10:00 am
بد اچھا بدنام برا

بد اچھا بدنام برا

10:00 am

ایک زمانے سے سنتے آئے ہیں کہ بد اچھا ہوتاہے بدنام برا ہوتا ہے۔ اگر ہم پی ٹی آئی کو شک کا فائدہ دے کر یہ تسلیم کربھی لیں کہ ان کی نیت صاف ہے اور وہ واقعتا پاکستان کے حالات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں تو بھی ان کے اقدامات کو دیکھتے ہوئے ان کی تیزی سے گرتی ہوئی مقبولیت سمجھ میں آجاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت بری نہ ہو مگر اب یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی اپنی نااہلی کی وجہ سے اتنی ہی بدنا م ہے یا اس سے بھی زیادہ بدنام ہے جتنی ن لیگ یا پی پی پی کی حکومتیں تھیں۔
 
ملک کی معیشت بڑی تیز رفتاری سے تنزلی پر گامزن ہے۔ حکومت یہ تو کہتی ہے کہ ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے مگرعملی طور پر ابھی تک جو کچھ کیا گیا ہے اس کے نتائج ملک کے لئے ہولناک ہیں۔ سب سے پہلے روپے کی قیمت کو لیں جس طرح روپے کو تیزی سے گرایا گیا ہے اس سے ملک کی معیشت کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ ہماری درآمدات میں ضرور تھوڑی سی کمی آئی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ صنعتوں کو نقصان بھی بہت پہنچا ہے۔ ملک کے قرضوں کا حجم اور اس پر لگنے والے سود کا حجم چالیس فیصد صرف روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بڑھا ہے۔
اس حکومت نے قرض لینے کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ اب یہ عذر بھی نہیں دیا جاسکتا کہ نئے قرضے پرانے قرضوں کی ادائیگی کیلئے لئے گئے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو قرضوں کا مجموعی حجم نہ بڑھتا۔یعنی پہلے اگر مجموعی قرض بالفرض 100 روپے تھا اور آپ نے 40روپے مزید قرض لے کر سابقہ قرضے کی ادائیگی کر دی تو مجموعی قرض تو پھر100 روپے ہی ہو جانا چاہیے۔ یہ بالکل نہیں ہوا بلکہ بڑے مجموعی قرض میں اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق6000 ارب روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اب اگر دیکھا جائے تو ملک میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو رہا۔ کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں ہو رہا تو پھر یہ قرض کہاں جارہا ہے۔ حکومت کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق ہمارا خسارہ قومی پیداوار کے 8.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو کہ خطرناک حد تک بلند ہونے کے علاوہ ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح بھی ہے۔ حکومت نے یقینا اس قرضے کو صحیح طور پر استعمال کیا ہوگا مگر عوامی تاثر یہ ہے کہ حکومت معاملات کو سنبھال نہیں پارہی۔ یعنی بد اچھا بدنام برا۔اتنا زیادہ شور شرابہ کرنے کے بعد ٹیکس کی وصولیوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا۔ جولائی اور اگست دونوں ماہ میں وصولیاں ہدف میں تقریباً نصف ہیں۔ اس کی ایک وجہ صنعتی تباہ حالی ہے۔ ہر کمپنی رو ر ہی ہے کہ ڈیلیولیشن اور ٹیکس ریٹ کے اضافے نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ صنعتی پیداوار گھٹ رہی ہے۔ کاروں اور موٹر سائیکلوں کی پروڈکشن پچاس فیصد گر چکی ہے جس کی وجہ سے ٹیکس بھی کم جمع ہو رہا ہے۔ شبر زیدی یقینا بہت محنت کررہے ہیں مگر پھر وہی بات کہ عوامی تاثر غیر مثبت ہے۔کشمیر کے معاملے میں تو عوام کی اکثریت یہ سمجھے بیٹھی ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کسی غیر تحریری معاہدے کے تحت کشمیر کو بیچ چکے ہیں۔ بھارت کا وزیراعظم ظالم اور جابر اور قابض ہونے کے باوجود دنیا کے 33 ممالک کے دورے کرچکا ہے۔ اسلامی ممالک سے ایوارڈ لے رہا ہے اور ہمارا وزیراعظم چندفون کالز تک محدود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ حکومت کے پاس مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوئی اسٹرٹیجی ضرور ہوگی مگر وہ اسٹرٹیجی نہ تو نظر آرہی ہے اور نہ ہی عوام کو اس کا اثر نظر آرہا ہے۔
پاکستان کی حالیہ تاریخ میں پہلی بار یہ بجاطور پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ سول حکومت دفاعی ادارے اور عدلیہ ایک صفحے پر ہیں۔ یقینا ہیں مگر اس کے ثمرات کیا ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت آنے سے پہلے لوگ دفاعی اداروں کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے تھے آجکل کھلم کھلا فوج اور فوجی افسران کے خلاف باتیں ہوتی ہیں سوشل میڈیا پر تو نہایت ہی غیرشائستہ باتیں کہی جارہی ہیں۔ عدلیہ کی کارکردگی بھی بہت تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ مثال کے طور پر رانا ثناء اللہ کیس میں جس طرح جج بدلا گیا یا پھر جس طرح جسٹس فائز عیسیٰ کے کیس میں پھرتی دکھائی گئی اس سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوا۔ ایک بار پھر وہی بات ہے کہ حالات اتنے برے شائد نہ ہوں مگر عوامی تاثر بہت برا ہے۔ عوام کھلے عام پی ٹی آئی ، فوج اور عدلیہ کو پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرنے کا الزام دیتے ہیں۔ گویا بد اچھا بدنام برا۔
جس طرح میڈیا کو کنٹرول کیا جارہا ہے اس سے بھی منفی رجحانات پرورش پارہے ہیں۔ اب لوگ ٹی وی اور اخبارات کی بجائے سوشل میڈیا یا پھر غیر ملکی ذرائع پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اس سے حکومتی وقار کو دھچکا ہی لگا ہے۔ حکومت پتہ نہیں کیوں یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کرکے اپوزیشن کی خبروں اور اعلانات پر پابندی لگاکر وہ اپنی مقبولیت بڑھاسکے گی۔ حکومت کی نیت ٹھیک بھی ہو تو پھر بھی عوامی تاثر تو منفی ہی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومت بزدل ہے سچائی کا سامنا نہیں کرسکتی۔ ایک بار پھر بد اچھا اور بدنام برا والا معاملہ ہے۔
حکومت نے اپوزیشن کے تقریباً تمام بڑے لیڈر گرفتار کررکھے ہیں مگر اپنے وزراء اور رفقا کے کیسز پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ میڈیا کا منہ بند کرکے بھی حکومت اپنے اداروں کی جانبداری کا تاثر زائل نہیں کرسکی۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح سے قانونی معاملات چل رہے ہیں اس سے عوامی ہمدردیاں جیل میں پڑے رہنمائوں کے ساتھ ہوتی جارہی ہیں۔ ایک بار پھر میں یہ کہتا ہوں کہ حکومت یقینا یہ چاہتی ہے کہ تمام امور قانون اور انصاف کے مطابق ہوں مگر جب تک حکومتی افراد کے خلاف کیسز میں کارروائی نظر نہیں آئے گی عوامی تاثر منفی ہی رہے گا۔
یہ بات صحیح ہے کہ ستر سال کا گند ایک سال میں ختم نہیں کیا جاسکتا مگر اس گند میں تھوڑی سی کمی ہوتی تو نظر آنی چاہیے۔ عوام تو سمجھتی ہے کہ گند مزید بڑھ گیا ہے۔ عوام میں بے چینی اور بددلی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے اگر حکومت صدق دل سے صفائی کرنا چاہتی ہے تو اسے عوامی پذیرائی کیوں نہیں مل رہی۔
میری عمران خان اور دفاعی اداروں کے رہنمائوں سے درخواست ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جس سے ان کے وقار میں جو کمی ہو رہی ہے وہ رک جائے۔ عوام کی نفسیات کو سمجھا جائے۔ لوگوں کو بات کرنے دیں۔ اپوزیشن کے کیسز میں مداخلت کرتے ہوئے نظر نہ آئیں۔ عوام کو بے وقوف اور بے حس مت سمجھیں۔ ان کی توقعات پامال نہ کریں۔ ان کی قدر کریں۔ آپ بد نہیں ہیں تو بد نام کیوں ہو رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں