06:37 am
ایران کے لئے کچھ مسرت و کامیابی اور حمایت

ایران کے لئے کچھ مسرت و کامیابی اور حمایت

06:37 am

گزشتہ ہفتہ یمنی حکومت کے عدنی علاقوں پر امارتی ہوائی حملے ہوئے ہیں
گزشتہ ہفتہ یمنی حکومت کے عدنی علاقوں پر امارتی ہوائی حملے ہوئے ہیں۔ تعجب اور حیرت کہ سعودی پناہ میں موجود یمنی حکومت اماراتی معتوب ہوگئی اور جنوبی یمن قائم کرنے والے علیحدگی پسندوں کی آسانی سے مدد ہوگئی ؟ یمن میں کیا سعودیہ و امارات میں ’’مفادات‘‘ پر اختلاف پیدا ہوگیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ بات ایرانی مسرت کا سامان ہے کیا امارات اور ایران میں چین کی وساطت سے مصالحت ہورہی ہے؟
جان بولٹن صدر ٹرمپ کے متشدد مزاج قومی سلامتی کے مشیر ہیں۔ ان کے سخت گیر مشوروں کے سبب انہیں افغان مذاکرات سے الگ کر دیا گیا ہے۔ جان بولٹن کا صدر ٹرمپ کے غیض و غب کا شکار ہونا عربوں کے لئے خفت اور ایران کے لئے مسرت ہے۔ جبرالٹر پر برطانوی حبس سے دوچار ہونے والا ایرانی تیل بردار جہاز اب امریکی عتاب کا شکار ہے۔ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ شام کو تیل لے جانے والے اس جہاز کا بحیرہ روم میں داخلہ بند ہے۔ ایرانی موقف ہے کہ انہوں نے تیل فروخت کرکے جہاز پر لاد دیا تھا۔ جہاز کا کپتان کہاں تیل فروخت کرتاہے؟ یہ ایرانی مسئلہ نہیں۔ میں ایرانی موقف کی حمایت کرتا ہوں اور امریکی بندش کہ بحیرہ روم میں اس تیل بردار جہاز کا داخلہ بند ہے کو غلط قرار دیتا ہوں۔ ویسے شام کے حوالے سے عرب دشمن جو کردار امریکہ نے اپنایا ہوا ہے اس کا بھی سارا فائدہ تو ایران کو ہی ملا ہے۔ ایران کے لئے خوشی کی ایک یہ خبر بھی ہے کہ یورپی یونین نے خلیج فارس میں امریکی بحری اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ معاملہ جواد ظریف کی عمدہ خارجہ پالیسی کا عکاس اور عربوں کی کمزور خارجہ پالیسی کو بھی عیاں کرتاہے۔
میری نظر میں امریکہ و ایران اصلاً تو ایک ہیں۔ یہ ’’جنگ اور جنگ ‘‘کی باتیں محض عربوں کو بے وقوف بناکر انہیں مسلسل لوٹنے اور ایران سے خوفزدہ رکھنے کی حکمت عملی ہے۔ عرب اس حوالے سے مسلسل دھوکے میں ہیں جبکہ امریکہ و ایران دونوں مل کر عربوں کا بھرکس نکال رہے ہیں۔
ایرانی یہودیوں کو استعمال کرتے ہوئے عمدہ حکمت عملی والے جارح ایران کو عرب کیسے جارحیت سے روک سکتے ہیں؟ عرب عدم فراست تو بھارت میں مقیم اماراتی سفیر کے غیر مدابرانہ بیان سے بھی نمایاں ہوگئی تھی جبکہ مودی کی حمایت میں کشمیر یر  اماراتی سفیر کا بیان اماراتی تین جزیروں پر ایرانی قبضے کو بھی تو جائز بناگیا ہے۔ کیا اماراتی مدبرین کو اپنے اس عظیم نقصان کا احساس ہوگا ؟ شائد بالکل بھی نہیں۔ امارات و البحرین میں جس طرح مسلمان دشمن اور قصائی مودی کو تمغے و اکرام سے نواز گیا ہے اس سے عوامی سطح پر اور اہل دانش و قلم میں ایرانی مخالفت ختم اور عربوں کیلئے ناپسندیدگی کا طوفان امڈ آیا ہے۔ لمحوں کی خطاء صدیوں کی سزا۔ شائد ایسے عرب نادان رویوں کے لئے ضرب المثل ہے۔ جس طرح ترکی نے مظلوم کشمیریوں  کی حمایت کی وہ  محبوب ہوگیا ہے جبکہ ایران محبوب ترین اور عرب معتوب ترین ہیں۔  حالانکہ ایران نے اپنی پارلیمانی قرارداد میں5 اگست کے مودی اقدامات کو نہ غلط کہا نہ اس کی شدید مذمت کی ہے۔ عرب بدنام ہوئے اور عام مسلمانوں کے ہاں معتوب بھی ہوگئے۔ اتنا بڑا زوال عرب دانش و فراست کا؟ اس بدترین زوال کا ازالہ عرب سفراء شائد ہی کر پائیں گے۔
خبر ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود پاک ایران گیس منصوبہ کی تکمیل کے لئے تیسرا معاہدہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ایسا معاہدہ کرنا ایران کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی پاکستان کی بھی ہے۔ ماضی میں سابق صدر زرداری کے عہد میں جو پاک ایران گیس معاہدہ ہوا وہ زمینی حقائق سے کچھ ہٹ کر تھا۔ میں واقف حال ہونے کی بناء پر لکھ رہا ہوں کہ یہ معاہدہ شاہ عبداللہ اور صدر آصف زرداری کے مابین ہوچکی تلخی کے سبب آصف علی زرداری کا سعودیہ مخالف رویہ تھا‘ لہٰذا پاکستانی معاشی مفادات‘ پائپ لائنوں کی تعمیر کے لئے مطلوبہ وقت‘ زمین کا حصول‘ فضا اور موسموں‘ امریکی پابندیوں کو زیر غور لانے کی زحمت زرداری عہد کی حکومت پاکستان نے  گوارہ ہی نہیں کی تھی اسی لئے یہ پائپ لائن تاحال ناتمام ہے۔ ایران نے اپنی طرف کی تمام تعمیرات مکمل کر رکھی ہیں جبکہ پاکستان کی طرف اس کی تعمیرات ناممکن ہوتی رہی ہیں۔
حکومت پاکستان اور حکومت ایران نے باہمی طور پر ایک نئے معاہدے کے بارے میں سوچا ہے کہ اگست2024ء تک پائپ لائن کی تعمیر ہو جائے گی اور پاکستان 750ملین کیوبک فٹ گیس یومیہ خریدنے کا پابند ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کے دوران ہی طے شدہ معاہدہ میں نئی توسیع اور ایران کی طرف سے لیگل نوٹس واپس لینے کا اصولی فیصلہ ہوا تھا۔ پاکستان ایل این جی کے مقابلے میں ایران سے سستی گیس درآمد کر سکتا ہے۔
متوقع نئے معاہدہ کی حمایت کرتا ہوں‘ اس کا سبب پاکستان میں موجود ایرانی سفیر مہدی ہنردوست کا وہ مثبت رویہ بھی ہے جو انہوں نے گوادر (بلوچستان) میں سعودی سرمایہ کاری اور اماراتی تعمیرات و خدمات کے حوالے سے پیش کیا تھا۔ جس وسیع الظرفی کے ساتھ ایرانی پارلیمنٹ نے اہل کشمیر کے حق میں دلیرانہ قرارداد پاش کی ہے وہ قابل ستائش ہے اور  مرشد  اعلیٰ علی خامینائی نے بھی بیان جاری کیا ہے۔آج زمینی حقائق کا تقاضا ہے کہ جہاں ایران درست ہے  اس کی مکمل حمایت کی جائے اور جہاں عرب درست ان کی حمایت کی جائے۔
ایران کو اپنا تیل پوری دنیا میں فروخت کرنے کی اسی طرح مکمل آزادی ہونی چاہیے جیسا کہ روس‘ امریکہ اور عربوں کو بھی حاصل ہے تباہ شدہ معیشت میں ایرانی عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا زمینی رزق اسی طرح حاصل کریں جس طرح امریکہ‘ روس‘ عرب اپنا زمینی رزق تیل فروخت سے حاصل کرتے ہیں۔ خدا کرے کہ ایرانی حکمت کاروں کو یہ سمجھ بھی آجائے کہ وہ چابہار بندرگاہ کو بھارت سے واپس لے لیکر چین کو دے دیں۔ یوں ایران کے لئے رزق کے حصول میں آسانیاں پیداہو جائیں گی جبکہ گوادر اور چابہار کے حوالے سے موجود اندیشے‘ خدشے‘ غلط فہمیاں بھی دور ہوجائیں گی۔
 ایک درخواست کہ ایرانی حکومت اور ولایت فقیہ منصب اپنے ہاں انسانی حقوق کے حوالے سے موجود  جبر وظلم کی کہانیوں پر کچھ سوچے‘ وہ جبر اور ظلم جو اہل صحافت‘ اہل دانش‘ انسانی حقوق کے لئے جدوجہدکرنے والوں کے ساتھ عرب ممالک ترکی اور ایران میں  ہوتا ہے اس کی مذمت کرنا ہمارا حق ہے جواد ظریف وزیر خارجہ ایران کے پاس ایسا کوہ نور ہیرا ہے جس کی فتوحات کی تازہ جھلک فرانس کے شہر میں واضح نظر آتی ہے جہاں صدر ٹرمپ سمیت جی سات کے جمہوری ممالک کے سربراہاں جمع تھے۔
پس تحریر: ریاض میں شاہ سلمان نے دیوان الملکی پر فہد العیسیٰ کو تعینات کیا ہے۔ کیا اسلام آباد میں تباہ شدہ سعودی ساکھ کی بحالی کیلئے کسی فہد العیسیٰ کو بھجوایا جاسکتا ہے؟
 

تازہ ترین خبریں