09:59 am
حرص بمقابلہ قناعت و توکل

حرص بمقابلہ قناعت و توکل

09:59 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

اسی طرح سورہ ہمزہ میں فرمایا کہ خرابی و بربادی ہو طعنہ زنی کرنے والے اور چغلی کھانے والے کی۔مال جمع کرتا اور گن گن کر رکھتا ہے۔یہ ایک ذہنیت ہے جسے قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔اسی قرآن میں کہا گیا ہے کہ اس میں تمہارا ذکر موجود ہے۔ہر قسم کی شخصیتوں اور طبائع کا خاکہ قرآن میں کہیں نہ کہیں مل جائے گا۔ہر شخص اس آئینے میں اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے ۔دنیا کی دلچسپیاں عارضی ہیں لیکن ساتھ ہی بتادیا گیا ہے جن چیزوں کی محبت اللہ نے د ی ہے کہ اگر اس تھوڑے سے امتحانی وقفے میں ان میں اپنے آپ کو تھام کر رکھوگے اور بقدر ضرورت ان سے استفادہ کروگے تو اس کا انعام بہت بڑا ہے لیکن اگر انہی چیزوں کے پیچھے پڑگئے تو انجام بہت خطرناک ہے۔ایک طرف رب کی رضا ہے تو دوسری جانب نفس کی خواہشات ہیں جن کی طلب بڑھتی چلی جاتی ہے۔اسی میں تو امتحان ہے۔سورہ آل عمران میں ان چیزوں کا ذکر ہے جن کی محبت انسان کے دل میں رکھ دی گئی ہے۔فرمایا کہ انسانو ں کے لئے مزین کردی گئی ہے خواہشات کی محبت جواس کے نفس میں راسخ ہیں۔
عورتوں ،بیٹوںاور سونے اور چاندی کے خزانوں کے ڈھیراور بڑے اعلیٰ نسل کے نشان زدہ گھوڑے اور مال مویشی اور کھیتی کی محبت۔یہ دنیا کی زندگی کے برتنے کا سامان ہیں۔یہ چیزیں تمہاری مطلوب و مقصود نہ بنیں،چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی وہ حدیث سن لیں،رسول اللہ ؐ نے حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ کے کندھوں کوشفقت کے ساتھ پکڑا اور فرمایا کہ دنیا میں ایسے رہو جیسے ایک اجنبی یا جیسے راہ چلتا مسافر ہو۔’’آخری ٹھکانہ تو اللہ ہی کے پا س ہے‘‘۔ یہ آل عمران کی مذکورہ آیت کا آخری جز ہے۔آگے فرمایا کہ اے نبی ﷺ! ان سے کہیے کہ کیا میں تمہیں بتائوں ان چیزوں کے بارے میں جو ان سے کہیں بہتر ہیں۔جن لوگوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی ان کے لئے اللہ کے پاس وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریںبہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی رضا انہیں حاصل ہوگی اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔
انسان کے حرص کو اللہ پر ایمان اور تقویٰ ہی روک سکتا ہے۔اس دنیا میں حاصل ہونے والی ساری چیزیں اسے بہت اعلیٰ شکل میں ملیں گی جہاں تک اس کے تخیل کی رسائی ممکن نہیں ہوگی۔اس کے لئے دنیا کی اس امتحان گاہ میں صبر اختیار کرنا پڑے گا۔لہٰذا حرص کے مقابلے میں توکل وقناعت ہے۔ابن ماجہ کی روایت کے مطابق حضور ﷺ نے اپنی امت کی اوسط عمر کے متعلق بتایا۔آپﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے لوگوں کی عمر 60-70سال تک ہے۔بہت کم ہوں گے جواس سے تجاوز کریں گے۔اس دوران انسان کو حرص کے مقابلے میں صبر و توکل سے کام لینا ہے۔حرص کے حوالے سے ایک اور حدیث ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عمر کے اعتبار سے آدمی بوڑھا ہوتاچلا جاتا ہے لیکن مزید زندگی کی حرص اس میں بڑھتی چلی جاتی ہے،زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرنے اور زندہ رہنے کی امنگ جوان ہوتی چلی جاتی ہے۔اگر یہ بات سمجھ میں آگئی کہ یہ زندگی ایک امتحانی وقفہ ہے۔خواہشیں تو ہوتی ہیں ؎ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے اور یہ ہر انسان میں موجود ہیں لیکن ایک بندہ مومن کو کس طرح زندگی گزارنا ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ وہ حالت امتحان میں ہے اور اس کا رب اس سے کیا چاہتا ہے۔اس حوالے سے بڑی پیاری حدیث ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا کہ بندہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔اس کا ہر حال اس کے لئے خیر ہی خیر ہے خواہ اس پر خوشحالی ہو یا تنگی۔یہ کیفیت کسی کو نہیں ملتی سوائے بندہ مومن کے۔اگر اللہ کی طرف سے اس کے لئے آسانی ہو تو شکر ادا کرتا ہے اور اس میں اس کے لئے خیر ہی خیر ہے۔اس کے اس طرز عمل کی وجہ سے اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے۔یہ طرز عمل بھی اس کے لئے خیر کا باعث ہے۔اس سے بھی اس کے اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا ہے۔ہر حالت میں اس کے لئے خیر ہی خیر ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو دنیا میں تم سے نیچے ہوں ان پر نظر رکھا کرو ۔اس سے قناعت ہوگی اور اللہ کے شکر کا احساس ہوگااور جو تم سے اوپر ہیں ان پر نگاہ نہ رکھوتاکہ تم اللہ کی ان نعمتوں کو جو اللہ نے تمہیں دی ہے، حقیر نہ جانو بلکہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرو۔شیخ سعدی سے متعلق ایک بڑی پیاری حکایت ہے۔ایک مرتبہ ان کا یہ عالم تھا کہ سفر کے دوران ان کو پائوں کا جوتا بھی میسر نہیں تھا۔ان کے دل میں خیال آیا کہ لوگوں کو اللہ نے کن کن نعمتوں سے نواز ا ہے اور ان کے پاس جوتا بھی نہیں ہے۔ نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ ایک شخص دونوں ٹانگوں سے محروم ہے۔ انہوں نے فوراً اللہ کا شکر ادا کیا کہ جوتا نہیں تو کیا ہوا، ٹانگیں تو سلامت ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی امتحان گاہ میں ہر حال میں صبر وشکر کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

تازہ ترین خبریں