06:38 am
 برے حالات کی ذمہ داری 

 برے حالات کی ذمہ داری 

06:38 am

الیکشن کے بعد نئی حکومت کو جنم لیے ایک سال سے کچھ زائد عرصہ ہو چکا!
  الیکشن کے بعد نئی حکومت کو جنم لیے ایک سال سے کچھ زائد عرصہ ہو چکا! سیاسی حریفوں کو پچھاڑنے کے بعد اقتدار سنبھالنے کے بعد حکمراں جماعت کیا تبدیلیاں لا نے میں کامیاب ہوئی ؟ اس سوال کے جواب  میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے گروہ متضاد رائے رکھتے ہیں۔ دلائل کم ہیں الزامات زیادہ۔ تہذیب سے عاری اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتی چرب زبانی نے سیاسی مکالمے کی فضا بننے ہی نہیں دی۔ کمال یہ ہے کہ  الزام تراشی میں پیش پیش دو بڑی جماعتیں گزشتہ تین عشروں سے کلی یا جزوی طور پر حکومت میں رہتے ہوئے ملک کا بیڑہ غرق کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔ ضیا ء آمریت میں مجلس شوریٰ ہو یا غیر جماعتی الیکشن سے جنم لینے والی جونیجو حکومت کی کابینہ ۔سیاسی وفا داریاں بدلنے والا ٹولہ  ہمیشہ حکومتی صفوں میں دکھائی دیتا ہے ۔ سن اٹھاسی سے ننانوے تک مسلم لیگ نون اور پی پی پی نے سیاست کے کھیت میں بدعنوانی ، سازش ، انتقام اور کردار کشی کے جو بیج  کاشت کئے وہ آج کانٹوں بھرے تن آور درخت بن چکے ہیں ۔ یہ کانٹے ملک کے وجود کو لہو لہان کر رہے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی محاذ پر پیچیدہ مسائل درپیش ہیں۔ بیشتر مسائل باہم الجھے ہوئے ہیں۔ 
ملک کو استحکام درکار ہے۔ سیاسی محاذ پر ایسا اتفاق رائے درکار ہے جس کا واحد مقصد ملک کے اہم مفادات کا تحفظ ہو ۔  بدقسمتی سے سیاسی قیادت کے دعوے دار ذاتی یا گروہی مفادات  پر قومی مفاد کو ترجیح دینے پر راضی نہیں ۔ کشمیر جیسے حساس معاملے پر عدم اتفاق ایک المیے سے کم نہیں۔  یہ المیہ ایک دو روز میں سامنے نہیں آیا ۔ مدت ہوئی سیاسی جماعتوں نے اپنی  اگلی صفوں میں نظریاتی کارکنوں کی جگہ ذاتی وفاداروں اور قصیدہ خوانوں کو  لا کھڑا کیا ۔  نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سیاسی مباحث اور مکالمے کا رواج ختم ہو گیا ۔ اب مقابلہ قصیدہ خوانوں اور خوش آمدیوں کے مابین بپا ہوتا ہے۔ سرحدوں پر دشمن حملہ آور ہو ! سرحد پار کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہو! ملک کے طول و عرض میں بھارت کے پروردہ دہشت گرد شہریوں کے خون سے ہولی کھیلیں ! ملک معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہو! قصیدہ خوانوں کا موقف یہ ہے کہ ملک کے تمام مسائل کا حل لاڑکانہ یا جاتی امرا سے برآمد ہونے والی قیادت کے برسر اقتدار آنے سے مشروط ہے۔ 
کشمیر پر سفارتی کمزوری کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ ماضی کے حکمراں کوئی مربوط پالیسی نہ دے پائے۔ پالیسی نہ ہونے کے باعث دفتر خارجہ کے بابو صاحبان بھی ہاتھ پر دھرے بیٹھے رہے۔ اب پی پی پی  اور نون لیگ کے قصیدہ خوانوں کا موقف یہ ہے کہ فلاں سال ہمارے قائد محترم نے جنرل اسمبلی میں بڑی دھواں دار تقریر فرماتے ہوئے کشمیر کا تذکرہ فرمایا تھا ۔ جب دلیل کا معیار اس حد تک گر جائے تو سیاسی مباحث ممکن نہیں رہتے۔ ملک کے خیر خواہوں کے لیے لمحہ فکر ہے کہ ایسی نازک گھڑی ،جبکہ کشمیر نزع کے عالم میں ہے اور دشمن پاکستان کی سالمیت کے درپے ہو رہا ہے ، قومی منظر نامے پر ایک سیاسی قائد بھی ایسا دکھائی نہیں دے رہا جو قوم کی راہنمائی کرتے ہوئے قابل عمل حکمت عملی پیش کر سکے۔ خطے میں بحرانی کیفیت سر اُٹھا رہی ہے۔ مشرقی اور مغربی محاذ پر جنگ کے بادل چھائے ہیں ۔
 وطن عزیز چاروں طرف سے بدخواہوں میں گھرا ہے ۔ اس نازک موقع پر نون لیگ کے ایک ارسطوئے زماں نے فرمایا ہے کہ موجودہ حکومت کو گرائے بغیر ملکی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ پی پی پی کے چیئر مین  شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر میں یہ انکشافات فرماتے رہے کہ موجودہ حکمرانوں نے کشمیر کا سودا کر دیا ہے۔ ذرا سوچیں کہ یہ سُن کر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے آگے سینہ سپر کشمیری عوام پر کیا گذرتی ہو گی ؟ افسوس صد افسوس ! حساس ملکی مسائل پر بھی ذاتی مفادات کو ترجیح دینے والے سیاسی بونے آج قومی منظر نامے پر چھائے ہوئے ہیں ۔ بلاشبہ سیاسی نظام دیمک زدہ ہو چکا ہے۔ اعلیٰ آئین ساز ایوانوں میں اس ذہنی سطح کے افراد کی رسائی ہے جو کسی مہذب تعلیم یافتہ معاشرے میں یونین کونسل کی نمائندگی کی بھی اہلیت نہیں رکھتے ۔ جہاں قانون بنایا جاتا ہے وہاں قانون توڑنے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں ۔ جن نمائندوں نے قومی پالیسیاں بنانی تھیں وہ نالیاں ، گلیاں اور ہینڈ پمپ لگانے کے منصوبے بنا رہے ہیں ۔ 
جہاں قانون کی پاسداری کا علم بلند ہونا تھا وہاں مال بنانے اور مال مسروقہ بچانے کے منصوبے گھڑے جا رہے ہیں ۔ یار لوگوں نے تو حرم پاک اور دیار رسولﷺ میں بھی جوڑ توڑ اور ساز باز کا بازار سجا دیا ۔ اﷲ اور رسول ﷺ کے نام پر بننے والے اس ملک پر یہ ابلیسی گروہ کیسے مسلط ہوئے؟ اس سوال کا جواب ہمیں اپنے اپنے گریباں میں جھانکنے سے ملے گا ۔ آقا کریم ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ جیسی قوم ویسے حکمران!  اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں جب رب کے ہر فرمان کو ہم نے علی الاعلان جھٹلاتے ہوئے زمین پر برائیوں کے علمبردار بن گئے تو روئے زمین کے بدترین گروہ ہم پر حکمرانوں کی صورت عذاب بنا کے مسلط کر دئیے گئے۔ اپنی ابتر حالت کے ذمہ دار ہم خود ہی تو ہیں۔
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا 
 

تازہ ترین خبریں