10:01 am
 ہندوتوا اور مسلمانوں کو درپیش سوال 

 ہندوتوا اور مسلمانوں کو درپیش سوال 

10:01 am

(گزشتہ سےپیوستہ)

 انگریزوں کے ثقافتی احساس برتری، رعونت اور تصور سلطنت اور ہندوستانی ثقافت سے متعلق ان کے تحقیر آمیز رویے کے نتیجے میں انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں تعلیم یافتہ بنگالیوں اور ہندوستانیوں میں بے چینی بڑھنا شروع ہوگئی۔ اسی وجہ سے انگریز کو اپنی قدر و قیمت سے آگاہ کرنے کے لیے انہوں نے قوم اور قوم پرستی کے تصورات کو اختیار کیا۔ پہلے (1875ء میں ) بنگالی قوم پرستی اور بعد ازاں( 1885ء میں) ہندوستانی قوم پرستی انڈین نیشنل کانگریس کی صورت میں نمودار ہوئی جس نے جنوبی ایشیائی برصغیر میں برطانوی تسلط سے نجات کے لیے جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ کانگریس کے ابتدائی برسوں میں مذہب سے گریز کی پوری کوشش کی گئی کیونکہ اس وقت کی قیادت کا خیال تھا کہ سیکولر قومیت کے تصور کے ساتھ وہ انگریز پر زیادہ اثرانداز ہوسکیں گے اور عوامی حمایت بھی حاصل ہوجائے گی۔ کانگریس میں سخت گیر کہلانے والے گروہ کے اس وقت کے رہنماء ہندو دیوی دیوتاؤں کا نام اور ان کی تصاویر سے عوام پر اثرانداز ہونا چاہتے تھے۔ 
مہا راشٹر سے تعلق رکھنے والے بی جی تلک نے 1893ء میں گنیش اتسوو کے موقعے پر قومیت کے تصور کو اس ہندو دیوتا سے جوڑا۔ تِلک نے دوکتابیں تصنف کی، دونوں ہی ویدوں سے متعلق تھیں اور ان میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ وید لانے والے ہی دنیا پر راج کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اسی طرح کانگریس کے ایک اور نمایاں رہنما لالہ لاجپت رائے 1875ء میں قائم ہونے والی ہندو اصلاحی تنظیم آریا سماج کے بھی رکن تھے۔ 1923ء میں ’’دی ٹریبیون‘‘ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں انہوں نے ہندوستان کو ’’ہندو انڈیا اور مسلمان انڈیا میں تقسیم کرنے‘‘ کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے ایک اور رہنما مدن موہن مالویہ نے ہندوستان کے مسلمانوں کی’’مسلمانیت‘‘ ختم کرنے اور انہیں دوبارہ ہندو دھرم میں شامل کرنے کے لیے شدھی تحریک کی بنیاد ڈالی۔ اس دور میں یہ بات عام ہوچکی تھی کہ ہندو اصلاحاتی تحریکوں کے رکن اور لیڈرتنظیم کے ابتدائی سیکولر عزائم کے باوجودر کانگریس میں شامل رہے۔ 
یہاں مزید کئی مثالیں بیان کی جاسکتی ہیں۔ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہندوستان میں نوآبادیات کے خلاف کوئی بھی تحریک مذہبی حوالے کے بغیر چلائی نہیں جاسکتی کیونکہ اس خطے کے عوام ماں کی گود سے لے کر آخری وقت تک مذہب کے بغیر اپنے وجود کا ادراک نہیں کرسکتے۔ عوام کی ترغیب اور انہیں قوم کا مفہوم سمجھانے کے لیے گاندھی کو بھی مذہب کا سہارا لینا پڑا اور انہوں نے ’’رام راج‘‘ کو ہندوستان کی منزل قرار دیا۔ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی اس نعرے سے کتنی جذباتی وابستگی ہوسکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مسلم قومیت کا تصور اورمطالبہ پاکستان سامنے آنے سے بھی تقریباً ساٹھ برس قبل ہندو قوم پرستی اپنے قدم جما چکی تھی۔ ہندوستان کسی خاصے (مذہبی) گروہ کی ملکیت ہے، اس تصور نے معاشرتی تفرقے کو بڑھاوا دیا۔ اس بارے میں ساورکر کے خیالات ملاحظہ کیجیے’’ اگرچہ یہ مذہب سے آزاد ہے، تاہم لفظ’’ہندوتوا‘‘ میں مسلمان شامل نہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت، اگر جہالت سے پیدا ہونے والے تعصبات سے آزاد ہوکر دیکھے تو، ہماری سرزمین کو آبائی وطن سمجھ کر کسی بھی محب وطن اور معزز شہری کی طرح اس سے محبت کرسکتی ہے، یاد رہے کہ بہت سے ایسا کرتے بھی آئے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں ان کی زبردستی تبدیلیٔ مذہب کی کہانی زیادہ پرانی نہیںکہ یہ فراموش کردیا جائے کہ ان کی رگوں میں ہندو خون ہے لیکن کیا ہم انہیں ہندو تسلیم کرسکتے ہیں؟ نہیں، کیونکہ ہمارے لیے صرف خونی اور آبائی وطن کا رشتہ کافی نہیں، ہم اپنی عظیم تہذیب اور اپنے ہندو کلچر کی تکریم کو مشترکہ قدر مانتے ہیں۔‘‘
اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مسلمانوں کو صرف اس لیے مسئلہ قرار دیا جاتا ہے کہ وہ ہندوستان میں پیدا ہونے کے باوجود مکہ اور امت مسلمہ سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ کوئی بھی مسلمان قوم کی اس تعریف پر پورا نہیں اتر سکتا اور اسی وجہ سے اسے بھارتی تسلیم کرنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔ کشمیر اور آسام میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا سبب بھی قومیت کا یہی تصور ہے۔ بھارت سیکولرازم کے جس نقاب کو اوڑھے رکھنے کی کوشش میں تھا وہ تار تار ہو چکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک ہندو راشٹر میں مسلمانوں کے لیے کوئی گنجائش ہے اور اسی طرح ایک اسلامی ریاست میں کیا ہندو رہ سکتے ہیں؟ 
(یہ کالم سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اکرام سہگل اور برلن کی ہمبلوٹ یونیورسٹی کے شعبہ برائے جنوبی ایشیاء کی سابق سربراہ بیٹینا روبوٹکا کے اس موضوع پر لکھے گئے سلسلۂ مضامین کا دوسرا حصہ ہے)

تازہ ترین خبریں