07:37 am
شعلہ بیان لیکن تاثیرندار د!

شعلہ بیان لیکن تاثیرندار د!

07:37 am

ہوتارہاہے،ہوتارہے گا،یہی ہے ریت‘ کوئی نئی بات نہیں،کوئی انوکھاواقعہ نہیں ہے۔خلق خداکے حق میں نغمہ سرائی جرم تھی،جرم ہے،جرم رہے گی۔خلقِ خداکی گردنوں پرسواراس وقت بھی حاکم یہی کرتے تھے اب بھی یہی کرتے ہیں اورآئندہ بھی یہی کرتے رہیں گے۔ کوئی نئی بات نہیں،یہ ہوتارہاہے، ہوتا رہے گا۔آپ زمینی خداں کوللکاریں گے تووہ آپ کوہارپھول پیش نہیں کریں گے۔یہی ہوگا‘آپ آئینہ دکھائیں گے اوروہ اپنی مکروہ صورتوں کودیکھ کر آپ کوپتھرماریں گے۔گولیاں داغیں گے‘ لاٹھیاں برسائیں گے‘آنسوگیس کے شیلوں کی برسات کریں گے لیکن اپنے قلم کوخلقِ خداکی امانت سمجھنے والے کبھی بازآئے ہیں نہ آئندہ آئیں گے۔ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں:
 
ہوں جب سے  آدمِ خاکی  کے حق میں نغمہ سرا
میں دیوتاؤں کے بپھرے ہوئے عتاب میں ہوں
زمینی خداؤں کے زرخریدغلام خلقِ خداکی آوازکو خاموش کرنے کاسپنادیکھتے ہیں اوروہ کبھی شرمندہ تعبیرنہیں ہوپاتا،نہ ہوگاتوبس پھریہی منظرہوگا جوآپ دیکھ رہے ہیں۔قصرِسفیدکا لاڈلا اسرائیل غزہ میں اور سفاک مودی مقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے پرخچے اڑارہے ہیں لیکن اقوام عالم کوگویاسانپ سونگھ گیاہے۔ ہمارے ہاں تومودی کے یارکوغدارکانام دیاگیا لیکن نئے پاکستان کی یہ کیسی تبدیلی کہ خوداپنے ہاتھوں ووٹ دیکر اسے سلامتی کونسل کاممبرمنتخب کرادیااورقوم کوپتہ بھی نہیں لگنے دیاگیا۔ ارضِ وطن پرحملہ آورپائلٹ کوبغیر کسی شرط کے رہاکردیا جس سے سفاک اورظالم درندہ مودی ہاری ہوئی انتخابی مہم جیت گیا۔سچ کوکیوں چھپایا جارہاہے؟ سچائی کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے۔ایسی طاقت جس کامقابلہ کوئی ظالم نہیں کرسکتاکبھی نہیں۔
ہرفرعون یہ سمجھ بیٹھاہے کہ بس وہی ہے عقل وفکرکاعلمبردار بہت ضروری ہے وہ۔اس کی ہدایت ورہنمائی ہی نجات کاسبب ہے۔بس وہی’’میں‘‘کاچکر‘ نحوست کاچکر‘اسی لیے وہ پکارتارہتاہے۔وہی ہے اعلیٰ وارفع،وہی ہے رب اوررب اعلیٰ بھی۔خودفریبی کی چادرمیں لپٹاہو۔موت تواسے چھو بھی نہیں سکتی ۔ سامان حرب سے لیس۔خد ام اس کی حفاظت پرمامورہیں۔ چڑیابھی پرنہیں مارسکی۔ دوردورتک کوئی سوچ بھی نہیں سکتاکہ اسے گزندپہنچاسکے۔جیسے وہ موت کوبھول بیٹھتا ہے خودفریب توسمجھتاہے کہ موت بھی اسے بھول جائے گی لیکن ہوتاکچھ اورہے۔سب کچھ ہوتاہے محافظ بھی،سامان حرب بھی،محلات بھی، سازوسامان بھی، آفرین بھی،واہ واہ بھی سب کچھ ہوتاہے اورپھرنیل ہوتاہے،لہریں ہوتی ہیں،منہ زورلہریںرب حقیقی کے حکم کی پابنداورجب وہ گھرجاتاہے پھردوردورتک کوئی نہیں ہوتامدد گار۔تب وہ آنکھ کھولتاہے اورپکارنے لگتاہے نہیں نہیں،میں ایمان لاتاہوں،ہاں میں موسیٰ وہارون کے رب پرایمان لاتاہوں لیکن بندہوجاتاہے در۔کسی آہ وبکاسے نہیں کھلتااورپھروہ غرق ہوجاتا ہے۔ موت اس کی شہ رگ پردانت گاڑدیتی ہے۔ختم شدنشانِ عبرت داستان درداستان۔
فرعون مرتاہے،فرعونیت نہیں مرتی۔اس کے پیروکارآتے ہیں،آتے رہیں گے پھروہ پکارنے لگتے ہیں،ہمارامنصوبہ کامیاب رہا۔ہم ہیں اعلیٰ وارفع۔ ہمارے پاس ہیں وہ دانش وبینش جوبچالے جائیں گے سب کو۔بس ہمارے پیچھے چلو۔ہماری پیروکاری کروکہ نجات اسی میں ہے۔
مصاحبین کے نعرہ ہائے تحسین اسے اس زعم میں مبتلا رکھتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔اس کی مرضی سے چلتاہے کاروبارحیات لیکن پھرایک اوردریاہوتا ہے اورانجام وہی۔
ایک دن میں نے ان سے پوچھاتھا‘انسان ہیں ہم گناہ توکریں گے،ہوگابھی، پھرکیاکریں؟ تو بولے ‘ہاں یہ توہے،لیکن جب گناہ تنہائی میں سرزد ہوجائے تو تنہائی میں اس کی معافی مانگواور جب سرعام ہو جائے ، اجتماع میں ہوجائے تواجتماع میں کھڑے ہوکرمعافی کے طالب بن جا۔
اورپھر ایک دن انہوں نے یہ بھی کہاتھاسچائی کو اختیارکرویہ روشنی ہے،نجات ہے،رہنمائی ہے، سکون  ہے۔اس کی تلخی میں بھی شیرینی ہے، مٹھاس ہے اور جھوٹ! جھوٹ توبس ہلاکت ہے،اندھیرا ہے، گمراہی ہے،بے سکونی ہے اطمینان کاقاتل جھوٹ ہے او ر ا نسا نیت کابھی‘جھوٹ ایک فریب ہے‘ سہانانظرآتاہے ہے نہیں۔بس سچائی ہی نجات ہے ۔
پھرایک دن انہوں نے اس سے بھی آگے کی بات کی تھی‘سچائی کیلئے زبانِ صادق کاہوناضروری ہے۔ سچائی پاکیزگی ہے اورجھوٹ نجاست۔جھوٹ آلودہ زبان سچائی بیان ہی نہیں کرسکتی توپہلے اپنی زبان وذہن کوجھوٹ کی نجاست سے پاک کرو۔نجس زبان سے اداکیے ہوئے الفاظ بے معنی وبے اثرہوتے ہیں، چاہے سننے میں کتنے ہی خوش کن اورسماعت میں کتنے ہی سروربکھیریں ۔
عجیب بدنصیبی ہے کہ وہ تمام اسلامی ممالک کے سربراہان جوامریکہ کے خوف سے آنکھیں بندکئے بالکل مارے بیٹھے ہیں ،ان کی آنکھوں کے سامنے اورناک کے نیچے دنیا کی سب سے بڑی انسانی جیل مقبوضہ کشمیر میں محصورمسلمان بھوک اورپیاس سے بلبلا رہے ہیں ،ظلم وتشددکے پہاڑتوڑے جارہے ہیںلیکن کسی کوہمت نہیں کہ اس زیادتی پرمل کرکوئی قدم اٹھاسکیں بلکہ سفاک مودی کواپنے ہاں بلاکراعزازسے نوازکرکشمیری شہداء اورارض پاکستان کے باسیوں کے دل کوچیرکررکھ دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیںکب تک مائیں اپنے جوان لاشوں پرماتم کریں؟میں کب تک ان کے نوحے لکھوں؟ آخرصبرکی بھی کوئی حدہوتی ہے۔ استعماری قوتیں بہری واندھی ہوچکی ہیں اورہم اب بھی ان سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ہم نے بھی کشمیریوں کوان ظالم درندوں سے چھڑوانے کیلئے ساری قوم کوآدھ گھنٹے کیلئے سڑک پرکھڑاکرنے کاکیا عجب قدم اٹھایاہے،آزادی اگر ایسے ملتی ہے توکیوں نہ پوراگھنٹہ سڑکوں پرنکل کریکجہتی کااظہارکریں تاکہ غزہ کے مسلمان بھی آزادی کاسانس لے سکیں،وہ بھی تواپنی مددکیلئے پاکستانی سپاہ کوآوازیں دے رہے ہیں۔   
خدارا!خودفریبی سے باہرنکلیں اورسوچیںکیاہما ر ی بداعمالیوں کی بناپرہمیں ایٹمی منصب سے محروم تونہیں کیاجارہا؟ہم کہا ں جارہے ہیں؟اقبال نے کیا جاودانی بات کہی تھی!
سچ کہہ دوں ہے  برہمن گر تو برانہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہوگئے پرانے
 عجیب لوگ تھے وہ ہرمسئلے کی جڑجانتے تھے۔ بہت سادہ بیان،لیکن روح میں اترجاتی تھی ان کی بات اوراب توبہت سے ہیں شعلہ بیان لیکن تاثیرندارد!


 

تازہ ترین خبریں