07:38 am
 فسطائیت اور ہندوتوا کی مشترکہ علامت: سواستکا 

 فسطائیت اور ہندوتوا کی مشترکہ علامت: سواستکا 

07:38 am

ہندوتوا کو ’’روایتی معنوں میں فسطائی‘‘ فکر کہا جاسکتا ہے کیوں کہ اس تحریک کی بنیاد بھی ہم فکر اکثریت اور ثقافتی بالادستی کے تصور پر استوار کی گئی ہے۔ اسی لیے یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ ہندوتوا اور فاشزم یا فسطائیت کا تعلق کتنا گہرا ہے؟ یورپ میں جنم لینے والا  فاشزم آمرانہ قوت کے بل پر شدت پسندانہ قوم پرستی، مطلق العنانیت ، مخالفین کو کچل دینے کو جائز سمجھنے والی انتہائی دائیں بازو کی تحریک  تھی، جو سماج اور معیشت دونوں کو مسلح کرنے کے مقاصد کے ساتھ بیسویں صدی کے اوائل میں ابھرنا شروع ہوئی۔ فاشزم میں قوم کی بنیاد نسل  پرستی پر رکھی گئی  تھی اور آبائی رشتوں کو مجتمع رکھنے والی قوت تصور کیا گیا  تھا، ان خیالات سے ہندوتوا کی اس تحریک سے مماثلت فوری طور پرواضح ہونے لگتی ہے۔ 
 
فاشزم کے تصور ریاست میں اس سے  باہر کوئی انسانی  یا روحانی اقدار وجود اور وقعت نہیں رکھتیں۔ یوں سمجھئے کہ فاشزم کامل تسلط کا نام ہے اور فسطائی ریاست اس تسلط کو قائم رکھنے کے لیے اپنی ہی  اقدار وضع کرتی ہے،  اس کی تعبیر و تشریح کرتی اور انسانی زندگی کے ہر پہلو پر نافذ کرتی ہے۔ فاشسٹ ریاست اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے  لیے پراپیگنڈے اور  تعلیم کے ذریعے  رائے عامہ کو اپنی گرفت میں رکھتی ہے اور تعلیمی ومیڈیائی مواد پر کڑے ضابطے لاگو کرتی ہے۔ ہندوتوا کا تصور اس اعتبار سے  بھی فاشزم سے مماثلت رکھتا ہے۔ 
ہندوتوا اور فاشزم  کی بڑی مشترکات میں سواستکا کا نشان  بھی شامل ہے، جو کہ یوروایشیائی ثقا فتو ں میں  مشترکہ طور پر قدیم مذہبی  علامت تصور ہوتا ہے۔  
 یورپ میں فاشسٹوں نے آریائی شناخت پر فخر کے اظہارکے لیے 1930ء کے بعد سے سواستکا کو اپنا نشان بنایا، اس سے قبل یورپ میں اسے نیک بختی کی علامت تصورکیا جاتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے نتائج اور ہولوکاسٹ کی وجہ سے دنیا نے اس نشان کو نازی ازم اور سامی دشمنی سے مخصوص کردیا۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ ہندوتوا کے لیے بھی یہی علامت استعمال ہوتی ہے، فاشزم کے ساتھ فکری یکسانیت بھی اس کا سبب ہے۔ 
نسل پرستی بالخصوص سامی دشمنی بھی فاشسٹ نظریات پر قائم ریاست کے مرکزی افکار کا حصہ ہیں۔ نازیوں کے مطابق جرمن برتر نسل تھے اور خالص آریائی ہونے کے دعوے کی بنیاد پر انہوں نے سواستکا کی علامت اختیار کی۔ اسی لیے انہوں نے اقتدار میں آتے ہی یہودیوں اور رومانیوں کے گرد شکنجہ کسنا شروع کردیا۔ مارچ 1933ء میں پہلا حراستی(کنسٹریشن) کیمپ قائم کیا گیا۔ بھارت میں یہ مرحلہ آنے میں کچھ وقت لگا۔ یہاں  آسام میں غیر ملکی ’بنگالی‘ مسلمانوں کے حراستی کیمپو ں سے آغاز ہوا۔ تعجب ہے کہ بنگلہ دیشیوں نے اس ظالمانہ اقدام کو کیسے برداشت کررکھا ہے؟ 
ہٹلر نے اپنی تصنیف ’مائن کمف‘‘ میں نسلی بنیادوں پر جرمن معاشرے کی تشکیل نو کا منصوبہ بیان کیا۔ نازی فکر میں  سامی دشمنی، کٹر نسل پرستی اور انسانی ترقی کے عناصر کے ساتھ پان جرمن ازم اور جرمن قوم کی ترقی کے لیے سرحدوں میں وسعت جیسے مقاصد کو  جمع کردیا گیا۔ اس حوالے سے بھی نازی فکر کی ہندوتوا سے کئی مماثلتیں سامنے آتی ہیں۔ ساورکر کے مطابق ہندوستان کے مقامی مذاہب ہی ’’ہندوستانیت‘‘ کے معیار پر پوراترتے ہیں۔ اس نے اسلام کو غیر ملکی مذہب قرار دیا جو ہندوستان میں غیر ملکی لائے اور جو مسلمان اس غیر ملکی شناخت  سے علیحدگی اختیار نہیں کرتے، ساورکر کے نزدیک وہ ہندستان میں ’’غیر‘‘ تصور ہوں گے‘ تاہم یہ فسطائی تصور اس سے بھی قدیم ہے۔ آریا سماج نے شدھی تحریک کی بنیاد بیسویں صدی کی ابتدا میں رکھی  اور کانگریس کے ممتاز رکن لالہ لاجپت رائے اس تحریک کے رہنماؤں میں شامل تھے۔ 1923ء میں ’’بھارتیہ ہندو شدھی مہا سبا‘‘ قائم کی گئی، مسلمان اور مسیحیوں کو زبردستی ہندو مت میں داخل کرنا اس کا تنظیم کا ایجنڈا تھا۔ مائن کیمف 1925ء میں لکھی گئی اور جرمن فسطائی نظریے کا آغا ہوا جب کہ ساورکر نے دو برس قبل ہندوتوا کے فاشسٹ نظریات تشکیل دیے۔ حیران کُن طور پر یہ دونوں تحریکیں ہم عصر ہیں اور ہندوتوا جرمنی میں سامنے آنے والے لٹریچر سے دو برس قبل ایک نظریے کی صورت میں سامنے آچکا تھا۔ بھارتی فسطائیت جرمنی میں جنم لینے والی تحریک کی پیداوار نہیں، بلکہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ دو الگ خطوں میں یہ یکساں نظریات آزادانہ طور پر آگے بڑھتے رہے۔ 
ہندوتوا کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یورپی فاشسٹ ماڈل سے اس کی کئی دیگر مماثلتیں سامنے آتی ہیں۔ ہندوتوا کے مطابق ہندو شناخت نسلی اور مشترکہ آبائی رشتوں کی بنیاد پر قائم ہے اور ان دو شرائط کو پورا کرنے والا کوئی شخص جو ہندوستان میں کہیں بھی پیدا ہوا ہو اسے ہندو تصور کیا جائے گا۔ اس فکر میں  موجودہ دور کی قومی ریاستوں کی حدود سے ماورا پورا برصغیر ہندوستان تصور کیا جاتا ہے۔ اس میں ہندوستان کو عورت یعنی ’’بھارت ماتا‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی کوکھ یا مٹی سے جنم لینے والے ہندوستانی ہیں۔ بھارت ماتا کو ایک دیوی کے طور پر دکھایا جاتا ہے جس کی پرستش کی جاتی ہے، اس دیوی کے لباس  رنگ کیسری یا زعفرانی ہے، اس کے ایک ہاتھ میں بھارتی پرچم  ہے اور یہ شیر پر سوار ہے۔ آزادی کی تحریک کے دوران انیسویں صدی کے اواخر میں بھارتا ماتا کی یہ تمثیل سامنے آئے۔ بنگالی مصنف کرن چندرا بینر جی کا کھیل ’’بھارت ماتا‘‘ پہلی بار 1873ء میں پیش کیا گیا۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ قوم پرستانہ نظریات نے پہلے بنگال میں جڑیں پختہ کیں اس کے بعد بنگالی اور ہندوستانی قوم پرستی ساتھ ساتھ پروان چڑھتی رہی۔ 1882ء میں بنکم چندرا چیٹر جی نے ایک ناول ’’آنند مٹھ‘‘ لکھا جس میں ’’وندے ماترم‘‘  کا گیت بھی شامل تھا، بعد ازاں یہ آزادی کی تحریک اور انڈین نیشنل کانگریس کا ترانہ بن گیا۔ 
جب برطانوی راج نے جغرافیائی سروے میں ہندوستان کا نقشہ جاری کیا تو ہندوستانی قوم پرستوں نے اسے بھی ایک علامت بنا لیا۔  ہندوستانی قوم پرستوں نے یورپی قوم پرستی کی جغرافیائی عنصر کو ہندو دیوی کی تمثیل کے ساتھ مدغم کرکے اس کی پرستش اور اس کے لیے قربانی  کی اہمیت پر زور دینا شروع کردیا۔ برصغیر کے غیر تعلیم یافتہ دیہات میں اس تمثیل اور تصور کو بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ ساورکر یا ہندو مہاسبا سے پہلے کانگریس نے بھارت ماتا کی ہندو قوم پرستانہ تمثیل کو اختیار کیا جس سے مذہبی غیر جانب داری یا سیکیولرزم کے اس کے حال و ماضی کے تمام دعوؤں کی نفی ہوتی ہے۔ کانگریس نے اگرچہ صرف پراپیگنڈا کے لیے اس تمثیل کا استعمال کیا لیکن ساورکر کے 1925ء میں قائم کردہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے اس تمثیل اور تصور کو  اپنی تحریک کی سب سے بڑی علامت بنا لیا۔
(یہ کالم سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اکرام سہگل اور برلن کی ہمبلوٹ یونیورسٹی کے شعبہ برائے جنوبی ایشیا کی سابق سربراہ بیٹینا روبوٹکا کے اس موضوع پر لکھے گئے سلسلۂ مضامین کا آخری حصہ ہے)


 

تازہ ترین خبریں