06:41 am
ہجری سال کا آغاز اور عظمت حضرت عمر فاروق ؓ

ہجری سال کا آغاز اور عظمت حضرت عمر فاروق ؓ

06:41 am

ہجری سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے اور محرم کے مہینے میں دو
ہجری سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے اور محرم کے مہینے میں دو بڑی عظیم شہادتیں ہوئی ہیں اور وہ دونوں ہی اُمت کے لیے بہت بڑانقصان ہے۔ یکم محرم کو خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓکی اور دس محرم کو نواسہ رسول حضرت حسین بن علی ؓکی مظلومانہ شہادت ہوئی۔چنانچہ اسلامی سال کا آغاز ہی شہادتوں سے ہو تا ہے اوریہ شہادتوں کا معاملہ پوری اسلامی تاریخ کے اندر بھرا ہوا ہے۔ مکہ میں حضرت سمیہؓپہلی شہید خاتون ہیں اور آپؓ کو ابو جہل نے اس مظلومانہ انداز سے شہید کیا کہ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے زبان لڑکھڑاتی ہے اور انسان کانپ اٹھتا ہے۔ اُن کے شوہر حضرت یاسرؓکے ساتھ بھی انتہائی ظالمانہ سلوک کیا گیا۔ابوجہل نے چار اونٹ تیار کیے اور حضرت یاسرؓ کا ایک بازو ایک اونٹ سے باندھا، دوسرا دوسرے اونٹ کے ساتھ‘ پھر ایک ٹانگ ایک اونٹ کے ساتھ اور دوسری ٹانگ دوسرے اونٹ کے ساتھ باندھی اور چاروں اونٹوں کو مختلف سمتوں میں دوڑا دیا۔ اب ان کے جسم کا جو حشر ہوا ہو گا اس کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔ لیکن شہادت تو ایک اعزاز ہے اور شہید کبھی مرتا نہیں ہے۔قرآن مجید کے دومقامات (سورۃ البقرۃ کی آیت 154اورسورۃ آل عمران کی آیت169)پر اس کو بیان کیا گیا ہیَّ ’’اور مت کہو اُن کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں کہ وہ مردہ ہیں۔(وہ مردہ نہیں ہیں) بلکہ زندہ ہیں‘ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘ 
اس ضمن میں یہ یاد رکھیے کہ شہید کا لفظ قرآن مجید میں بہت استعمال ہوا ہے اور اس کے اصل معنی گواہ کے ہیں۔مثلاًرسول اللہﷺ کے بارے میں فرمایا گیاا ’’اے نبیؐ !یقینا ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا‘‘۔یہاں پر شہید گواہ کے معنی میں ہے ۔قرآن مجید میں صرف ایک مقام ہے، جہاں لفظ شہیدمقتول فی سبیل اللہ کے معنی میں آیا ہے۔ سورئہ آل عمران میں غزوئہ اُحد کے بعد کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  ’’اور وہ چاہتا ہے کہ تم میں سے کچھ کو مقامِ شہادت عطا کرے‘‘۔ یہاں شہید سے مراد وہ ہے جو اللہ کے دین کے غلبے کے لیے قتل کیا جائے اور اسی کو مجاہد فی سبیل اللہ قراردیا گیا ہے۔چنانچہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ سے سوال کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ!کوئی اپنے قبیلے کی عظمت اور آزادی کے لیے جہاد کر رہا ہے ، کوئی مالِ غنیمت کے حصول اور کوئی شہرت کے لیے جہاد کر رہا ہے تو ان میں مجاہد فی سبیل اللہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو اللہ کا کلمہ سر بلند کرنے کے لیے لڑتاہے تو وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے‘‘۔ ایسا مجاہد جب اللہ کی راہ میں جان دے دے توگویا اس نے اپنے وجود سے گواہی دے دی کہ اس کا سب کچھ اللہ ہی کے لیے تھا۔
 علامہ اقبال نے اس کو بڑے عجیب انداز سے بیان کیا ہے کہ:
 چنان خود را نگہ داری کہ با این بی نیازی ہا
شہادت بر وجود خود ز خون دوستان خواہی
مقامِ بندگی دیگر ‘ مقامِ عاشقی دیگر
ز  نوری سجدہ میخواہی ز خاکی بیش از آن خواہی 
پہلے شعرمیں اقبال کہتے ہیں کہ اے اللہ تو انتہائی بے نیاز ہے‘لیکن اس کے باوجود تجھے اپنی ذات کا اتنا احساس ہے کہ تو چاہتا ہے کہ تیرے دوست اپنا خون دے کر تیری ذات کی گواہی دیں کہ واقعی تو موجود ہے۔دوسرے شعر میںاقبال کہتے ہیں کہ ایک ہے مقامِ بندگی‘یعنی اپنے آقا کے سامنے سر جھکا دینا اور اس کا ہر حکم مان لینا‘جبکہ ایک ہے عاشقی اور محبت کا مقام‘تویہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔اے اللہ!فرشتوں سے توتیرا تقاضا سجدہ ریز ہونے اور تسبیح و تحمیدکا ہے‘لیکن انسانوں سے تیرا تقاضااِس سے کہیں بڑھ کر ہے یعنی تیرے راستے میں جان لٹانے کا ہے۔اللہ تعالیٰ کو عاشقوں سے یہی مطلوب ہے اور اسی کی توثیق ہوتی ہے سورۃ الصف کی آیت4 سے ، وہاںفرمایا: ’’اللہ کو تو محبوب ہیں وہ بندے جو اُس کی راہ میں صفیں باندھ کر قتال کرتے ہیں ‘جیسے کہ وہ سیسہ پلائی دیوار ہوں۔‘‘
اللہ کی راہ میں لڑنے اور قتال فی سبیل اللہ کا مقصد اور سبب یہ ہے کہ اس زمین پر غیر اللہ کا نظام اللہ کے وفاداروں کو برداشت نہیں ہے۔ اگر ان کے اندر غیرتِ دینی ہے تو اس زمین پر اسی کا نظام قائم ہونا چاہیے جو اس کا مالک اور خالق ہے اور اس نے پورا نظام دین اسلام کی شکل میں دے دیا ہے۔ اسی نظام کے اندر ایک بہت بڑی شق سود کی حرمت کے حوالے سے ہے اورہمارا حال یہ ہے کہ آج ہم اللہ کے دشمنوں کے خلاف جنگ نہیں کر رہے بلکہ اللہ اور رسول (ﷺ) سے جنگ کر رہے ہیں اور اس پر ہمیں کوئی تشویش تک نہیں ہے۔نہ ہماری حکومت کو کوئی پروا ہے اور نہ عدلیہ کو‘ بلکہ الا ماشاء اللہ پوری قوم کو بھی کوئی پروا نہیںہے۔
بہرحال یکم محرم سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے اور یکم محرم کو ہی حضرت عمر فاروقؓ کی عظیم شہادت بھی ہوئی۔آپ کو معلوم ہے کہ اسلامی کیلنڈر کا آغاز کرنے والے بھی حضرت عمرؓ ہی ہیں۔اس زمانہ میں بارہ مہینوں یعنی محرم‘صفر،ربیع الاول‘ربیع الثانی وغیرہ کا تصور تو چلا آ رہا تھا اورپھر ان بارہ مہینوں میں چار مہینے محترم بھی مانے جاتے تھے۔لیکن جب حضرت عمر ؓ نے خلافت سنبھالی اور آپؓ مدینہ میں بیٹھ کر اپنے گورنرز کو خطوط کے ذریعے ہدایات بھیجتے تھے توآپؓ کو احساس ہوا کہ اس میں تاریخ اور سن کا بھی تعین ہونا چاہیے تاکہ معلوم ہو کہ خط کب چلا تھا اور کب پہنچ رہا ہے۔ اس پر آپؓ نے اسلامی کیلنڈر شروع کرنے کا سوچا اور مشاورت طلب کی۔ مشاورت میں چار چیزیں سامنے آئیں:(1) اسلامی کیلنڈر کا آغاز نبی اکرمﷺ کی ولادت سے کیا جائے۔ (2) اس کا آغاز ہجرت سے کیا جائے۔ (3) اس کا آغاز فتح مکہ سے کیا جائے۔ (4) نبی اکرمﷺ کی وفات سے اس کا تعین کیا جائے۔ مشورے کے بعد حضرت عمر ؓ نے فیصلہ دیا کہ اسلامی کیلنڈر کے لیے ہجرت کو بنیاد بنائیں اس لیے کہ یہی وہ واقعہ تھا جس کے بعد اسلام ایک نئے دور میں داخل ہوا ہے‘اسلامی حکومت قائم ہوئی ہے اوراسلامی ریاست کی داغ بیل پڑی ہے۔ 
اب حضرت عمرؓ کی عظمت کے حوالے سے تھوڑی سی گفتگو کرلیتے ہیں۔حضرت عمرفاروقؓکا جو مقام و مرتبہ ہے اور دین میں ان کی جو خدمات ہیں‘ ان کا ایک مختصر سی تقریر میںاحاطہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ ایمان لانے میں تو انہیں قدرے تاخیر ہوئی ہے اورآپؓنبوت کے چھٹے برس ایمان لائے‘لیکن یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کے ایمان لانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ خاص طور پر دعا کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک حدیث کے مطابق نبی اکرمﷺ نے دوافراد کے لیے خصوصی طور پر دعا کی: اے اللہ!عمر بن خطاب اور عمر وبن ہشام (جسے لوگ ابوجہل کے نام سے جانتے ہیں)میں سے کوئی ایک تو ضرور مجھے عطا فرما دے۔اللہ تعالیٰ نے اس دعا کے نتیجہ میں حضرت عمرؓ کو اسلام کی توفیق عطا فرمائی۔ آپؓ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ بعد میں آتے ہیں‘لیکن پچھلوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔ 
(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں