07:36 am
کربلا کا خونی منظر!

کربلا کا خونی منظر!

07:36 am

جب کبھی سنتوں پر عمل یا مدنی کاموں کے سبب آپ پر ظلم وستم ہو تو اس وقت کربلا کے خونیں منظر کا تصور باندھ لیا کیجئے۔ خاندانِ نبوت کا آخر قصور ہی کیا تھا؟ یہی نہ کہ وہ اسلام کی سربلندی چاہتے تھے، اس مقدس جرم کی پاداش میں گلشن رسالت کے نوشگفتہ پھولوں کو کس قدر بے دردی کیساتھ پامال کیا گیا۔ آہ! گلستانِ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وہ کلیاں جو ابھی پوری طرح کھلنے بھی نہ پائی تھیں ان کو کیسی بے رحمی و سفاکی کیساتھ شہید کر دیا گیا۔ اس وقت سید الشہداء امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کیا گزر رہی ہو گی جس وقت ان کے جگر پارے کٹ کٹ کر خاک و خون میں گر کر تڑپ رہے ہوں گے!
 
کس شقی کی ہے حکومت، ہائے! کیا اندھیرا ہے!
دِن دہاڑے لٹ رہا ہے کاروانِ اہل بیت
آہ! ننھا علی اصغر:۔ آہ! ننھا علی اصغر! اس مدینے کے حقیقی منے کے پیاسے گلے پر جب تیر لگا ہو گا اور یہ شدتِ کرب سے اپنے باباجان امامِ مظلوم، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں تڑپا ہو گا اور پھر جھرجھری لیکر دم توڑا ہو گا، اس وقت نواسۂ رسول، جگہ گوشہ بتول، امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رَنج و اَلم کا کیا عالم ہو گا!
دیکھا جو یہ نظارہ کانپا ہے عرش سارا
اصغر کے جب گلے پر ظالم نے تیر مارا
اور… اور… جب ننھے منے علی اصغر کا خون میں لتھڑا ہوا ننھا سا لاشہ ان کی امی جان سیدتنا رَباب نے دیکھا ہو گا تو ان پر اس وقت کیسی قیامت قائم ہوئی ہو گی۔
اے زمین کربلا یہ تو بتا کیا ہو گیا!
ننھا علی اصغر تری گودی میں کیسے سو گیا
امامِ پاک کی رخصتی:۔ ذرا سوچئے تو سہی اس وقت سیدہ زینب و سیدہ سکینہ اور دیگر بیبیوں رضی اللہ تعالیٰ عنھن اجمعین پر کیا گزر رہی ہو گی جب سیدالشہداء امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے جگرپاروں کو تلواروں سے کٹوانے کے بعد خود جامِ شہادت نوش کرنے کیلئے خیمے سے رخصت ہو رہے ہوں گے!
فاطمہ کے لاڈلے کا آخری دیدار ہے
حشر کا ہنگامہ برپا ہے میانِ اہل بیت
وقت رخصت کہہ رہا ہے خاک میں ملتا سہاگ
لو سلام آخری اے بیوگانِ اہل بیت
کربلا کا تاراج کارواں: اور پھر… پھر… صرف عابد بیمار اور فقط پردہ نشین بیبیاں رہ جائیں‘ سارے خیمے سنسان ہو جائیں‘ باہر ہر طرف خاندانِ عالیشان کے نوجوان اور بچوں کی لاشیں بکھری پڑی ہوں، اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ یزیدی درندوں کی طرف سے لوٹ مار مچے، خیمے جلا دئیے جائیں، سب کو قیدی بنا دیا جائے اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرانور کو نیزے پر بلند کر کے سارا تاراج کارواں ظالمین لے چلیں… اس کا تصور ہی کس قدر دردناک ہے۔ ان لرزہ خیز مناظر کو یاد کر کے ہمارا دل خون روتا اور کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اس منظر کو یاد کریں تو ان شاء اللہ عزوجل اپنی معمولی سی تکلیف کے احساس پر آپ کو خود ہی ہنسی آئیگی کہ کیا ہماری بھی کوئی بیماری ہے!
پیارے مبلغ! معمولی سی مشکل پر گھبراتا ہے
دیکھ حسین نے دین کی خاطر سارا گھر قربان کیا
ایک جانثار: حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہ سے اجازت لیکر سیدنا وہب رضی اللہ تعالی عنہ میدان میں چل دئیے، یہ دیکھ کر لشکر اعدا پر لرزہ طاری ہو گیا کہ گھوڑے پر ایک ماہ رو شہسوار اجل ناگہانی کی طرح لشکر کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے، ہاتھ میں نیزہ ہے، دوش پر سپر ہے اور دل ہلا دینے والی آواز کے ساتھ یہ رجز پڑھتا آ رہا ہے: ترجمہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ امیر ہیں اور بہت ہی اچھے امیر۔ ان کی چمک دمک روشن چراغ کی طرح ہے۔ پھر آپ برقِ خاطف (اچک لینے والی بجلی) کی طرح میدان میں پہنچے، کوہ پیکر گھوڑے پر سپہ گری کے فنون دکھائے، صف اعدا سے مبارِز طلب فرمایا،  جو سامنے آیا تلوار سے اس کا سر اڑایا، گردوپیش خودسروں  کے سروں کے انبار لگا دیا۔ ناکسوں کے تن خاک و خون میں تڑپتے نظر آنے لگے۔
موت اَٹل ہے: یاد رہے! موت اَٹل ہے، عنقریب ہمارے ناز اُٹھانے والے ہمیں اپنے کندھوں پر لاد کر ویران قبرستان میں اندھیری قبر کے اندر منوں مٹی تلے دفن کر کے تنہا چھوڑ کر چلے جائینگے۔ اگرخدانخواستہ غیر شرعی فیشن بھری زندگی ہوئی، بے پردگی کا سلسلہ رہا، نمازوں اور روزوں میں غفلت ہوئی اور اگر اللہ پاک اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو گئے اور عذاب کی صورت درپیش آئی تو پھر اندھیری قبر میں اور وہ بھی سانپ، بچھوئوں کے ساتھ قیامت تک کیسے گزارہ ہو گا؟ لہٰذا ہر دَم موت پیش نظر رہے اور جلد تر ختم ہو جانیوالی مختصر ترین زندگی میں طویل ترین آخرت کی تیاری کر لیجئے۔ 

 

تازہ ترین خبریں