06:43 am
فرقہ وارانہ کشمکش اور اصول انسانیت

فرقہ وارانہ کشمکش اور اصول انسانیت

06:43 am

جناب رسول اکرمﷺ نے جنگ کے ماحول میں جو ہدایات دی ہیں وہ انسانی احترام اور اخلاقیات کی اعلیٰ ترین مثال ہیں
(گزشتہ سے پیوستہ)
جناب رسول اکرمﷺ نے جنگ کے ماحول میں جو ہدایات دی ہیں وہ انسانی احترام اور اخلاقیات کی اعلیٰ ترین مثال ہیں اور میری گزارش ہے کہ جنگی اخلاقیات کا جو معیار اسلام اور جناب نبی کریمﷺنے پیش کیا تھا اسے دوبارہ دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو، صرف اسی پر ہتھیار اٹھا جو جنگ میں شریک ہے، اور املاک کو نقصان نہ پہنچا، مگر آج کے جدید ہتھیاروں نے یہ سارے دائرے توڑ دیے ہیں اور حالت جنگ میں انسانی اخلاقیات کے اصولوں کو قصہ پارینہ بنا دیا ہے۔ 
اصحاب دانش سے میری گزارش ہے کہ اگرچہ ہم بھی مجبوراً آج کے ہتھیاروں کو استعمال کر رہے ہیں جو جناب نبی اکرمﷺ کے ارشاد کردہ جنگی اصولوں اور اخلاقیات کے منافی ہیں، مگر ہمیں اسلام کے ان اعلیٰ اخلاقی اصولوں کا تذکرہ تو نہیں چھوڑ دینا چاہیے اور دنیا کو بتاتے رہنا چاہیے کہ اسلام کے جنگی اصول کیا ہیں اور جناب رسول اکرمﷺنے کن جنگی اخلاقیات کی تعلیم دی ہے۔ 
مذہبی تفریق کا دوسرا دائرہ وہ ہے جو امت کے داخلی ماحول میں پایا جاتا ہے اور اس کے بھی بہت سے پہلو ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو کافر کہہ دیتے ہیں اور گمراہ قرار دے دیتے ہیں جس کی بنیاد پر فرقہ واریت کا وسیع ماحول بن جاتا ہے۔ اس پر تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں ہے اس لیے صرف ایک پہلو پر عرض کرنا چاہوں گا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جن لوگوں کو ان کے کلمہ پڑھنے کے باوجود قرآن کریم نے وما ہم بمومنین کہا اور ان کے بارے میں فرمایا کہ واللہ یشہد انہم لکاذبون اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ ایمان کے دعوے میں جھوٹے ہیں اور جن کو مدینہ منورہ میں ایک متوازی مرکز مسجد ضرار تعمیر کرنے کی کوشش پر قرآن کریم نے کفرا و تفریقا بین المومنین وارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ کا مصداق قرار دیا، ان کے بارے میں آنحضرتﷺ کا معاشرتی طرز عمل یہ تھا کہ ان کا مرکز تو قائم نہیں ہونے دیا گیا بلکہ اسے گرا کر نذر آتش کر دیا گیا، لیکن ان کے ساتھ معاشرتی تفریق کا ماحول قائم نہیں ہونے دیا۔ 
میرا یک طالب علمانہ سا سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضور نبی اکرم ﷺ سے فرمایا کہ جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیہم کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں اور ان کے ساتھ سختی کریں، آنحضرتﷺ نے دس سالہ مدنی دور میں مختلف کافر قوموں کے ساتھ تو بعض روایات کے مطابق ستائیس جنگیں لڑی ہیں مگر منافقوں کے ساتھ ایک لڑائی بھی نہیں کی، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺ نے اس آیت کریمہ پر عمل نہیں کیا؟ نعوذ باللہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ معاملہ یوں ہے کہ کافروں کے ساتھ تو آپ نے تلوار کا جہاد کیا مگر منافقین کے خلاف حکمت عملی کا جہاد کیا کہ نہ انہیں اپنے ملی معاملات میں دخل انداز ہونے دیا اور نہ ہی اپنے خلاف مدینہ منورہ میں کوئی محاذ قائم کرنے دیا۔ ایسے منافقین کا تناسب جنگ احد کے موقع پر ہزار میں تین سو تھا، مگر صرف آٹھ سال میں جناب نبی اکرمﷺ کی وفات پر ان کی تعداد چند افراد تک محدود ہو کر رہ گئی تھی جن کے ناموں کا صرف حضرت حذیفہ کو علم تھا اور ان پر بھی پابندی تھی کہ وہ ان میں سے کسی کا نام ظاہر نہیں کریں گے، یہ جناب نبی اکرمﷺکی معاشرتی حکمت عملی اور تدبر کا شاہکار تھا۔ 
میں نے کلمہ پڑھنے والوں کے درمیان داخلی تفریق کا صرف ایک دائرہ بیان کیا ہے، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے دائرے ہیں جن کے بارے میں فقہا کرام نے مستقل احکام و قوانین بیان فرمائے ہیں ان میں سے کسی ایک سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام اور کفر کے دائرے مختلف حوالوں سے موجود ہیں مگر میری طالب علمانہ رائے ہے کہ معاشرتی تعلقات اور سماجی معاملات کی بنیاد انسانی اخلاقیات اور تقاضوں پر ہوتی ہے، ان دونوں امور کو اپنے اپنے دائرے میں رکھ کر ہی ہم معاملات کو صحیح رخ پر رکھ سکتے ہیں۔ 
یہاں مجھ سے میری گفتگو کے حوالہ سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا قادیانیوں کو بھی ان انسانی اصولوں اور اخلاقیات کے حوالہ سے گنجائش دی جاسکتی ہے؟ میری گزارش ہے کہ ہمارا قادیانیوں کے ساتھ تنازعہ ان کے معاشرتی اور شہری حقوق کے دائرہ میں نہیں ہے بلکہ ان کی طرف سے سماج اور معاشرہ کے متفقہ موقف کو مسترد کرنے کے باعث ہے، اس لیے ان کے ساتھ وہی معاملہ رکھا جا سکتا ہے جو پوری قوم اور سماج کے اتفاقی طرز عمل کی نفی کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر آج قادیانی جماعت سماج کی اجتماعیت کو قبول کر لے اور معاشرہ کے متفقہ موقف کو تسلیم کر لے تو جیسے باقی غیر مسلم سوسائٹیاں پاکستان میں باعزت شہری کے طور پر رہ رہی ہیں، قادیانیوں کا بھی یہ جائز حق ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پوری قوم اور سماج کے متوازی کھڑے رہنے کی بجائے قومی فیصلوں اور دستور کی بالادستی کو قبول کریں ، اس کے سوا یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح راستے پر چلنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔ 
 

تازہ ترین خبریں