07:39 am
فوری انصاف، ایک دن گرفتار، اگلے روز پھانسی!

فوری انصاف، ایک دن گرفتار، اگلے روز پھانسی!

07:39 am

٭فوری انصاف شروع ہو گیا۔ اربوں کھربوں کی لوٹ مارکے ملزموں نوازشریف اور آصف زرداری کو جیلوں میں ایئرکنڈیشنر، ریفریجرٹر، رنگین ٹیلی ویژن، دو دو ملازم… اور رحیم یار خا ن میں ایک غریب شخص صلاح الدین کو اے ٹی ایم سے پیسے چرانے پر ایک روز گرفتار کیا، اگلے روز تھانے میں ’پھانسی‘ !!تھانے والوں نے پہلے روز فخریہ اعلان کیا کہ ملزم بولتا نہیں تھا، مناسب چھترول پربول بڑا۔ پھر یہ کہ اچانک اس کی طبیعت خراب ہو گئی اور وہ چل بسا! فوری انصاف! اب انصاف کا اگلا منظر! خبر کے مطابق وزیراعلیٰ نے آئی جی سے، آئی جی نے ڈی آئی جی، ڈی آئی جی نے ڈی پی او (ایس پی)، ڈی پی او نے ڈی ایس پی اور اس نے ایس ایچ او سے رپورٹ طلب کر لی! یہ رپورٹ چند روز میں واپس سیڑھیاں چڑھتی ہوئی وزیراعلیٰ کی الماری میں ایسی بے شمار دوسری رپورٹوں کے ساتھ بند ہو جائے گی! انصاف اور کیا ہوتاہے؟ میں پھر دہراتا ہوں، اربوں کھربوں کی لوٹ مار پر شاہانہ مہمان نوازی اور چند ہزار کی چوری پر فوری پھانسی! ایسے واقعات پر ملکوں کے نظام کی بنیادیں ہل جایا کرتی ہیں۔ 
 
٭ایک مہارانی اربوں کے چکر میں جیل میں گئی، فوراً شور مچ گیا کہ الرجی ہو گئی ہے! میں نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ایک شریف خاندان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون اور اس کی بیٹی کو جیل کی سی کلاس میں روتے دیکھا۔ بتانے لگیں کہ محلے میں ایک بااثر شخص کو ووٹ نہ ڈالنے پر انہیں جیل میں ڈال دیا گیا ہے! یہ صرف ایک مثال ہے۔ علامہ اقبال نے ایسے ہی کسی واقعہ پر کہا تھا کہ ’’کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟ دُنیا ہے تری منتظرروز مکافات! ‘‘اور علامہ اقبال نے ہی یہ بھی کہا تھا کہ ’’تمیز بندہ و آقا، فساد آدمیت ہے… حَذَراے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں!‘‘
٭ٹارزن کی واپسی شروع ہوگئی! 40 نئی ٹرینیں چلانے کا اعلان ہوا، ڈیڑھ سو سال پرانی پٹڑیاں اکھڑنا شروع ہو گئیں 35 تک تعداد پہنچی تو روزانہ حادثے ہونے لگے اورواپسی شروع ہو گئی۔ دو ٹرینیں بند ہو گئیں۔ بڑے فخرکے ساتھ ٹرینوں کی میراتھن دوڑ شروع کی تھی، اور اب مُنہ بنائے کہ رہے ہیں کہ بہت نقصان ہو رہاہے، تیسری ٹرین ’راولپنڈی ایکسپریس‘ بھی بند کی جا رہی ہے۔ غصہ کا عالم کہ مسافر ہی نہیں مل رہے! گویا کسی منصوبہ بندی اور سوچ بچار کے بغیر سابق بادشاہ محمد تغلق کا کرداراپنا لیا تھا۔ تغلق نے دہلی کا دارالحکومت اچانک ہزاروں میل دور جنوبی ہندوستان میں منتقل کر دیا۔ درباری کئی ماہ خجل خوار، بھاری جانی ومالی نقصان کے بعد جائے مقصود’دولت آباد‘ پر پہنچے۔ چند ماہ کے بعد واپسی کا حکم جاری ہو گیا۔ محمد تغلق آنے والے زمانوں میں بار بار نئے ناموں کے ساتھ آتا رہا ہے،اب …؟
٭سکھر: سید خورشید احمد نے کہا ہے کہ کراچی کے کچرے کا بہت شور مچایا جا رہا ہے، سکھر کا بھی تو یہی حال ہے، جدھر دیکھتا ہوں، کچرا ہی کچرا! مزید ارشاد کیا ہے کہ فنڈز نہ ہونے کے باعث 300 سکول بند ہوگئے ہیں اور دو ہزار اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں اور یہ کہ وفاق فنڈز نہیں دے رہا! سید صاحب نے وضاحت نہیں کی کہ سکول چلانا تو صوبائی حکومت کا مسئلہ ہے، اس میں وفاق کہاں سے آ گیا؟ یہ کچرا بھی وفاق نے ہی اٹھانا ہے؟
٭اعلانات: ’’کراچی میں کچرا اٹھانا حکومت کا کام نہیں۔‘‘ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ!… جواب: ’’کچرا اٹھانا ہمارا کام نہیں،‘‘ میئر وسیم اختر!… غالباً کراچی کا کچرا اٹھانا ارجنٹائن یا مراکش کی ذمے داری ہے؟ خواجہ آصف کا ایک جملہ اب تک مشہور ہے کہ ’’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے!‘‘
٭بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی سڑک پر چائے اور اس کے آبائو اجداد تیل بیچا کرتے تھے۔ پیشہ کوئی بھی ہو، قابل احترام ہوتا ہے مگر بعض بدبخت لوگ اپنے پیشے کو بدنام کر دیتے ہیں بعض اسے بہت محترم بنا دیتے ہیں۔ پنجاب کے سابق ایک نہائت محترم و مقبول آئی جی پولیس سردار محمد چودھری، 47 کی ہجرت کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کاغذ کے لفافے بنا کر بیچا کرتے تھے۔ رات کو کھمبوں کی روشنی میں پڑھا کرتے، پھر قدرت نے انہیں آئی جی پولیس کے عہدے پر پہنچا دیا۔ سپریم کورٹ کے ایک سابق جج صبح سویرے سائیکل پر اخبار بیچ کر تعلیمی اخراجات پورے کرتے تھے۔ یہ سارے نہائت باعزت اور باوقار کام ہیں۔ قارئین کرام! آئی جی پولیس کے نام پر نادر واقعہ یاد آ گیا ہے۔ انہی کالموں میں بتایا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم بننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو گورنر ہائوس میں بلا کر پیپلزپارٹی کے 17 وکیلوں کی فہرست دی کہ انہیں ہائی کورٹ کا جج بنا دیا جائے۔ ان میں ایسی خاتون بھی شامل تھی جو کبھی کسی عدالت میں کسی مقدمہ میں پیش نہیںہوئی تھی۔ چیف جسٹس کے انکار پر انہیں اس عہدہ سے فارغ کر دیا گیا، یہ 17 وکیل جج بن گئے پھر نکالے بھی گئے۔ یہ لمبی داستان ہے۔ اب نوازشریف کے دور کی ایک کہانی فیس بک پر سابق خاتون ایس پی لاہور نیلمادرانی کی زبانی! کہتی ہیں ’’1986ء میں نوازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ، حافظ صباح الدین جامی آئی جی پولیس تھے۔ نہائت دیانت دار صاف ستھرے افسر تھے۔ پولیس لائنز میں خود تراویح پڑھایا کرتے تھے۔ ایک روز وزیراعلیٰ کا حکم آیا کہ پنجاب میں اے ایس آئی (اسسٹنٹ سب انسپکٹر) کی بہت سی آسامیاں خالی ہیں، ان پر ن لیگ کے ارکان کو بھرتی کیا جائے۔ آئی جی کو معلوم ہوا کہ صوبے میں ایک عرصے سے سینکڑوں حوالدار اے ایس آئی کے عہدہ پر ترقی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر ان سب کو اے ایس آئی کی خالی نشستوں پر ترقی دے دی۔ نوازشریف آگ بگولا ہو گئے، اسی روز جامی صاحب کو آئی جی کے عہدے سے تبدیل کر دیا!‘‘
٭آج کل بھارتی وزیراعظم نریندردمودرمودی کے بارے میں بار باربتایا جاتا ہے کہ وہ آٹھ سال کی عمر سے ہی انتہا پسند ہندو تنظیم ’’آر ایس ایس‘‘ (راشٹریہ سیوک سنگھ) کاکارکن اور عہدیدار رہا ہے۔ یہ تنظیم مسلمانوں کے کٹر دشمن ’’دمودرساورکر‘ نے قائم کی تھی۔ ساورکر، کرم چند گاندھی کی اعتدال پسندی کے خلاف تھا۔ گاندھی کو ایک ہندو انتہا پسند ’گاڈسے‘ نے قتل کر دیا۔ ساورکر کو گاندھی کے قتل کا شریک ملزم قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا،بعد میں رہا ہو گیا۔ تحریک پاکستان کے نامور بزرگ صحافی رہنما مولانا ظفر علی خاں نے ساورکر اور گاندھی کے بارے میں ایک دلچسپ قطعہ کہا جو آج تک مشہور ہے کہ ’’بھارت میں بلائیں دو ہی تو ہیں…اِک ساورکر ایک گاندھی ہے…اِک جھوٹ کا چلتا جَکھڑ ہے! اِک مَکر کی چڑھتی آندھی ہے!‘‘ تاریخ کا باقی ٹانکا قارئین خود لگا لیں۔
٭اسلام آباد اکتوبر میں لاکھوں افراد کے لاک آئوٹ کے لئے دس ہزار رضا کار کام کریں گے۔ جے یو آئی کا فیصلہ! پہلے 25 ہزار رضا کاروں کی اطلاع تھی اور یہ کہ انہیں باقاعدہ وردیاں دی جائیں گی، مزید یہ کہ لاک آئوٹ کرنے والے لاکھوں افراد کی رہائش، کھانا اور بیت الخلا وغیرہ کا انتظام تبلیغی جماعت کے اجتماعات کی طرح ہو گا۔ ظاہر ہے ہزاروں باوردی رضا کار خالی ہاتھوں سے تو ڈیوٹی نہیں دیں گے! ستمبر شروع ہو چکا ہے، اگلا مہینہ اکتوبر کا ہے! تاریخ کا اعلان نہیں ہوا، ممکن ہے کسی روز علی الصبح اچانک اسلام آباد پر قبضہ کر لیا جائے۔
٭اسلامی سربراہی کانفرنس نے28 روز کے بعد مقبوضہ کشمیر پر بھارتی کرفیو پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ ادارہ اور کر بھی کیاسکتا ہے؟ بھارت کے خلاف ایک جملہ بھی کہے گا تو سعودی عرب جدہ میں اس کے صدر دفتر کو ملک سے نکال دے گا۔ پتہ نہیں تشویش بھی کیسے کردی ہے؟ ویسے مراکش، تیونس، مصر، اُردن، شام، عراق کو تشویش کے اظہار کی بھی جرأت نہ ہو سکی!
٭جماعت اسلامی نے کراچی میں بہت بڑے پیمانہ پرکشمیر ریلی نکالی۔ تیز بارش کے باوجود لوگ بہت بڑی تعداد میں آئے۔ اس موقع پر جماعت کے امیر سراج الحق نے اہم اعلان کیا ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر حکومت کے ہر اچھے اقدام کا ساتھ دیا جائے گا۔
 

تازہ ترین خبریں