07:39 am
بھارت کی ایک اور پسپائی!

بھارت کی ایک اور پسپائی!

07:39 am

٭بھارت: یورپی یونین کا اجلاس، مالدیپ میں افغان سپیکر کی مذمتO کابل: مزید دھماکے، طالبان کی کابل کی طرف پیش قدمیO سینٹ: نیب کے خلاف پیپلزپارٹی کا بلO دہلی، پاکستان کا پانی بند کرنے کی تجویز، راجیش پانڈے، لوک سبھاO پولیس لاہور، پولیس کی زیر حراست ایک قیدی ہلاکO وزیراعظم: لاہور میں مدعوصحافیوں سے بات کرنے سے گریزO نوازشریف کے 16 سالہ بیٹے کا ڈرائیونگ لائسنسO سعودی شاہ فیصل کی دہلی دورہ کی شرط!O مقبوضہ کشمیر، کرفیو، ایک ماہ مکمل!
 
٭بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو گلے پڑ گیا۔ دنیا بھر میں رسوائی!افغانستان کے امن مذاکرات سے باہر کر دیا گیا۔ بھارتی وزیرخارجہ سلامتی کونسل کا اجلاس روکنے کے لئے ایک روز پہلے چین گیا، چین نے انکار کر دیا، بھارتی بھاگ دوڑ کے باوجود اجلاس بلایا گیا اور بھارت کے خلاف رائے کا اظہار ہوا۔ بھارت اب یورپی یونین کی خارجہ کمیٹی کا اجلاس بھی نہ رکوا سکا، کمیٹی نے الٹا کرفیو کی مذمت کر دی۔ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان میں بند اپنے جاسوس کل بھوشن کی رہائی کی اپیل کی عدالت نے تسلیم نہیں کیا، کل بھوشن آج بھی پاکستان میں بند ہے۔ مالدیپ میں سپیکرز کانفرنس: پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری بھارت پر برس پڑے، بھارتی سپیکر اپنے وفد کے ساتھ کانفرنس سے باہر نکل گیا۔ اگلے روز افغانستان کے سپیکر نے بھی پاکستان کے موقف کی حمائت اور اس کا مکمل ساتھ دینے کا اعلان کر دیا۔ دنیا بھر میں بھارت کے خلاف ریلیاں نکل رہی ہیں۔ لندن میںبھارت اپنے یوم آزادی پر سفارت خانہ کے باہر مظاہرہ نہ روک سکا! سفارت خانے کے بہت سے پروگرام بند کرنا پڑے۔ میںیہ باتیں اپنے پاس سے نہیں کر رہا۔ خود بھارت کا میڈیا مودی حکومت پر برس رہا ہے۔
٭بھارت کی سپریم کورٹ میں بابری مسجد کیس کی سماعت کا 18 واں دِن۔ متعدد مسلم تنظیموں کے اتحاد نے عدالت میں ایک مشترکہ درخواست دائر کی ہے کہ دو ایکڑ سات کنال رقبہ پر واقع بابری مسجد کے بارے میں ہندوئوں کا یہ موقف بالکل غلط ہے کہ اس جگہ پر کبھی مندر ہوا کرتا تھا۔ درخواست میں واضح انتباہ کیا گیا ہے کہ اگر عدالت نے محض ہندوئوں کے مذہبی بنیادوں والے موقف کی بنا پر مسلمانونں کے خلاف فیصلہ دے دیا تو پھر بھارت میں جو تماشا ہو گا اسے دیکھنے کے لئے دنیا آئے گی!
٭بھارت بارے آخری خبر: بھارتی لوک سبھا (اسمبلی) کے مسلسل رکن راجیش پانڈے نے انکشاف کیا ہے کہ مودی حکومت اچانک پاکستان جانے والے تمام دریائوں کا پانی روکنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ تاہم اس فیصلہ پر برسات کا موسم ختم ہونے پر عمل کرنا ہو گا جب دریائوں میں پانی کم ہو گا!
٭گزشتہ کالم میں آپ نے لاہورپولیس کی سابق ایس ایس پی نیلما درانی کی دلچسپ روداد پڑھی تھی کہ کس طرح وزیراعلیٰ نوازشریف (1986) نے آئی جی پولیس صباح الدین جامی کو ن لیگ کے سینکڑوں کارکنوں کو اے ایس آئی (نائب تھانیدار) بنانے کا حکم دیا۔ آئی جی نے انکار کرتے ہوئے ترقی کے منتظر سینکڑوں حوالداروں کو اے ایس آئی بنا دیا۔ وزیراعلیٰ نے آگ بگولا ہو کر آئی جی کو تبدیل کر دیا۔ آج نیلمادرانی کی ایک اور روداد پڑھئے: لکھتی ہیںمیں ٹریفک پولیس کی ڈی ایس پی تھی ’’ایک روز میرے پاس ایک رکن اسمبلی ایک نوجوان کو لے کر آیا۔ بتایا کہ لڑکے کا نام حسین نواز ہے وزیراعلیٰ کا بیٹا ہے۔ اس کا ڈرائیونگ لائسنس ابھی بنوا دیں، لے کر جانا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی عمر 16 سال ہے۔ لائسنس لینے کے لئے کم از کم عمر 18 سال ہونی چاہئے اور یہ کہ لائسنس لینے سے پہلے ٹیسٹ دینا پڑتا ہے۔ میں نے لائسنس بنانے سے انکار کر دیا۔ وہ شخص سخت غصے کے عالم میں باہر نکلا۔ اسی روز میرا سپیشل برانچ میں تبادلے کا حکم جاری ہو گیا۔ میںخود لائسنس بنانے سے جان چھڑانا چاہتی تھی۔ ہر روز دھمکیاں ملتی تھیں۔ میرا انکار میرے کام آگیا۔
٭وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرے گا۔ یہ محض سیاسی طور پر بھارت کے وزیر جنگ راج ناتھ کے بیان کا جواب ہے جس نے کہا ہے کہ بھارت نے ایٹمی جنگ کی پہل نہ کرنے کا عہد واپس لے لیا ہے۔ ایسے بیانات محض عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ بھارت نے یہ بیان واپس بھی لے لیا ہے۔ ویسے اب زمینی، فضائی اور بحری جنگ کا رواج نہیں رہا۔ دونوں طرف سے دور تک مار کرنے والے تباہ کن میزائل سیکنڈوں کے اندر جنگ کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔ پاکستان کے پاس ایک میزائل ایسا بھی ہے جو بیک وقت دشمن کے چھ شہروں پر بم برسا سکتا ہے۔ ایسے عالم میں پہل کرنے اور جوابی حملہ میں محض چند سیکنڈ لگیں گے۔ ان کا نتیجہ کیا ہو گا؟ بار بار تفصیل بیان کرنے سے دل گھبراتا ہے۔ مجھے اس موقع پر بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی کتاب کی ایک نظم یاد آنے لگتی ہے جو اس نے 21 فروری 1999ء کو گورنر ہائوس لاہور میں اپنے اعزاز میں دیئے جانے والے استقبالیہ میں نوازشریف کی موجودگی میں سنائی تھی۔ یہ ہندی میں طویل نظم ہے۔ اس کا اُردو ترجمہ بھی منظوم ہے۔ اس نظم کے صرف چند بول پڑھئے۔ واجپائی نے کہا (آخری بند) ’’بھارت اور پاکستان پڑوسی… ساتھ ساتھ رہنا ہے… پیار کریں یا وار کریں، دونوں ہی کو سہنا ہے…تین بار لڑ چکے …لڑائی کتنا مہنگا سودا ہے…روسی بم ہو یا امریکی! … خون ایک ہی بہنا ہے…جو ہم پہ گزری، بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے…جنگ نہ ہونے دیں گے!‘‘ واجپائی کے اس دورے کے دو اہم پہلو! وزیراعظم نوازشریف کے حکم کے باوجود پاکستان کی تینوں افواج کے سربراہوں نے بھارتی وزیراعظم کی آمد پر استقبال میں موجود ہونے اور اسے سلامی دینے سے انکار کر دیا۔ تینوں سربراہ کسی تقریب میں شریک نہ ہوئے۔ دوسری بات یہ کہ واجپائی کے اس نظم کو پڑھنے کے ایک ماہ بعدکارگل کی جنگ شروع ہو گئی…
٭بھارت کی باتیں پھر شروع ہو گئیں۔ ایک بات اور یاد آ گئی۔ 1970ء کے عشرے میں سعودی عرب کے حکمران شاہ فیصل کو بھارت کے دورہ کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے شرط عائد کر دی کہ وہ دہلی میں جن راستوں سے گزریں گے، وہاں کسی قسم کا کوئی بُت دکھائی نہیں دے گا۔ بھارتی حکومت نے یہ شرط مان لی اور شاہ فیصل کی آمد و رفت کے راستوں پر تمام بُت ہٹا دیئے گئے۔ ایک عرصہ کے بعد بھارت کا وزیراعظم راجیو گاندھی اسلام آباد آیا تو وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے حکم پر ہوائی اڈے سے اس کی رہائش گاہ کے راستے میں کشمیر کی آزادی کے نعروں والے تمام بینر، ہورڈنگ اور اشتہارات ہٹا دیئے گئے!
٭ایک قاری نے پوچھا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کی تنظیمیں، مقبوضہ کشمیر کے بارے میں کیا کر رہی ہیں؟ کوئی جلسہ، جلوس، ریلی؟ میں نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے کوئی سرگرمی ضرور ہوئی ہوگی مگر میرے علم میں نہیں!
٭وزیراعظم نے گزشتہ روز لاہور کے دورہ کے دوران سینئر صحافیوں سے بات چیت کی خواہش ظاہر کی۔ محکمہ اطلاعات کے اعلیٰ افسروں نے ایک ایک سینئر صحافی(ایڈیٹرز، اینکر پرسنز، بیورو چیفس) کو تین تین بار فون کر کے آنے کی درخواست کی۔ یہ لوگ وزیراعلیٰ ہائوس میں جمع ہو گئے۔ وزیراعظم آئے اور چلے گئے، صحافیوں سے ملنے سے گریز کیا۔ تمام صحافی برہم ہو گئے۔ محکمہ اطلاعات نے عذر پیش کیا کہ وزیراعظم کے پاس وقت کم تھا۔ اندر کی بات پتہ چلی کہ وزیراعظم کے چوبداروں نے انہیں ڈرا دیا تھا کہ صحافی حکومت کے بعض اقدامات اور ان کے نتائج پر خاص طور پر صنعت کاروں کے 208 ارب کے قرضے معاف کئے جانے پر بہت برہم ہیں۔ بہتر ہے ان سے بات ہی نہ کی جائے!
لاہور،رحیم یار خان کے بعد لاہورمیں بھی نجی ٹارچر سیل میں ایک زیر حراست شخص عامر مسیح پولیس کے تشدد سے ہلاک ہو گیا۔ تفتیشی افسر بھاگ گیا۔دو ماہ میں پولیس کے تشدد سے پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے حسب معمول رپورٹ طلب کر لی ہے!
 

تازہ ترین خبریں