08:25 am
کرفیو! مزید دو ہفتے!

کرفیو! مزید دو ہفتے!

08:25 am

٭وفاقی کابینہ کے اعلان کے مطابق گزشتہ روز بارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے دوپہر تک سرکاری وغیر سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور متعدد گھروں کے مکینوں نے باہر نکل کر پاکستان اور آزاد کشمیر کے ترانے گائے۔ (دونوں حفیظ جالندھری کے تیار کردہ) دونوں کے پرچم لہرائے گئے، تقریریں، نعرے بہت جوش و جذبہ۔ یہ سلسلہ 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خاں کی تقریر تک ہر ہفتے چلے گا۔ ویسے ایسی بات ایک بار ہی اچھی لگتی ہے، بار بار پہلے والا اثر نہیں رہتا۔ بہرحال مجھے اسی سلسلے میں اکادمی ادبیات کے علاوہ کچھ اور تقریبات میں بھی شرکت کا موقع ملا ہے۔ میں مقبوضہ کشمیر کے بھائیو ںکی مکمل آزادی اور پرسکون آسودہ زندگی کے لئے دُعا گو ہوں۔
٭مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ اکتوبر میں اسلام آباد پر لشکر کشی کا فیصلہ اٹل ہے اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا کے دست راست اکرم درانی نے کہا ہے کہ حکومت کو 30 اگست تک مستعفی ہونے کی مہلت دی گئی تھی۔ افسوس کہ حکومت کو یہ بات سمجھ میں نہیں آ سکی۔ اب اس کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ اکتوبر میں اسے بہر حال جانا پڑے گا۔ حکومت کے ایک ترجمان نے ہنستے ہوئے کہا ہے کہ شکر ہے مولانا نے ستمبر کے ایک مہینے کے لئے حکومت کرنے کی اجازت دے دی ہے! ممکن ہے اکتوبر کے بعدبھی چند دن عنائت ہو جائیں مگر ذرا سی بات مولانا سے پوچھنا ہے کہ کیا کسی نے انہیں نہیں بتایا کہ مقبوصہ کشمیر پر کیا قیامت ٹوٹی ہوئی ہے؟ وہاں لاکھوں مظلوم بوڑھے، بچے، جوان اور خواتین 25 روز سے گھروں میں بندبھوک پیاس سے تڑپ رہے ہیں، مولانا کو ان مظلوموں سے ذرا بھی ہمدردی ہوتی توکنٹرول لائن کا رخ کرتے مگر انہیں اسلام آباد کے سوا کچھ اور نظر ہی نہیں آ رہا۔ ترجمان نے سوال کیا ہے کہ فرض کریں موجودہ حکومت مستعفی ہو جاتی ہے تو پھر کون حکومت بنائے گا۔ مزید یہ کہ ان سب باتوں کو چھوڑیں۔ اس وقت ملک جنگی ماحول سے گزر رہا ہے۔ اس میں مسلح افواج کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایسے حالات میں ملک کے دارالحکومت پر لشکر کشی اور اسے مکمل طور پر مفلوج کرنے کے نتیجے میں ملک میں جو انتشار اور بدامنی پھیلے گی، کیامسلح افواج اس کی اجازت دے دیں گی؟ میں نے ترجمان سے پوچھا کہ حکومت اس منظر نامے کو کیسے دیکھ رہی ہے؟ اس نے کہا کہ صرف ایک سطر میں جواب ہے کہ مریم نواز کتنا بولتی تھی! آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا، اب کہاں ہے؟ اس کی آواز کہاں ہے؟ 
٭ٹائمز آف انڈیا بھارت کا سب سے بڑا اخبار ہے اس کی بڑی خبر ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی سابق سرکاری قیادت، یعنی محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کو دو ہفتے بعد رہا کر دیا جائے گی۔ اس سے مراد لیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں 25 روز سے نافذ کرفیو ابھی دو ہفتے جاری رہے گا۔ اخبار نے مقبوضہ علاقے سے گرفتار کر کے آگرہ اور لکھنو کی جیلوں میں نظر بند کشمیری حریت پسندوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
٭امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی پریس ریلیز جاری ہوئی ہے کہ امریکہ کو مقبوضہ کشمیر کے حالات پر تشویش ہے وہ ان حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کشمیر اور پاکستان کو امریکہ کی گہری نظر سے محفوظ رکھے! مجھے ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا ہے۔ ایک درخت کے نیچے دو بلیاں کیک کے ایک ٹکڑے پر لڑ رہی تھیں۔ اوپر درخت پر بیٹھے بندر کو اس لڑائی پر بہت تشویش ہوئی۔ وہ نیچے اترا دونوں بلیوں میں ثالثی شروع کی۔ کیک تقسیم کرتے کرتے سارا کیک کھاکر درخت پر چڑھتے ہوئے کہنے لگا کہ دیکھا کیسا منصفانہ فیصلہ کیا ہے! دوسرا واقعہ بھی ایک بلی کے بارے میں ہے۔ ایک جگہ دو چڑیاں لڑ رہی تھیں۔ بلی نے جھپٹ کر دونوں کو کھا لیا اور کہنے لگی کہ شکر ہے میں وقت پر پہنچ گئی ورنہ سخت خون خرابہ ہو جاتا! 
٭تبدیل ہونے والے تین ججوں کی عدالتیں خالی پڑی ہیں۔ نئے ججوں کی آمد میں دیر لگے گی۔ اس دوران ن لیگ کے قیدیوں کے مقدمے لٹکے رہیں گے۔ مشہور لوک داستان ’’مرزا صاحباں‘‘ میں صاحباں کا شعر یاد آ رہا ہے کہ ’’گلیاں ہو جان سُنجیاں وچ مرزا یار پھرے‘‘! کچھ قارئین کو شائد علم نہ ہو کہ مرزا اور صاحباں کون تھے۔ مختصر بات کہ جڑانوالہ شہر کے قریب ایک دیہات میں الگ الگ گھروں کے یہ دو بچے اکٹھے ایک مدرسہ میں پڑھنے جاتے تھے۔ ایک روز استاد نے مرزا کو دو تین چھڑیاں لگائیں۔ صاحباں چیخ اٹھی۔ اس کے جسم پر چھڑیاں پڑنے کے سرخ نشانات ابھر آئے تھے!
٭اسلام آباد کے ہسپتال پمز Pims میں آصف زرداری کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ دل، کمر میں تکلیف، ضعف اور نقاہت! میں دُعا گو ہوںکہ خدا تعالیٰ انہیں شفا دے۔ ان کے بچوں کی عمریں شادی کی عمر کی حد سے آگے نکل رہی ہیں۔ میری دُعا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی یہ فرض نبھا لیں۔ بیٹے کی تو کوئی بات نہیں، اربوں کھربوں کا وارث ہے وہ جب چاہے گا، جہاں چاہے گا کر لے گا مگر! خدا تعالیٰ خیر کرے!
٭ہر طرف پھیلے ہوئے وسیع پیمانہ پر پھیلے ہوئے غلیظ کچرے کے باعث پورے کراچی میں ہر طرف ٹڈی دل کی شکل میں مکھیوں نے شہریوں پر دھاوا بول دیا ہے۔ ایک دوست نے فون پر بتایا ہے کہ شہر میں گھومنا پھرنا بھی عذاب بن گیا ہے۔ مکھیاں جھنڈ کی شکل میں منہ پر آ بیٹھتی ہیں۔ ان کے باعث وسیع پیمانہ پر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ میں نے پوچھا، حکومت کیا کر رہی ہے؟ کہنے لگا، ڈھونڈ کر بتائوں گا، حکومت کہاں ہے؟
٭وحشت ناک خبر: حکومت نے بجلی کی قیمت میں تقریباً دو روپے (1.93 روپے) فی یونٹ مزید اضافہ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عوام پہلے ہی ناقابل برداشت بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں! اب مزید 26½ ارب کا اضافہ!!  باغ، آزادکشمیر سے ایک قاری نے فون کیا ہے کہ بجلی کے میٹر ریڈر کھلے عام زیادہ ریڈنگ کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں باقاعدہ ہدائت ملی ہے کہ بجلی کا خسارہ عوام پرڈالنا ہے۔ دو روز پہلے خبر شائع ہو چکی ہے کہ گیس کی کمپنیوں نے بے انتہا زائد بلوں سے عوام سے 416 ارب (چار کھرب 16 ارب) روپے زیادہ وصول کر لئے تھے۔ عوام نے شور مچایا تو حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ عوام کو تو ایک پیسہ واپس نہیںملے گا البتہ 208 ارب روپے حکومت اپنے خزانے میںڈال لے گی اور باقی 208 ارب روپے ان کمپنیوں کو معاف کر دیئے گئے ہیں استغفار!! ڈاکہ، رہزنی، چوری اور کیا ہوتی ہے؟
٭ایک قاری نے پوچھا ہے کہ پاکستان کے نئے غزنوی میزائل کی زد میں بھارت کے کون کون سے شہر آتے ہیں؟ اس میزائل کی رینج 290 کلو میٹر تک ہے اس فاصلے کی زد میںسری نگر،جموں، پٹھان کوٹ، امرتسر، ہوشیار پور، جالندھر، فیروزپور، راجستھان میں جودھ پور، مونا بائو وغیرہ آ سکتے ہیں۔ اس میزائل سے بھارت کے عسکری اور سیاسی حلقوں کو پریشانی لاحق ہو گئی ہے۔ اس پر پنجاب کے سکھ حلقے زیادہ پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج تک ہونے والی جنگوں میں بھارتی پنجاب کے سرحدی علاقے بری طرح تباہ ہوتے رہے ہیں، اب بھی انہی علاقوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

تازہ ترین خبریں