07:19 am
ڈیل کی کہانیاں

ڈیل کی کہانیاں

07:19 am

آج کل سوشل میڈیا پر ڈیل کا بڑا چرچا ہو رہا ہے مگر ڈیل کی تفصیلات چونکہ واضح نہیں ہیں اس کی وجہ مختلف حلقوں میں اس کے بارے میں مختلف بلکہ متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔ ان آرا میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ہماری سیاسی جماعتوں کے افکار میں ہے۔ تین قسم کی کہانیاں گردش میں ہیں، میں انہیں کہانیاں ہی کہہ سکتا ہوں کیونکہ ان تینوں کی صداقت کاکوئی ثبوت نہیں ہے۔ پہلی دو کہانیاں تو ایسی ہیں کہ عام ذہن بھی انہیں قبول نہیں کرسکتا۔ بہرحال آپ پہلے یہ کہانیاں سن لیں پھر خود ہی فیصلہ کرلیں کہ حقیقت سے ان کہانیوں کا کیا یا کتنا تعلق ہوسکتا ہے۔
 
پہلی کہانی جو پی ٹی آئی والے پھیلا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ نواز شریف کی کمر ٹوٹ چکی ہے ۔ اس کی بیٹی اور اس کے تمام وفادار حلیفوں کو جیل میں ڈال کر حکومت نے نواز شریف کو شکست فاش دے دی ہے۔ اب مجبور ہوکر نواز شریف حکومت سے استدعا کررہا ہے کہ اسے علاج کے لئے اپنی پوری فیملی سمیت ملک سے باہر جانے دیا جائے۔ اس مہربانی کے عوض وہ دو ارب سے بارہ ارب ڈالر کے درمیان کی کوئی رقم بھی ادا کرنے کو تیار ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ یہ ادائیگی نواز شریف خود نہیں کرے گا بلکہ کوئی اور شخص کرے گا تاکہ نواز شریف کو اپنے کرپشن کے جرائم کا اعتراف نہ کرنا پڑے۔
 اب سوال یہ ہے کہ  اگر یہ کہانی سچ ہے تو پھر یہ ہو کیوں نہیں رہا ۔ اگر ملک کو دس بارہ ارب ڈالر مل جائیں تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان کی جیل میں پڑا ہوا نواز شریف خواہ مخواہ عوامی ہمدردیاں سمیٹ رہا ہے۔ اس کے جواب میں یہ کہانی سنانے والے کہتے ہیں کہ نواز شریف کی درخواست اس وقت تک منظور نہیں کی جائے گی جب تک وہ تحریری طور پر اپنے جرائم کا اعتراف کرکے معافی نہیں مانگے گا اور ذاتی نام سے یہ رقم پاکستان کے خزانے میں جمع نہیں کروائے گا۔ میری ناقص عقل میں تو یہ استدلال ناقص ہے مگر کہانی سنانے والے ہی کہتے ہیں کہ چند مزید(ن) لیگی گرفتار ہو جائیں تو پھر نواز شریف کی عقل ٹھکانے آجائے گی اور وہ حکومت کی سب شرائط مان لے گا۔
دوسری کہانی جو (ن) لیگ والے پھیلا رہے ہیں اس کے مطابق عمران کو لانے والے اب عمران کی کارکردگی سے بہت مایوس ہوچکے ہیں۔ ایک سال میں ملک کی معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا ہے۔ روپے کی قدر بے تحاشہ گری ہے۔ ملکی قرضوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں ۔ دس سے بارہ لاکھ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ کوئی نیا پراجیکٹ سامنے نہیں آرہا۔ صحت، تعلیم ، انفراسٹرکچر سب کا بجٹ کاٹ دیا گیا ہے۔ عوام میں بددلی اور بے چینی پھیلی ہوئی ہے لہٰذا عمران کے لانے والے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ملک کے بگڑے ہوئے سیاسی اور معاشی حالات صرف نواز شریف ہی ٹھیک کرسکتا ہے۔ لہٰذا مختلف بااثر حضرات جیل جاکر نواز شریف سے ملاقات کرکے ان سے معافی طلب کررہے ہیں مگر نواز شریف اڑا ہوا ہے۔
 اب یہاں بھی وہی سوال اٹھتا ہے کہ نواز شریف کیوں اڑا ہوا ہے۔ اگر اسے حکومت واپس مل جاتی ہے تو وہ  کیوں تامل سے کام لے رہا ہے۔ اس کا جواب اس کہانی کے خالق یہ دیتے ہیں کہ نواز شریف ان تمام متعلقہ جرنیلوں اور عمران خان کو گرفتار کرکے ان پر غداری کا مقدمہ چلانا چاہتاہے  جو کہ ظاہر ہے کہ قابل قبول شرط نہیں ہے۔ ایک بار پھر میری ناقص عقل میں یہ بات قرین قیاس نہیں ہے۔ نواز شریف ایک جہاندیدہ شخص ہے جس نے زندگی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں وہ کبھی اس طرح کی بے معنی شرط نہیں رکھے گا۔
اب آئیے تیسری کہانی کی طرف! یہ کہانی بعض بڑے ہی تجزیہ کار صحافی پھیلا رہے ہیں کہ نواز شریف کو صرف یہ ڈیل آفر کی جارہی ہے کہ آپ کوئی رقم ادا نہ کریں صرف خاموشی سے اپنی بیٹی سمیت لندن چلے جائیں اور وہاں جاکر بھی اپنی زبان بند رکھیں۔ نواز شریف یہ پیشکش اس لئے قبول نہیں کر رہا کہ اس طرح ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو جائے گا اور نون لیگ بھی اپنی موت آپ مر جائے گی جو کہ پیشکش کرنے والوں کا اصل  مطلوب و مقصود نتیجہ ہے۔ عمران خان کو طاقت میں لانے والے عمران خان سے مایوس نہ بھی ہوں اتنا ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ نون لیگ کی تمام سینئر قیادت کو جیل میں بند کرکے فائدہ نہیں نقصان ہوا ہے۔ عوامی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز کی جیل میں موجودگی سیاسی فضا کو پراگندہ کررہی ہے۔
 اگر نواز شریف اپنے پیسے بچا کر باہر چلے جائیں تو حکومت ’’نواز شریف بھاگ گیا‘‘ کا ڈھول پیٹ کر عوامی غم و غصہ کو کم کرنے کی کوشش کرسکتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس میں اسے کسی حد تک کامیابی بھی ہو مگر ظاہر ہے کہ اتنی کچی گولیاں نواز شریف نے بھی نہیں کھیلیں۔ وہ اپنی بیمار بیوی کو لندن میں چھوڑ کر اپنی بیٹی سمیت گرفتار ہونے پاکستان آیا تھا، اسے مزید تھوڑی سی مدت جیل میں گزارنے میں کیا عار ہوسکتا ہے۔ نون لیگ والے یہ سمجھتے ہیں کہ جلد ہی نئے انتخابات ضرور ہوں گے اور ان کی کامیابی کے امکانات بہت روشن ہیں کم از کم پنجاب تو وہ واپس لے ہی لیں گے پھر وہ یہ ڈیل کیوں کریں؟
اب آپ ہی سوچیں کہ یہ سب کہانیاں نہیں تو اور کیا ہیں۔ ان کا آپ کو حقیقت سے کوئی تعلق نظر آتا ہے ۔ مجھے تو نہیں آتا۔


 

تازہ ترین خبریں