07:38 am
کشمیر فروشی کا دھماکہ خیز الزام ، مولانا کیا کرنے والے ہیں؟

کشمیر فروشی کا دھماکہ خیز الزام ، مولانا کیا کرنے والے ہیں؟

07:38 am

مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کو31اگست تک مستعفی ہونے کی جو ڈیڈ لائن دی تھی وہ تو گزر گئی ، عمران خان وزارت عظمیٰ سے مستعفی نہیں ہوئے تو کیا اب ’’مولانا‘‘ اکتوبر میں آزادی مارچ لے کر اسلام آباد آئیں گے؟ یہ ہے ملین ڈالرز کا وہ سوال کہ جو ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کررہا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ بات بھی دو ٹوک انداز میں کہی کہ ’’انڈیا سے جنگ نہیں ہوگی، ہم نے بیچا ہے، کشمیر کو  بیچنے والے اور خریدنے والوں   میں جنگ نہیں ہوا کرتی، یہ حکومت کشمیر فروش ہے‘‘
 
جو لوگ مولانا فضل الرحمن  کے طرز سیاست اور انداز و اطوار سے آگاہ ہیں انہیں پتہ ہے کہ ’’مولانا‘‘ دوسرے سیاست دانوں کی طرح نہ تو ہوا میں تیر چھوڑنے کے عادی ہیں اور نہ ہی دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کے قائل، انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر پینتیس، چالیس سالہ دور میں ’’کرپشن اور دیگر سیاسی آلائشوں ‘‘سے اپنے دامن کو بچائے رکھا۔ یہ بھی ان پر خاص اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے، یہ بات میں کوئی سنی سنائی یا ان سے عقیدت اور تعلق کی بنیاد پر نہیں لکھ رہا بلکہ یہ بات عمران  خان کے ایک سالہ دور حکومت میں ثابت ہوچکی ہے کہ ان کا دامن ہر قسم کی کرپشن سے صاف رہا ، عمران خان کی مولانا فضل الرحمن سے نفرت کی حد تک پہنچی ہوئی مخالفت سے کون ذی شعور ناواقف ہے؟
اگر عمران خان حکومت کا بلاشرکت غیرے مالک ہونے کے باوجود ’’مولانا‘‘ کے دامن پر کرپشن کا ایک دھبہ بھی تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تو پھر عقل مندوں کو ان کے صاف ستھرے سیاسی کیریئر پر شک کرنے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟بیوقوف البتہ مفاداتی اور الزاماتی د نیا کے اسیر ہوتے ہیں، اس لئے ان سے شکوہ کیسا؟
وہ سیکولر شدت پسند کہ جنہیں ’’مولانا‘‘ کے چہرے پر داڑھی اور سر پر پگڑی ایک آنکھ نہیں بھاتی میں نے انہیں بھی مولانا کی ’’سیاست‘‘ کا دل سے قائل دیکھا، آج اگر بابائے سیاست نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم زندہ ہوتے تو وہ ’’مولانا‘‘ کی صاف ستھری سیاسی بلندیوں کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سماتے، مولانا فضل الرحمن سے سیاسی اختلاف رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے اور جس کا انہیں حق بھی حاصل ہے، خود مجھے بھی مولانا کی بعض باتوں سے اختلاف ہے لیکن مولانا کی خالص اور ٹھیٹھ ’’پاکستانیت‘‘ سے بھرپور سیاست بہرحال لاجواب ہے۔
مولانا کی سیاست پر نہ امریکی رنگ ہے، نہ برطانوی رنگ، نہ عربی رنگ ہے اور نہ ایرانی اور بھارتی رنگ  بلکہ شاید نوابزادہ مرحوم کے بعد مولانا وہ واحد سیاست دان ہیں کہ جن کی سیاست سے خالص اسلامی پاکستان کا رنگ جھلکتا ہوا نظر آتا ہے۔
مولانا کی سیاسی طرز زندگی کے حوالے سے یہ چند جملے میں نے اس لئے لکھے تاکہ قارئین جان سکیں کہ مولانا اگر عمران خان پر کشمیر فروشی کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ انڈیا سے جنگ اس لئے نہیں ہوگی  کیونکہ کشمیر کو فروخت کرنے والوں اور خریدنے والوں میں جنگ نہیں ہوا کرتی۔اگر یہ ’’الزام‘‘ ہے تو میرے نزدیک اس صدی کا سب سے بڑا دھماکہ خیز الزام ہے، لیکن اگر حقیقت ہے تو پھر سانحہ مشرقی پاکستان سے بھی بڑھ کر قیامت خیز حقیقت ہے کیونکہ1971 ء میں پاکستان ایٹمی ملک نہیں تھا، آج2019 ء میں پاکستان دنیا کی بہترین اور بہادر فوج رکھنے والا ایک ایٹمی ملک ہے ، تب اپنوں اور غیروں کی چیرہ دستیوں سے پاکستان کا ایک حصہ کاٹ کر بنگلہ دیش بنا دیا گیا جس کی کسک آج بھی ہر پاکستانی محسوس کرتا ہے، اگر خدانخواستہ آج 2019 ء میں  حکمرانوں پر لگنے والا کشمیر فروشی کا الزام درست نکلا تو کیا یہ  قوم کے لئے1971 ء سے بڑا صدمہ  نہیں ہوگا؟
’’مولانا‘‘ تو قطعیت کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ جنگ نہیں ہوگی ، لیکن بعض ذرائع یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر پاکستانی عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کیلئے جنگ کرنا بھی پڑی تو وہ کنٹرولڈ جنگ ہوگی۔
بہرحال یہ ساری تدبیریں دنیا کی ہیں اس پر رب کی تقدیر کیا ہوگی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا؟ اب آتے ہیں ملین ڈالرز کے سوال کی طرف کیا واقعی ’’مولانا‘‘ اکتوبر  میں اسلام آباد میں آزادی مارچ لے کر آئیں گے؟ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ’’مولانا‘‘ نے ملک بھر میں ملین مارچ پر ملین مارچ کرکے عوام کو جگا دیا ہے۔
گو کہ حکومت نے بھی مولانا طارق جمیل، کراچی جامعتہ الرشید کے مفتی عبد الرحیم المعروف استاد صاحب وغیرہ کے ذریعے ’’مولانا‘‘ کے آزادی مارچ کو ڈی فیوز کرنے کی اپنی سی محنت شروع کر رکھی ہے،وفاقی وزیر داخلہ بھی اس حوالے سے ایک دھمکی آمیز بیان دے چکے ہیں، مولانا کی جمعیت علماء اسلام کے بعض سکہ بند راہنما وفاق المدارس کے جی ایچ کیو میں ہونے والے اجلاسوں کو بھی مستقبل کے آزادی مارچ کے لئے خطرے کی علامت سمجھتے ہوئے اکابرین وفاق پر اچھے خاصے گرم ہیں۔
میری اس حوالے سے وفاق المدارس کے کسی ذمہ دار سے بات تو نہیں ہوئی لیکن میرا دل ابھی تک یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے  کہ مولانا فضل الرحمن اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان جاری سیاسی مخاصمت میں وفاق المدراس اپنا وزن حکومتی پلڑے میں ڈالنے کے لئے تیا ر ہوگا؟ لیکن اگر ایسا ہوا تو اس سے مولانا کے حکومت  کے خلاف اعلان کردہ   آزادی مارچ کو کوئی خاص فرق پڑنے والا نہیں کیونکہ مولانا کے دبنگ انداز سیاست کو دیکھ کر مختلف دیگر سیاسی پارٹیوں کے عام ورکر بھی آزادی مارچ میں شرکت کے لئے پر  تولتے نظر آرہے ہیں، بہرحال یہ سب حقائق تو اپنی جگہ پر ، مگر سوال پھر وہی ہے کیا مولانا اسلام آباد پر چڑھائی کریں گے، سچی بات ہے کہ جیسے ’’مولانا‘‘ کو  انڈیا سے جنگ ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ویسے ہی اس خاکسار کو بھی اسلام آباد میں ’’مولانا‘‘ کا آزادی مارچ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا، یہ میرا تجزیہ ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے، میری کافی عرصے سے مولانا سے کوئی ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن جتنا تھوڑا بہت میں ان کے انداز سیاست کو سمجھتا ہوں وہ ’’آزادی مارچ‘‘ کا طوفان کھڑا کرکے اس کی آڑ میں اپنے مطالبات کو تسلیم کروانے کی پوری کوشش کریں گے ’’نکے دے ابا‘‘ والی مولانا کی مشہور زمانہ اصطلاح کے مطابق …’’نکوں‘‘ کے ’’ابو‘‘ سمیت بہت سے خا ص لوگ ، خاص پیغام کے ساتھ ’’مولانا‘‘ کے د ربار میں حاضر ہوتے رہتے ہیں، لیکن سنا ہے کہ مولانا کا خاص انداز میں ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ پہلے ’’نکے‘‘ دی چھٹی کرائو… پھر بات ہوگی، مجھے لگ یوں رہا ہے کہ ’’نکے‘‘ سے جتنے کام لینے تھے لے لیے گئے، ممکن ہے کہ اب ’’نکے‘‘ کی ضرورت بھی باقی نہ رہے۔

 

تازہ ترین خبریں