07:34 am
خداہی جانے کیا ہونے والاہے 

خداہی جانے کیا ہونے والاہے 

07:34 am

آج بہت دن بعد نویدخان ملنے آئے تھے کچھ اداس لگ رہے تھے کافی عرصہ بعد ان کی صورت نظرآئی تھی جب وہ اطمینان سے بیٹھ گئے تو حال احول دریافت کیا،توبولے بھائی براحال ہے سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کروں ۔آپ کوتو معلوم ہے کہ میں نے اپنی سیاست کاآغاز پیپلزپارٹی سے کیاتھاکیاہی اچھے د ن  تھے۔ بی بی کی شہادت کے بعد دل ٹوٹ گیا۔ قیادت بھی بھلے لوگوں کے ہاتھ سے نکل گئی اس لئے میں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ میں تب بھی آپ کے پاس آیاتھاپھر دوستوں کے مشورے سے تحریک انصاف میں شامل ہوگیا۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے الیکشن سے پہلے بڑے سبز باغ دکھائے ،بڑی بڑی باتیں کرکے لوگوں کوخوب پھنسایا ،لوگ ان کے جھا نسے میں آگئے۔ اب ان کے خیال کے مطابق یو ٹرن لیناہی سیاست ہے ۔ انہوں نے اپنے تمام وعدوں پرپانی پھیردیا ہے اور سیاسی انتقام شروع کردیا جس کی وہ ہمیشہ مذمت کرتے رہے تھے۔ اپنی بات اپنے واعدے توڑنے کاشاید ریکارڈ بنارہے ہیں۔ 
 
کہتے تھے کرپشن مافیا کونہیں چھوڑوں گا مگرتمام نامی گرامی کرپٹ لوگوں کو حکومت کاحصہ بنادیا۔ خان نے کتنی قسمیں کھائی تھیں، میں یہ نہیں کروں گا،میں وہ نہیں کروں گا، لیکن وہی سب کچھ کیاجارہاہے جس پرسابقہ حکمرانوں کوتنقید کانشانا بنایا جاتارہاتھا سونے پرسوھاگہ یہ ہوا کہ یاتو قرضے معاف کرانے والوں کے  بارے میں کہاجارہا تھا کہ ان سے پائی پائی وصول کی جائے گی کسی کونہیںچھوڑا جائے گا۔ اب  سارازور مخالفین پرآزمایاجارہاہے اب تین ارب کی خطیر رقم کے قرض داروں کومعاف کردیا گیا۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ خان کوکیا ہوگیاہے کیا ساری باتیں صرف اقتدار حاصل کرنے کے لئے تھیں عوام کوبیوقوف بنانے کے لئے تھیں۔ میں بہت پریشان ہوں میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کیاسب اہل سیاست ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں یاپھر یہ سمجھاجائے کہ  ہمارے سارے حکمران کٹھ پتلی ہیں ان کی ڈ ورکہیں کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے جنہیں عوام سے زیادہ کسی اور کے مفادات کا خیال کرناہوتاہے ۔
    میری عقل کام نہیں کررہی کیا سیاست کے حمام میں سب ہی ننگے ہیں کیاکوئی ملک وملت سے مخلص بھی ہے یاسب اپنے اپنے مفادات کے لئے سیاست میں آتے ہیں۔ مال کمانے میں تو ملک وقوم کی خدمت کے جذبے سے سیاست میں آیاتھا بہت کوشش کررہاہوں سیاست چھوڑنے کی لیکن یہ ظالم ایسی لگی ہے کہ چھٹتی ہی نہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں میں جاکردیکھ لیا سب کاحال ایک جیسا ہی ہے ۔مجھے کیا پورے پاکستان کی عوام کوخان صاحب سے بڑی توقعات تھیں ان کی ایمانداری پربڑا بھروسہ تھا۔ خیال تھا خان جوکہتا ہے وہ کرگزرتاہے وہ ایک نڈربہادر لیڈر ہے لیکن اب ایک ایک کرکے سارے بت ٹوٹ رہے ہیں اب کسی  پر اعتماد کرنے کودل تیار نہیں خان نے امید دلائی تھی کہ تمام قوم کالوٹا ہومال نکلوائو گا، آئی ایم ایف سے کسی قیمت پرقرضہ نہیں لوں گا، اس سے بہتر میں خود کشی کرنا سمجھتا ہوں لیکن ہائے افسوس آئی ایم ایف سے قرضہ بھی لیا اسے مخالفین کے کہنے پریوں ٹرن کانام دیکر قبول بھی کرلیا کوئی ایک بات ہو تورویاجائے یاتوخان میں اتنی سوجھ بوجھ نہیں کہ وہ نوکرشاہی کے مخالف حربوں کوسمجھ سکے یاپھر خان اپنے اوپر والوں کوراضی رکھنے اوراقتدار میں رہنے کیلے آنکھیں بند کرکے اطاعت اور فرمانبرداری کرنے پرمجبور ہے اورشاید خان سے پہلے والے ظاہری حکمران کی بھی ایسی ہی کوئی مجبوری رہتی ہو  گی وہ جب بھی سرتابی کی جرات کرتے ہوئے اپنے آپ کوحقیقی حکمران سمجھنے کی غلطی کرکے اپنی مرضی سے حکومت چلانے کی کوشش کرتے تھے تووہیں انہیں تخت سے تختے پرمنتقل کردیاجاتاہے۔
 اتنے حکمرانوں میں صرف  آصف علی زرداری واحد حکمران تھا جس نے اپنی حکومتی مدت پوری کی جب کہ ان کے مخالفین بار بار انہیں گھر بھیجنے کی کوشش کرتے رہے تھے یہاں تک کہنے سے باز نہیں آتے تھے کہ زرداری تو ایمبولینس میں قصر صدارت سے نکالے جائیں گے۔ حزب اختلاف کی تمام تر کوشش کے باوجود زرداری نے اپنی   مدت پوری کی جوایک ریکارڈ ہے ان سے پہلے نہ ان کے بعد کوئی اپنی حکمرانی کی مدت پوری نہیں  کرسکا شاید یہی وجہ ہو کہ عمران خان اپنے وعدوں پرعمل نہیں کرپارہے لیکن موجودہ صورت حال میں حکومت کی مدت پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ۔
   آنے والے وقت میں اگر نئے حکمران کی ضرورت پڑتی ہے تو کوئی نیا لیڈرآسمان سے توآنے سے رہا۔ موجودہ اچھے برے جیسے بھی ہیں ان میںسے ہی کسی کاانتخاب کیاجائے گا اگر ان کواتنا ناکارہ کردیاجائے گا تو ملک چلانے کے لئے اوپر سے کوئی آئے گا لیکن  اوپروالے شایدایسا نہیں  چاہتے۔ ان کا خیال  ہے کہ احتساب بھی اپنی حد میں رہ کر ہواسی مجبوری سے حکمرانوں نے احتساب قوانین میں ترمیم کومناسب جانا کیونکہ کل کلاں کویہ احتساب کاقانون خودان کے لئے بھی دشواریوں کاباعث بن سکتا ہے۔ میرے خیال میں خان صاحب کو ان کے معاونین مشیران اور مفاد پرست دوست لے بیٹھیں گے۔ بعد میں جوعزت افزائی ہوگی توان میں سے کوئی قریب بھی نظر نہیں آئے گا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تین سوارب کی معافی اگر خان نے اوپرکی مرضی سے کی ہے توپھر بہت سے لوگ عدلیہ سے رجوع کرسکتے ہیں اور اگر خان نے ایسا بیورکریسی کے مشورے پرکیا تو پھر انہیں ردعمل کیلے تیار رہناچاہے۔ 
ایک طرف بھارت سے تنائو چل رہاہے کشمیر جل رہاہے، خان جانے کس بات کاانتظار کررہے ہیں یقینا اس بارے میں جوجوبیانات دیئے وہ اپنی مرضی سے کم اوراوپر کی منظوری سے ہی دیئے ہوں گے۔  عوام کی توجہ کشمیر کے مسئلے سے ہٹانے  کے اور بھی کئی طریقے ہوسکتے ہیں ۔بے پناہ مقروض ملک جو قرض کے سود کی بروقت اپنے سرمائے سے ادائیگی نہ کرسکتا ہوجوسود ادا کرنے کیلئے بھی مزید قرض لیتاہووہ اپنے خالی خزانے سے اتنی بڑی رقم  یک جنبش قلم معاف کیسے کرسکتاہے ضرور اس میں بھی کوئی بھید ہے کیایہ کرپشن بدعنوانی کے زمرے میں نہیں آئے گا۔
 آخر وطن عزیز میں کس قسم کی سیاست کی جارہی ہے کہیں ایساتونہیں کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان پرایسی سرمایاکاری کررہے ہوں کہ پاکستان پر اللہ نہ کرے ایساوقت ڈال دیاجائے کہ وطن عزیز ان سرمایاکاروں کوان کی رقم تودور اس رقم کاسود بھی ادا نہ کرسکے تب وہ ملک پر مکمل اقتدار حاصل نہ  کرلیں کیونکہ اب بھی ان سرمایہ کاروں  نے اپنی شرط پرہی سرمایہ کاری کی جب ہی انہیں ملک کے معاشی اقتصادی اختیارات سونپ دیئے گئے ہیں۔ ملک کاوزیرخزانہ اور گورنر اسٹیٹ بنک سرمایہ کار آئی ایم ایف کے تعینات کردہ ہیں۔ اللہ ہماری ہمارے وطن کی حفاظت کرے۔ آمین
            


 

تازہ ترین خبریں