07:38 am
اڑتی ہوئی خبریں اور آزادی مارچ؟

اڑتی ہوئی خبریں اور آزادی مارچ؟

07:38 am

منگل کی صبح کالم لکھنے کے لئے کاغذ قلم سنبھالا تو انٹرنیشنل ختم نبوتؐ موئومنٹ کے مرکزی امیر مولانا ڈاکٹر سعید عنایت اللہ کا مکہ مکرمہ سے فون آگیا‘ ویسے تو ملک کے اندر رہنے والا ہر پاکستانی بھی ملکی حالات پر تشویش میں مبتلا ہے‘ لیکن جو بیرون دنیا پاکستانی مقیم ہیں ان کی فکر مندی تو پریشانی کی حد تک پہنچ چکی ہے۔
دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانیوں کے لبوں پر بس ایک ہی دعا ہے کہ ’’الٰہی وطن عزیز پاکستان کی خیر ہو‘‘ پاکستان میں بڑھتے ہوئے معاشی استحکام  اور سیاسی بحران نے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کو سخت پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
علم و ادب کے شناور ڈاکٹر سعید عنایت اللہ نے منگل کے دن چھپنے والے میرے کالم بعنوان ’’کشمیر فروشی کا دھماکہ خیز الزام‘ مولانا کیا کرنے والے ہیں‘‘؟ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑے شگفتہ لہجے میں فرمایا کہ ’’لگتا ہے کہ ’’نکے‘‘ دے ابا کولوںتسی پچھ کے کالم لکھیا‘‘ ہے اس خاکسار نے عرض کیا کہ حضرت ’’ہمارا ’’نکے‘‘ سے کبھی تعلق یا واسطہ نہیں رہا تو اس کے ابا سے کیسے ہوسکتا ہے؟ ویسے بھی ہر ’’نکا‘‘ اپنے ’’ابا‘‘ سے ہم جیسے طالب علموں کو ملنے ہی کب دیتا ہے؟ وہ ہنسے اور فرمانے لگے کہ ہاشمی صاحب! ہم دیار غیر میں بیٹھے  ہوئے پاکستانی اپنے ملک کے حوالے سے اچھی خبر سننے کے  منتظر رہتے ہیں۔
یہاں اڑتی اڑتی سی خبریں سنی ہیں کہ شاید کچھ بااختیار لوگ شریف خاندان سے معافی مانگ کر تلافی کرنے کے موڈ میں ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت! اڑتی اڑتی سی خبروں کی کیفیت اڑی‘ اڑی سی رنگت والوں کی طرح ہو جایا کرتی ہے‘ جن کے اپنے رنگ اڑ چکے ہوں‘ وہ معافی‘ تلافی کی افواہیں پھیلا کر زندہ رہنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ لیکن یہ بات زمینی حقیقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے کہ اس وقت مولانا فضل الرحمن سیاسی میدان کے تنہا مرد جری کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں‘ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے‘ یہ تو اللہ جانتا ہے‘ لیکن ’’مولانا‘‘ کا تندوتیز لب و لہجہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ:
مشرق سے ابھرتی ہوئے سورج کی جبیں پر
مرقوم تیرا نام ہے کچھ ہو کے رہے گا
مولانا نے عمران خان پر کشمیر فروشی کا جو الزام عائد کیا ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں  ہے‘ نہ ہی مقبوضہ کشمیر کے عوام کوئی بھیڑ‘ بکریاں ہیں کہ جنہیں جو جب چاہے فروخت کر ڈالے‘ مولانا کے آزادی مارچ کی  کامیابی کے لئے آسیہ ملعونہ کی رہائی‘ ناموس رسالتؐ ‘ بے پناہ مہنگائی‘ یہ عوامل تو اپنی جگہ موجود تھے ہی‘ لیکن اب جو کشمیر فروشی کا تڑکا لگا ہے یہ تو سونے پہ سہاگہ ہوگیا‘ کوئی مانے یا نہ مانے‘ مولانا کے اسلام آباد میں متوقع آزادی مارچ کی کامیابی کے لئے مولانا سے زیادہ خود کپتان کی حکومت کی کوششیں کار فرما ہوں گی‘ جس پرمولانا کو بہرحال حکومت کا مشکور ہونا چاہیے ختم نبوت‘ نظریہ پاکستان یا دینی مدارس کے حوالے سے حکومتی وزیروں کا ہر تنازعہ بیان‘ مولانا کے آزادی مارچ کا مضبوطی کا سبب بنے گا۔
مولانا جب کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے تو تحریک انصاف کے لیڈران گلے پھاڑ پھاڑ کر پوچھتے تھے کہ اتنا عرصہ ہوگیا کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی سنبھالے ہوئے‘آخر اب تک کشمیر فتح کیوں نہیں ہوا؟ اور آج جب تحریک انصاف کے چیئرمین کی پاکستان میں مضبوط ترین حکومت قائم ہوئے ایک سال بیت چکا ہے تو ’’کشمیر‘‘ 29دنوں سے کرفیو کی زد میں ہے‘ مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے پورے کشمیر کو وہاں کی عوام کے لئے  جیل خانہ بنا دیا ہے  لیکن عمران خان حکومت سائرن بجانے‘ آدھ گھنٹے تک ٹریفک بلاک کرنے‘ خاموش رہنے یا اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی دھمکیوں کے سوا کچھ نہیں کر سکی تو کیوں؟ سوال تو بنتا ہے کہ جس تحریک انصاف کے نزدیک پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کا چیئرمین کشمیر فتح کرنے کی قدرت رکھتا تھا‘ آج اسی تحریک انصاف کا چیئرمین کہ جو ملک کا وزیراعظم بھی ہے‘ کشمیر کو فتح کرنے سے عاجز‘ لاچار‘ بے بس اور بے کس کیوں؟
لوگ پوچھتے ہیں کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا مطلب یہ ہے کہ بدنام زمانہ بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوش یادیو تک بھارت کو رسائی دے دی جائے؟ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ پاکستانی قوم بھارتی بالادستی کو کسی قیمت پر قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہے‘ یہی وجہ ہے کہ بھارتی لابی سے وابستہ خواتین و حضرات ٹی وی سکرینوں کے  شہسوار ہونے کے باوجود آج  تک پاکستانی قوم کے دلوں میں ایک فیصد بھی مقام حاصل نہیں کر سکے  بلکہ دجالی میڈیا ان کی جتنی سپورٹ بھی کیوں نہ کرلے تب بھی عوام انہیں  بھارتی ایجنٹ قرار دیکر مسترد کر دیتے ہیں۔
 کشمیر فروشی کا الزام لگا کر مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم عمران خان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے‘ اب عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کے لئے اٹھائے جانے والے عملی اقدامات کے ذریعے مولانا کے اس دعوے کو غلط ثابت کرکے دکھائیں‘ یاد رہے کہ سائرن بجانے‘ خاموش رہنے‘ سنگلز سرخ کرنے اور ٹرینیں روکنے کا کشمیر کی آزادی سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ایسے ڈراموں کو کشمیر کی آزادی کے ساتھ نتھی کیا جائے۔ (وما توفیقی الاباللہ)
 

تازہ ترین خبریں