10:03 am
قصہ پٹرول کی قیمتوں کا

قصہ پٹرول کی قیمتوں کا

10:03 am

٭ ملک بھر میں یوم کشمیر‘ قوم باہر نکلی آئی...٭ مقبوضہ کشمیر: انسانیت سوز مظالم کی انتہا بی بی سی‘ مزید دو کشمیری شہید... ٭ سعودی عرب کو بھی تشویش٭ سلمان شہباز شریف اشتہاری‘ جائیداد ضبط٭ نیب کے اختیارات مزید کم کر دئیے گئے...٭ پٹرولیم: ٭ وزیر کا کمی کا اعلان ‘ وزارت خزانہ کی تردید... ٭آصف زرداری پھر جیل میں ...٭ جے یو آئی مظفرآباد میں مظاہرہ کرے گی‘ فضل الرحمان...٭ راجہ پرویز اشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری۔
 
میڈیا میں تفصیل آچکی ہے۔ ملک بھر میں قوم باہر نکل آئی ۔مقبوضہ کشمیر کی  آزادی کے نعرے‘ ریلیاں! ایک دن اور گزر گیا۔ عین اس وقت جب پاکستان آزادکشمیر میں ریلیاں نکل رہی تھیں‘ مقبوضہ کشمیر میں بارہ مولہ کے علاقے سوپور میں بھارتی فوج  نے مزید دو کشمیری شہید کر دئیے۔ اس موقع پر بھارتی فوج کا چیف آف سٹاف جنرل ‘‘بپن راوت‘‘ کنٹرول لائن پر پرواز کرتے ہوئے فوج کو ہدایات دے رہا تھا۔ مقبوضہ علاقے میں کرفیو کو 26دن ہوگئے ہیں۔ گھروں میں قید لاکھوں خاندانوں کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ‘ عرب لیگ‘ بین الاقوامی ریڈ  کراس ‘ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل حتیٰ کہ عالم اسلام  کی نام نہاد اسلامی سربراہی تنظیم سب خاموش ہیں! ترکی کے سوا کسی اسلامی ملک کی طرف سے بھارت کے انسانیت سوز مظالم پر مذمت کا ایک لفظ تک نہیں آیا۔ عرب ممالک کا اسلام سے اتنا ہی تعلق ہے‘ جتنا اسرائیل کا ہوسکتا ہے۔ سب مغربی استعمار کے غلام‘ ڈالروں کی ہتھکریاں‘ پائوں میں پونڈوں کی بیڑیاں!
بھارت کے وزیر جنگ راج ناتھ نے اعلان کیا تھا کہ بھارت نے ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کا عہد واپس لے لیا ہے۔ اس پر پاکستان نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ٹائمز آف انڈیا اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ بھارتی وزیر کے اس بیان پاکستان کے وزیراعظم عمران نے جو سخت ردعمل ظاہر کیا اور جواب میں بھارت کو سخت دھمکی دی‘ اس پر دنیا بھر میں سنسنی اور اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔ اخبار کے مطابق مختلف اطراف سے بھارت اور پاکستان سے رابطے قائم کئے گئے ہیں اس پر بھارت نے محتاط رویے کا یقین دلایا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا نے اس بارے میں کچھ اہم معلومات بھی جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 13890ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ان میں سے 90فیصد صرف امریکہ اور روس کے پاس ہیں۔ اخبار کے مطابق بھارت کے پاس 5000کلو میٹر تک مار کرنے والے میزائل ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 2750کلومیٹر تک مار والے میزائل ہیں  جو پورے بھارت کو زد میں لے سکتے ہیں۔ (پاکستان کے پاس  7ہزار کلو میٹر تک  کے میزائل ہیں) اخبار نے مزید لکھا ہے کہ امریکہ نے 1945ء میں ناگاساکی پر 15کلو ٹن اور ہیروشیما پر 20کلو ٹن طاقت کے بم گرائے تھے۔ اس وقت بھارت کے پاس 60کلو ٹن اور پاکستان کے پاس 45کلو ٹن کے بم ہیں۔ (یہ اعداد بھی غلط ہیں‘ پاکستان کے پاس زیادہ طاقت کے بم ہیں)  اخبار لکھتا ہے کہ دونوں ملک بیک وقت دہلی اور اسلام آباد پر 100کلو ٹن کے بم گرا سکتے ہیں۔ ان کی تباہی جاپان کی تباہی سے چھ سات گنا ہوگی۔ اس سے کروڑوں افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔ آخر میں اخبار نے دونوں ملکوں کو مشورہ دیا ہے کہ ایسے حساس معاملات میں ذرا سی بھی غیر محتاط بات بہت سنگین ثابت ہوسکتی ہے اور یہ کہ ایٹمی ہتھیار کوئی پہلے استعمال کرے‘ اس کا اپنا بھی اتنا ہی نقصان ہوگا۔
نیب کو زیادہ سے زیادہ بے اختیار کیا جارہا ہے۔ پہلے طے تھا کہ نیب 10کرور سے زیادہ ناجائز آمدنی کا محاسبہ کر سکتا ہے یہ حد اب 50کروڑ کر دی گئی ہے‘ ایک دو روز میں باقاعدہ اعلان ہو جائے گیا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ  50کروڑ کی کرپشن جرم تصور ہوگی‘ 49کروڑ کی کرپشن قابل معافی  بکلہ قابل عیش ہے۔ یہ بجائے خود مزید کرپشن کا راستہ کھولنے والی بات ہے ۔  50کروڑ سے اوپر کرپشن والا مل ملا کر یہ رقم 49کروڑ99لاکھ 99ہزار روپے کرالے تو معاملہ ختم ہو جائے گا! اصل معاملہ یہ معلوم ہوا ہے کہ نیب نے کرپشن کے الزام میں اپوزیشن کی گرفتاریوں کا کوٹا مکمل کرلیا ہے۔ اب صرف دوچار لیڈر باہر رہ گئے ہیں اور اب اقتدار کے ایوانوں کے مگرمچھوں والی فہرستیں زیر غور ہیں۔
 ملک کی 72سالہ تاریخ میں ہمیشہ حکومت پاک صاف اور اپوزیشن مجرم قرار پاتی رہی ہے۔ یہی اپوزیشن اقتدار میں آکر صاف شفاف ہو جاتی ہے اور حکومت اپوزیشن میں تبدیل   ہو کر بے حد کرپٹ ثابت ہو جاتی ہے۔ اب تو دونوں کو کوئی ڈر باقی نہیں۔ 50کروڑ سے کم والے سینکڑوں کیس ختم ہو جائیں گے۔ ہر طرف خوشی اور مسرت کے جشن‘ کیا لوٹ مار کا کھایا پیا سب ہضم! پنجابی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ ’’یار سب سچیاں! بلی موٹی (مر گئی) تے چوہا نچیا!‘‘ اب بے شمار چوہے ناچیں گے!
کیا مثالی حکومت ہے! ہر روز صبح دوپہر‘ شام پریس کانفرنسیں کرنے والی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور توانائی کے وزیر عمر ایوب نے مشترکہ پریس کانفرنس میں پٹرول اور ڈیزل وغیرہ کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان کیا(پٹرول 4.59روپے کم) ان دونوں کا ابھی فوٹو سیشن ختم نہیں ہوا تھا کہ وزارت  خزانہ کا اعلان آگیا کہ کون سی کمی؟ کیسی کمی ؟ ان دونوں کو کس نے ایسے اعلان کرنے کا اختیار دیا ہے؟ کمی کا اعلان وزارت خزانہ خود کرے گی! آج تک ایسی شتربے مہار حکومت سامنے نہیں دیکھی۔ کابینہ متنخب‘ غیر منتخب ہر رکن ’’عمران خان‘‘ بنا ہوا ہے۔ ہر کوئی وزیر‘ وزیر خارجہ‘ پارٹی کا ہر رکن وزیراعظم کا ترجمان! بھانت بھانت سے جمع ہونے والی بھان متی کے کنہہ میں ہر طرف راجے اور رانیاں گھوم پھر رہے ہیں۔ اپنے اپنے راگ گا رہے ہیں‘ اپنے اپنے طنبورے بجا رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کو وزیر خارجہ کہا جاتا ہے‘ مگر فواد چوہدری‘ فردوس عاشق اعوان اور نعیم الحق خارجہ پالیسی چلا رہے ہیں۔ خارجہ امور پر ایک دوسرے سے بڑھ کر بیانات‘ اعلانات!  میں نے ذوالفقار علی بھٹو کا دور بھی دیکھا ہے۔ موصوف نے وزیروں سے حلف اٹھوانے سے پہلے ان سب سے استعفیٰ لکھوا کر رکھ لئے تھے۔ یوں ساری کابینہ بھٹو کے انگوٹھے تلے دبی رہتی تھی۔ وزیر بھٹو کے دفتر کے پاس سے گزرتے ہوئے گھبراتے تھے‘ بھٹو کے  بلانے کا انداز بھی حاکمانہ تھا ’’ جے  اے رحیم‘ غور سے سنو! مولوی (کوثر نیازی) میں آئندہ ایسی غیر محتاط باتیں نہ سنوں! اور ہاں  گزشتہ رات کے صدر کے عشائیے میں کھانا شروع ہونے سے پہلے تم نے انگور کے دانے کیوں کھائے تھے؟ تمیز اور آداب سیکھو!  بہت سی باتیں‘ آخر میں پھر وہی بات کہ موجودہ کابینہ میں ہررانی‘ مہارانی‘ ہر راجہ مہاراجہ! اور عالم وہی کہ  ایک تھا تیتر ‘ ایک بیٹر ‘ لڑنے میں تھے دونوں شیر‘ لڑتے لڑتے ہوگئی گم‘ ایک کی چوند اور ایک کی دم!

تازہ ترین خبریں