینے سے خوف زدہ ہے۔ یہ خوف RSSکے غنڈوں کا ہے جو BJPکی حکومت کو چلارہے ہیں اور مودی کی ایماء پر مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی جوان خواتین اور بزرگ RSSکے غنڈوں کا مقابلہ کر رہے ہیں لیکن نہ تو ان کے پاس ہتھیار ہیں اور نہ ہی قانون ان کا ساتھ د ے رہا ہے جو نوجوان کرفیو توڑنے کی پاداش میں گرفتار کیے جاتے ہیں انہیں دہلی لکھنو، بمبئی اورالہ باد کی جیلو ں میں بھیج دیا جاتا ہے وہاں ان پر جیل کی پولیس بے تحاشا تشدد کرتی ہے جبکہ ان کے رشتہ داروں کو رابطہ بھی نہیں کرواتی ہے۔ ایک بے حسی کا عالم ہے جس سے مقبوضہ کشمیر کے لو گ گزر رہے ہیں ۔ 
جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کہ بعض بھارتی صحافی اور عالمی میڈیا خصوصیت کے ساتھ برطانوی اور امریکی میڈیا مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے کیے جانے والے ظلم اور زیادتی کو بے نقاب کر رہے ہیں لیکن عالمی سیاسی قیادت جس میں مسلم عرب ممالک کی قیادت بھی شامل ہے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے دہشت ناک ظلم و زیادتی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے حالانکہ انہیں اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و زیادتی سے متعلق مسلسل خبریں مل رہی ہیں لیکن ان کا ضمیر بے حس ہو چکا ہے انہیں انسانی اقدار کا پاس نہیں ہے بلکہ ہر چیز روپے پیسے میں تولی جارہی ہے یہ انسانیت کے حوالے سے اکیسویں صدی کا بہت بڑا المیہ ہے۔ اس ضمن میں ایک اور تکلیف دہ صورت حال یہ بھی ہے کہ جب بھارت کی انسانی حقوق کی تنظیمیں دہلی پریس کلب میں کشمیر سے متعلق ویڈیو کانفرنس کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو انہیں اس کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مودی سرکار نے پریس اور ٹی وی پر ہر قسم کی پابندی عائد کر رکھی ہے اور غیر جانبدار صحافی خوف کا شکار ہیں ۔
حکومت پاکستان اپنے تئیں سفارتی کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی زیادتیوں کے بارے میں عالمی ادارے کو آگاہ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ قدآور عالمی سیاسی رہنمائوں سے ٹیلیفونک رابطے قائم کیے جارہے ہیں تاکہ ان کو مقبوضہ کشمیر سے متعلق اصل حقائق بتائے جاسکیں۔دوسری طرف بھارت کے سفارتکار مغربی ممالک کے سیاسی رہنمائوں کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں جو اس وقت گڑ بڑ ہو رہی ہے اس کے پیچھے پاکستانی دہشت گرد ہیں جو خفیہ راستوں سے گھس کر مقبوضہ کشمیر کی عوام کو بھارت کے خلاف اُکسا رہے ہیں۔ بھارت کے سفارتکاروں کا یہ موقف بالکل غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے مقبوضہ کشمیر میں اس وقت بھارت کے خلاف جو آزادی کی تحریک چل رہی ہے وہ مقامی کشمیریوں کی اپنی تحریک ہے جسکا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کسی بھی انتہا پسند تنظیم کی حمایت کر رہا ہے۔ پاکستان کشمیر کے دیرینہ مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے جس کے لئے بھارت تیار نہیں ہے بھارت کی کوشش ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات کو اور زیادہ خراب کیا جائے تاکہ اس کو آزاد کشمیر میں حملہ کرنے کا جواز مل سکے۔ مودی عالمی سامراج کی مدد سے پاکستان کے خلاف جنگ کے لئے تیار نظر آتا ہے لیکن پاکستان اس کے ناپاک ارادوں سے واقف ہے اور ہر قسم کی تیاری کر چکا ہے تاہم مودی کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر پاکستان پر کسی بھی قسم کا جارحیت کی صورت میں غیر معمولی دبائو بڑھا تو پاکستان اپنی آزادی اور سالمیت کے لئے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرے گا ۔ مودی دراصل پاکستان کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے یہ بھارت کا پرانا فلسفہ ہے جبکہ اکھنڈ بھارت کی تحریک RSSچل رہی ہے جس کو BJPکی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ان حالات کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ ثالثی کی پیشکش کی ہے لیکن یہ سب کچھ لولی پاپ دینے کے مترادف ہے کیونکہ 5اگست کو مودی نے جو فیصلہ کیا تھا اس کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی ورنہ مودی کو کبھی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ فیصلہ کر سکتا تھا اب یہ فیصلہ خود مودی کے گلے میں ہڈی بن چکا ہے جس کے آئندہ بہت ہی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اس کی ساری ذمہ داری بھارت کے علاوہ عالمی سامراج پر عائد ہو گی جو اپنی مہلک ہتھیاروں کی انڈسٹری کو چلانے کے لئے مختلف ملکوں میں جنگ کرواتا رہتا ہے۔ اب پاکستان کی باری ہے لیکن پاکستان کا بچہ بچہ اپنے وطن کی سالمیت اور تحفظ کے لئے قربانی دینے کو تیار ہے۔ 

تازہ ترین خبریں