07:36 am
ہجری سال کا آغاز اور عظمت حضرت عمر فاروق ؓ

ہجری سال کا آغاز اور عظمت حضرت عمر فاروق ؓ

07:36 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
چنانچہ ایمان لانے کے بعد سے زندگی کی آخری سانس تک سائے کی طرح آنحضور ﷺ کے ساتھ رہے ہیں۔ دو افراد ہر وقت حضور ﷺ کے دائیں بائیں ہوتے تھے اور حقیقی معنوں میں دست وبازو بنے ہوئے تھے‘ وہ تھے حضرات ابوبکرؓ اور عمرؓ ۔ جبکہ حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کا مقام بھی بہت اونچا ہے‘لیکن مکی دور میں تووہ دونوں ابھی صغار صحابہ میں سے تھے۔ البتہ مدنی دور میں وہ جوان ہو چکے تھے اور اب ان کی بھی خدمات ہیں جس میںکوئی شک ہی نہیں ہے۔ 
صحابہ کرامؓ میں حضرت عمرؓ کو کیا مقام حاصل تھا‘اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔جب یہ آیت نازل ہوئی’’اور معاملات میں ان سے مشورہ لیتے رہیں‘(آل عمران۔۱۵۹)‘تو صحابہ کرام ؓنے یہ سمجھا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمرؓ کے بارے میں ہے اس لیے کہ نبی اکرمﷺ ہر معاملے میں ان دو سے ضرور مشورہ کرتے تھے ۔ گویا صحابہ نے اس درجے گمان کیا کہ وہ دونوں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھی اور مشیر ہیں۔ 
چنانچہ اُمت میں یہ طے ہے کہ افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق حضرت ابوبکر صدیقؓہیں۔اُمت کے ایک طبقہ کی رائے اس سے الگ ہے، لیکن بقیہ پوری اُمت کا انتخاب حضرت ابوبکرؓہی ہیں۔ویسے تو صحابی ہونے کے اعتبار سے سب کے سب صحابہ یکساں درجہ رکھتے تھے لیکن کچھ گریڈیشن حضور ﷺ نے خود بنا دی تھی۔ سب سے پہلے عشرہ مبشرہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی اور یہ چاروں خلفاء انہی عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ عشرہ مبشرہ کے بعد اصحابِ بدر ہیں‘ یعنی وہ صحابہ جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔ پھر ہیں اصحابِ بیعت رضوان‘یعنی وہ صحابہ جنہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر موت پر بیعت کی تھی ۔ اس کے بعد بقیہ صحابہ ہیں۔
حضرت عمرؓکے کارناموں کی بات کریں تو ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے خلافت اسلامیہ  میں پہلی مرتبہ ادارے بنائے اور اسلامی نظام کو منظم انداز میں بالفعل نافذ کیا… آنحضور ﷺ  کی رحلت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ذریعے سے اس انقلاب کو استحکام ملا ہے جو انقلاب نبی اکرم ﷺ نے برپا کیا تھا۔ قرآن میں جہاں حضور ﷺ کے مقصدِبعثت کوبیان کیا گیا ہے‘وہیں یہ بتایا گیا کہ آنحضورﷺ کو دو تحائف دے کر بھیجا گیا:ایک ’’الہدیٰ ‘‘اور دوسرا ’’دین حق‘‘۔الہدیٰ سے مراد قرآن کریم ہے اور دین حق سے مراد اللہ کا دین اوردین کی صورت میں دیا ہوا اللہ کا کامل نظام ہے۔
افسوس کامقام یہ ہے کہ آج پاکستان میں 96 فیصد مسلمان ہیں اور بھی بہت سارے ملکوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں، لیکن اللہ کا دین، اللہ کا نظام کہیں بھی قائم نہیںہے۔ آنحضور ﷺ پر الہدیٰ کی تکمیل ہو گئی اور جزیرئہ نمائے عرب پر اللہ کا دین قائم ہو گیا۔ لیکن ابھی اس نظام کی تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں اور آپؐ نے اختیار کر لیا کہ جلداز جلد اللہ سے براہ راست ملاقات ہو۔    حجۃ الوداع کے بعد حضور ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اللہ نے ایک بندے کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ چاہے تو اللہ سے ملاقات کے لیے آ جائے اور چاہے تو ابھی کچھ عرصہ اور گزار لے۔ بندے نے پہلی بات کو قبول کر لیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓنے یہ سنا تو رو پڑے۔ انہیں معلوم ہو گیا کہ اس سے کیا مرادہے اور اس کے چند ہی دنوں کے بعد آپؐ کا وصال ہو گیا۔ آپؐ کے دور میں وہ نظام پوری طرح منظم نہیں ہوا تھا البتہ پورے جزیرئہ نما عرب پر اللہ کا دین قائم ہو گیا تھا ۔  حضرت عمرؓ کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ آپؓ نے قرآنی تعلیمات اور آنحضور  ﷺ کے احکامات کی روشنی میں باقاعدہ ایک نظام عملی طور پر مرتب کیا اوربالفعل پورا نظامِ حکومت نہ صرف قائم کیا‘بلکہ اس کے تمام ادارے بھی بنائے۔
حضرت عمرؓ کے نظامِ حکومت کی تفصیلات جاننے کے لیے آپ  شبلی نعمانی  ؒ کی ’’الفاروق‘‘ پڑھیے گا۔ میں تواس وقت صرف عنوانات ہی دے سکوں گا۔ حضرت عمرؓ نے نظامِ حکومت کے حوالے سے مجلس شوریٰ باقاعدہ قائم کی۔ ملک کو صوبہ جات اور اضلاع کی صورت میں تقسیم کیا۔ محاصل اور خراج وصول کرنے کے لیے ایک پورامحکمہ بنایا۔عدالتی نظام کو باقاعدہ ایک نظام کی شکل میں قائم کیا۔ افتاء کا باقاعدہ ایک ادارہ قائم کیا۔  فوجداری اور پولیس کا نظام بنایا۔ بیت المال اور خزانہ کا بھی محکمہ بنایا۔ حضور ﷺ کے دور میں تومعاملہ یہ تھا کہ مالِ غنیمت میں سے جو کچھ بھی آتا، آپؐ اسی وقت اسے تقسیم کر دیتے تھے۔حضرت ابوبکرؓکے دور میں بھی ایسا ہی تھا ۔  آپؓ نے  تعلیم کا شعبہ بھی بنایا اور مذہبی تعلیم کا بھی الگ سے شعبہ بنایا۔یہ تو میں نے صرف چند ایک نام گنوائے ہیں‘ورنہ جو بھی حکومتی شعبے ہو سکتے ہیں‘حضرت عمر ؓنے وہ سب باقاعدہ قائم کر کے ایک نظام کی شکل میں دنیا کو دکھایا ہے۔یہ ہے ان کا سب سے بڑا کارنامہ! 
 

تازہ ترین خبریں