06:39 am
جلتا کشمیراور سائرن بجاتا پاکستان

جلتا کشمیراور سائرن بجاتا پاکستان

06:39 am

اگر سائرن بجانے، خامو ش رہنے، ٹریفک سگنلز کی بتیاں سرخ کرنے ، ٹریفک روک دینے
اگر سائرن بجانے، خامو ش رہنے، ٹریفک سگنلز کی بتیاں سرخ کرنے ، ٹریفک روک دینے اور ٹرینوں کو کھڑا کر دینے سے فتوحات حاصل کی جاسکتیں، مظلوم مسلمانوں کو پنجہ کفر سے آزادی دلوائی جاسکتی تو راحت الانبیاء امام المجاہدین حضرت محمد کریم ﷺ کو27 غزوات میں نہ نکلنا پڑتا… جنگ بدر سے لے کر جہادافغانستان میں سوویت یونین کے بعد امریکی نیٹو فورسز کی ذلت آمیز شکست تک مسلمانوں نے جب جب ظالم، جارح اور دہشت گرد کفریہ طاقتوں کو شکست دی تو وہ صرف اور صرف جہادی میدانوں میں دی۔
مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے ہمارے پاکستانی بھائی تاریخ کے بدترین مظالم کانشانہ بن رہے… نریندر مودی کے فوجی درندے کرفیو کے باوجود دروازے توڑ کر گھروں میں گھستے ہیں اور  مائوں، بہنوں، بیٹیوں پر خوفناک تشدد کرتے ہیں، گزشتہ روز مجھے یو اے ای کی ریاست شارجہ سے ایک کشمیری دوست کا فون آیا وہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کا رہائشی ہے اور شالوں کے کاروبار کے سلسلے میں عرصہ15 سال سے شارجہ میں سکونت پذیر ہے۔
میرے دوست اشرف کشمیری نے نہایت پریشان لہجے میں بتایا کہ اس کا اپنے گھر والوں سے دو ہفتوں سے رابطہ کٹا ہوا ہے، اس کا کہنا تھاکہ اس کے بوڑھے والدین، تین جوان بہنیں، ایک چھوٹا بھائی نجانے کس حال میں ہیں… پتہ نہیں اب وہ زندہ بھی ہیں یا شہید کر دیئے گئے ہیں؟ یہ کہتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، میں چاہتے ہوئے بھی اسے  دلاسہ نہ دے سکا، دلاسہ دیتا بھی تو کیسے؟ ریاست مدینہ کے دعویدار وزیراعظم تو خود سائرن بجاکر اور خاموش رہ کر کشمیریوں کے لئے احتجاج کررہے تھے، میں اسے دلاسہ دیتا بھی تو کیا؟ جہاد کرنا تو درکنار ’’جہاد و قتال‘‘ کی بات کرنا بھی جرم بنا دیا گیا، اس لئے میں نے اشرف کشمیری کو دلاسہ دینے کی بجائے فون ہی بند کر دیا۔
میں ذاتی طور پر سڑکوں پر احتجاج کا قائل ہوں، لیکن ہر کام اپنے وقت پر اچھا لگتا ہے ، بھارت نے آر ایس ایس اور شیوسینا کے ہزاروں غنڈوں سمیت مزید بھارتی فوجی کشمیر میں داخل کرکے وہاں28 دنوں سے کرفیو لگا رکھا ہے، بھارتی درندے مظلوم کشمیریوں کو دنیا کے خطرناک تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، لاکھوں کشمیری مائوں، بہنوں، بیٹیوں کی عصمتیں لٹ رہی ہیں اور ایٹمی اسلامی نظریاتی ریاست کہ ، کشمیر جس کی شہ رگ ہے سائرن بجاکر اور خاموش رہ کر مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کررہی ہے، نہ جناب وزیراعظم نہ، یہ وقت سائرن بجانے کا نہیں ، یہ وقت خاموش  احتجاج کا نہیں، بلکہ یہ وقت ظالم، جابر، جارح اور دہشت گرد ہندو بنیئے کو سبق سکھانے کا ہے۔
سرینگرمیں پاکستانیوں کی لاشوں پر لاشیں گرتی رہیں، بے گناہ مسلمانوں کا خون بہتا رہے، بہنوں، بیٹیوں کی آبروئیں لٹتی رہیں اور اسلام آباد والے ’’سائرن‘‘ بجاتے رہیں ’’روم جل رہا تھا اور نیرو بانسر ی بجا رہا تھا‘‘ کے بعد آنے والا مورخ یہ لکھنے پر مجبور ہوگا کہ ’’جب کشمیر جل رہا تھا تو پاکستانی حکمران کھڑے ہوکرسائرن بجا رہے تھے‘‘ جناب وزیراعظم!  یہ سائرن بجانے ، ٹریفک اور ٹرینیں روک لینے کا وقت نہیں بلکہ کشمیر کو بھارت کی غلامی سے آزاد کروانے کے لئے عملی جدوجہد کا وقت ہے، بھارت، امریکہ اور دیگر صیہونی طاقتوں  کے دبائو پر اگر آپ کو مولانا محمد مسعود ازہر کا جہاد اچھا نہیں لگتا تھا، حافظ سعید کی کشمیریوں کے حق میں کی جانے والی باتیں اچھی نہیں لگتی تھیں تو چلو کوئی بات نہیں۔اب آپ خود ریاستی سطح پر کشمیر کو آزاد کروانے کے لئے اعلان جہاد کیجئے ، قوم کو سائرن  بجانے پر نہیں بلکہ بھارتی فوج کے خلاف پاک فوج کے شانہ بشانہ جہاد کی ترغیب دیجئے۔
یاد رکھیئے! کشمیر ہمیں حلوے کی پلیٹ میں رکھ کر کوئی پیش نہیں کرے گا بلکہ کشمیر کی آزادی کے لئے آگ اور خون کے سمندر عبور کرنا پڑیں گے۔
یہ خاکسار جب اپنے کالموں میں جہاد مقدس کے حق میں کچھ لکھتا ہے تو بے وضو قادیانیوں کے ساتھ ساتھ سیکولر غامدیوں کے بھی وضو ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں  ، لیکن میں بھی کیا کروں؟ میں جب قرآن و حدیث سے مدد کیلئے چیخ و پکار کرنے والے مظلوم مسلمانوں، عزت مند خواتین، بوڑھوںاوربچوں کی مدد کے حوالے سے سوال کرتا ہوں  تو قرآن پاک کی پانچ سو سے زائد آیات مقدسہ اور رسول اکرمﷺ کی سینکڑوں مبارک احادیث واضح انداز میں مظلوم ، مجبور اور مقہور کشمیری مسلمانوں کی مدد کے لئے جہاد و قتال کے راستے کی ہی نشاندہی کرتی نظر آتی ہیں۔
اقوام متحدہ، عالمی برادری نجانے کس بلا کا نام ہے؟ مجھے تو مسئلہ کشمیر پر مسلم امہ میں بھی انتشار نظر آرہا ہے، کشمیر میں بسنے والے ’’پاکستانی‘‘ بوڑھے ، بچے ،جوان مرد اور عورتیں پاکستان کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں، اگر ہم خاموش رہنے یا سائرن  بجاکر ان کی مدد سمجھتے ہیں تو اس سے بڑا ان سے مذاق ہو ہی نہیں سکتا۔
میں یہ نہیں کہتا کہ پرائیویٹ جہادیوں کو اجازت دیں لیکن وزیر اعظم عمران خان خود تو جہاد کا اعلان کریں، پاک فوج ہر لحاظ سے چاک و چوبند ہے، ہمارے فوجی بھائی روز لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور بمباری سے شہید ہورہے ہیں۔ وزیر ریلوے کو تو ویسے بھی اکتوبر، نومبر تک پاک بھارت جنگ ہوتی نظر آرہی ہے، ہم پھر اکتوبر نومبر کا انتظار کیوں کریں؟ اکتوبر، نومبر تک نجانے بھارتی فوج کتنے بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر چکی ہو؟ کتنی بہنوں، بیٹیوں کی آبروئیں ، پامال کرچکی ہو؟ گائے کا پیشاب پینے والا نریندر مودی اگر جنگ سے نہیں ڈرتا تو ٹیپو سلطان کو ہیرو ماننے والا عمران خان ’’جہاد‘‘ سے خوفزدہ کیوں ہو؟
 

تازہ ترین خبریں