10:01 am
لٹ گئی زندگی اپنی

لٹ گئی زندگی اپنی

10:01 am

وطن عزیزمیں پندونصائح کی مجالس میں اگر موجودہ حالات کے تناظرمیں آئینہ دکھانے کی جسارت محض اس خوش گمانی کی نیت سے بھی کی جائے کہ چہرہ کے بگاڑکوذرابناسنوارلیں توہرطرف سے اس آئینے کے ساتھ ساتھ آپ پربھی پتھروں کی بارش شروع ہوجاتی ہے۔بے شماربودے دلائل کاسہارالیکرنیچادکھانے کی کوشش کی جاتی ہے اوربالآخرتان اس پر ٹوٹتی ہے کہ غیروں کے خورشیدکاسہارالیکرہماری ظلمتوں کامذاق مت اڑائیں لیکن جوبات صحیح ہے اس کوغلط کیسے کہوں؟ گمراہوں کیلئے راستے کی کیاقید!جب اپنی گمراہی کوہی سیدھا راستہ سمجھ لیاجائے توسمجھانا بیکار۔مجھے اپنی تمام ترخامیوں کااعتراف ہے اورمیں اس کابرملااعتراف بھی کرتارہتاہوں لیکن کیاسچ اورحق بات کہنے اورلکھنے سے بھی منہ موڑلوں؟مجھے اپنے بارے میں ایساکوئی عارضہ بھی لاحق نہیں کہ آپ میری تحریروں کوپڑھ کر میرے بارے میں یہ گمان کریں کہ مجھے کسی دادوتحسین کی خواہش ہے لیکن دل میں یہ آرزوہروقت تڑپائے رکھتی ہے کہ وطن عزیزکی قسمت بدل جائے۔
 
ان گنت تعدادمیں ٹیلیفون،ای میلزاورخطوط کا تانتااس بات کی ہمت دلاتارہتاہے کہ یہ مشن جاری وساری رہنابہت ضروری ہے۔میں یہ تمام خطوط اورای میلز پڑھنے کی بھی پوری کوشش کرتاہوں اورکچھ کے جوابات بھی دیتاہوں لیکن کچھ مراسلے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کوباربارپڑھنے کے باوجودان کاجواب دینے سے قاصررہتاہوں۔لیکن شاید آپ کے پاس اس کاکوئی جواب ہو!دن اوررات عجیب وغریب واہموں میں کٹ رہے ہیں۔
’’بہت سمجھایاآپ کو،بے شماردلائل بھی سامنے رکھے لیکن آپ کسی کی سنتے اورمانتے کب ہیں! شاید ہماری آوازمیں اتنازرونہیں کہ جس میں آپ کی آواز دب کر رہ جائے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کوہماری صداسننی پڑے،نہ ہمارے قلم کی وہ رفتاراوربرق بازی جوآپ کے ارادوں کامنہ موڑسکے اورآپ کے ضمیری طوفان کوروک سکے۔جانتے ہیں کیوں روکناچاہتاہوں آپ کو؟آپ کی آوازکو؟آپ کے الفاظ کی آتش سے بچنے کیلئے۔بارہاچاہاکہ آپ کی چیخوں سے بے بہرہ رہوں مگرکیسے؟کچھ دنوں کیلئے آپ کے مضامین پڑھنے پرخودساختہ پابندی لگائی لیکن اس ارادہ پربھی قابونہ رکھ سکاکہ بازگشت سے اب پیچھاچھڑانامشکل ہوگیاہے۔
خودتوآپ مضطرب بھی ہیں،طوفان بھی،کرب کامیدان بھی اورباضمیربھی،انہی امراض کانتیجہ آپ کی تحریریں بھی ہیں مگر!آپ کیوں نہیں سمجھتے؟ بھینسوں کے آگے بین بجانے سے کیاحاصل؟برسوں سے لکھنے کا مرض پال رکھاہے آپ نے بے شمارمضامین اورکتابیں بھی لکھ ڈالیں،لوگوں کوبے کل کیا اور خودبھی ہوئے،قلم کودن میں چین آیانہ رات کو‘مگر اونٹ نہ اِس کروٹ بیٹھانہ اس کروٹ۔میرامشورہ اب تومان لیں! چھوڑیئے،  اب الفاظ کے زہرنے اپناکام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ آپ کچھ بھی کہیں،بے ضمیروں پراثر نہیں ہوتااورباضمیروں پر اثرکاکیافائدہ!میرایہ سچ آپ کوبھی کڑوالگے گاورنہ کوئی توبدلا ہوتا۔کیاکہا ’’بدلا ہے‘‘ دن یارات کاموسم یا نظام؟ انسانوں کوبدلئے ناں‘ہاں یہ بھی سچ کہا! بھلا انسان ہیں کہاں؟ورنہ خالدبن ولیدسے لیکرمحمدبن قاسم تک انسان ہی توتھے۔ہاں آدمیوں کی بھیڑضرورہے کہ دم لینایہاں محال ہورہاہے!بھیڑبھی ہے اورمرے ہوئے ضمیروں کی لاشوں کاتعفن بھی!اب اسی تعفن سے مزید اموات کاسلسلہ چل نکلا ہے۔
آدمیوں کی بھیڑسے انسانوں کی تلاش؟کیا خوب ہیں آپ!نمک کی کان سے مٹھاس کی تلاش کررہے ہیں‘ہاں آپ اوردوسرے اہل قلم جوبے چین روحوں کی مانند ہیں وہ بھی توپورے انسان نہیں آدھے ضرورہیں۔پوارانسان توعافیہ صدیقی کوکہتے ہیں جس نے قلم کی بجائے تلوارکواپنے ہاتھوں کی زینت بنایا۔ہاں وہی عافیہ جس کیلئے آپ کے کئی مضامین نے ہم کوہلکان کردیا، خود بھی بے چین رہے اورہم سب کوبھی رلاتے رہے،جانتے ہیں ناں آپ!اس پتلی دھان پان کی لڑکی کو یہ پیغام بھیجنامت بھولئے کہ اب محمدبن قاسم کا خواب دیکھناچھوڑدے۔عافیہ کویہ پیغام بھی ضروردیں کہ جب قصرسفید کے گھمنڈی فرعون کی جیل سے تمہاری روح کواپنے جسم سے رہائی ملے تواس مردوں کی زمین پرمت آنا، ہاں یہی پاکستان جواب مردوں کی زمین ہے۔
کیاکریں گی یہاں آکر؟وہ زندہ لاش ہی سہی،مگریہ توخودمردوں کی بستی ہے....ہم انہیں وہ ماہ وسال،زندگی کی وہ بہاریں،جوانہوں نے سسکتے بلکتے ہوئے تنہا گزاردیں،کہاں سے لا کردیں گے؟خدارا! آپ وہاں سے آزادہوتے ہی روح کوبھی آزاد کروالیجئے گا!
مجھے رنگینی صحن چمن سے خوف آتاہے
یہی ایام تھے جب لٹ گئی تھی زندگی اپنی
ضمیربحال نہ سہی،تاحال آپ کاقلم توبحال ہے، اسی کے کرتب دکھائیں،شاید عوام اسی سے بہل جائیں اور چپ چاپ مہنگائی،ناانصافی اورعریانی وفحاشی کے سیلاب میں ڈوب جائیں !بے فکررہیں بڑا اجروثو ا ب ملے گااس کا۔ (فقط آپ کاخوابیدہ ضمیر)
آنکھ کھلی توپسینے سے شرابورکانپتاجسم دیکھ کربھی یقین نہیں آرہاکہ یہ خواب تھا۔
گردش دہر ہی کیا کم تھی جلانے کو
توبھی آپہنچاہے دہکتے ہوئے رخسارکے ساتھ
’’بہت سادہ ہوتم!میں کہاں سے باضمیر ہوگیا ہوں،کہاں کی بے چینی اوربے کلی،کون ساکرب! میں توایلیٹ کلاس سے ہوں،مزے اڑا رہا ہوں،دنیاکی تمام آسائشوں سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ کبھی ایک لمحے کیلئے بھی ایسے کسی کرب سے نہیں گزراجس سے تم ہرروزگزرتے ہو۔ہاں!یہ تم نے صحیح کہا،الفاظ کی بازی گری آتی ہے مجھے اورمیں مداری کی طرح قلم سے ہرروزکرتب دکھاتاہوں۔اورہاں!مجھ میں توخود آگ نہیں توپھرمیرے الفاظ میں کہاں سے آگئی یہ آگ!
بہرحال آئینہ دکھانے پرتم بڑے خوش نظرآرہے ہو،میں بھی تمہارابڑامشکورہوں’’بہادرہمیشہ باوقار موت کاسامناکرتے ہیں‘‘اورمیں کہاں سے باوقار ہو گیا۔ ہاں!میں نے کہیں یہ ضرور پڑھاتھا کہ جوگی کسی کواپنے ساتھ چلنے پرمجبورنہیں کرتے،وہ صرف خواہشات دریافت کرتے ہیں،کسی کومحل بنانے کی خواہش ہوتومنع نہیں کرتے۔اپنے اگلے پھیرے میں بھی صرف خواہش جانناچا ہتے ہیں،کسی بھی خواہش کااظہارکیاجائے تو کامیابی اورخوش رہنے کی دعائیں دیکراپناراستہ لیتے ہیں ، لیکن اگرکوئی ان کادامن تھام کرخودہی چیخ چیخ کرکہے کہ میری ساری خواہشیں توپوری ہوگئیں مگرمیں اب بھی بے چین ہوں،پہلے سے کہیں زیادہ مضطرب!تواسے سکون کاراستہ دکھادیتے ہیں۔
میں کہا ں جاں؟میں کیاکروں؟کائنات لامحدود ہے۔میں یہاں لمحے بھرکوچمکنے کے بعدبجھنے والا ہوں، اب میں کچھ کرناچاہتاہوں لیکن اس طرف سے زمین کھودکرادھر نکل جاں،اس طرف سے کھود کر واپس اس طرف نکل آں‘اپنی موجودہ حالت سے نجات ممکن نہیں!اس لئے براہ کرم میرے سہانے خوابوں کوتوبربادمت کرو۔ 
نہ ہو انسان سے مایوس کہ خوابیدہ ضمیر
حشر کر دیتا ہے برپا جو کبھی جاگتا ہے

تازہ ترین خبریں