07:20 am
شہادت کی حقیقت

شہادت کی حقیقت

07:20 am

 (گزشتہ سے پیوستہ)
شہادت ایک بہت بڑا اعزاز ہے، جو اُس شخص کو حاصل ہوتا ہے جو حق کی گواہی دیتا ہے، جو راہ حق میں، دین کے غلبہ کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ لفظ جس طور سے استعمال ہوتا ہے، اس سے اس کے اصل معنی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ دینی کاز کی خاطر جان دینے کے علاوہ دوسرے مقتولوں کو بھی شہید کہہ دیا جاتا ہے۔حالانکہ شہید اصلاًوہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اللہ کے دین کے غلبہ یا تحفظ کے لئے جہاد کرتے ہوئے جان دیتا ہے۔جہاد راہ حق میں جدوجہد کا نام ہے۔ مجاہد حقیقت میں ہے ہی وہ شخص جو راہ خدا میں جہاد کرتا ہے۔حضرت ابوموسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو ریا کاری ،غیرت یا اظہار شجاعت کے لئے جہاد کرتا  کہ ان میں کون اللہ کی راہ میں ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:’’جو شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ سر بلند رہے، وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔‘‘(جامع ترمذی)
 
 اگراُن کے پاس قوت ہو تو اُن پر لازم ہے کہ باطل کو جڑ سے اکھاڑ کر اللہ کا دین (جو انسانوں کے لئے رحمت ہے) قائم کریں۔ محمد رسول اللہ ﷺ   کو کامل رحمت والا نظام عطا کیا گیا۔ جو طبقات اس نظام رحمت کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں، ان کے خلاف صف آرا ہو کر اُن کا قلع قمع کریں۔
 یعنی مجاہد در حقیقت وہ شخص ہے جو اس غرض سے جنگ کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ سر بلندہو جائے،اُس کا عطا کردہ نظام قائم ہو جائے۔ ایسا شخص جب جان دیتا ہے تو وہ صحیح معنی میں شہید فی سبیل اللہ ہوتا ہے۔ شہید لفظ کا استعمال اس کے علاوہ دوسرے معنوں میں بھی آتا ہے ، کیونکہ شہادت کے کئی مراتب ہیں۔ وہ شخص بھی شہید ہے جو اپنے مال و املاک کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے، لیکن وہ شہید فی سبیل اللہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ اپنے وطن کی آزادی کے لئے جنگ کرتے ہیں تو یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے، لیکن یہ جہاد حریت ہے، جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہے۔ تو یہ وہ چیزیں ہیں جن میں عام طور پر لوگ خلط مبحث کر دیتے ہیںاور بات کو سمجھ نہیں پاتے۔ افسوس کہ یہ چیزیں ہماری تعلیم اور نصاب کا حصہ ہی نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب اچانک اِس طرح کی کوئی بحث اٹھ جائے تو سوالات پیدا ہو جاتے ہیں ۔جب تک ہمیں ان چیزوں کا علم نہیں ہو گا، بات سمجھ نہیں آئے گی ۔
 قرآن حکیم میں متذکرہ آیت (آل عمران: 140 ) جس میں لفظ شہید مقتول فی سبیل اللہ کے معنی میں آیا ہے، ایک خاص پس منظر میں آئی ہے۔ یہاں ذکر غزوئہ احد کا ہو رہا ہے، جوغلبہ دین حق کی جدوجہد میں دوسرا غزوئہ ہے۔ اس راہ میں جو پہلا غزوہ پیش آیا، وہ غزوئہ بدر تھا۔ غزوئہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو معجزانہ طور پر کامیابی عطا کی، اللہ کی غیبی تائید اُن کے ساتھ تھی۔ غزوئہ احد میں اگرچہ مسلمانوں کو وقتی طور پر شکست ہوئی، لیکن اس کایہ مطلب نہیںتھا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اُن کے ساتھ نہیں تھی۔ یقیناً اللہ کی مدد آئی تھی۔ اللہ نے نصرت کااپنا وعدہ سچا کر دکھایا تھا، فرشتے بھی مدد کو آئے تھے، اسی لئے پہلے ہی ہلے میں دشمن کے قدم اکھڑ گئے، اور مسلمان ان کو تہہ تیغ کرنے لگے تھے۔ دشمن بھاگ رہے تھے، لیکن پھر یہ ہوا کہ جب نظم میں ڈھیل کا مظاہرہ ہوا تو اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو وقتی طور پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر یہ ہوا کہ 70 مسلمان شہید ہو گئے۔ سورۂ آل عمران میں ان باتوں کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ شہادت فی سبیل اللہ کاذکر کرکے اہل ایمان کو تسلی دی جا رہی ہے۔ فرمایا ’’یہ(قرآن) لوگوں کے لئے بیان صریح اور اہل تقویٰ کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے۔‘‘یعنی یہ نصیحت اور ہدایت ویسے تو سب کے لئے ہے، لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھائیں گے جو متقین ہیں۔
آگے فرمایا:’’اور (دیکھو) بے دل نہ ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا اگر تم مومن(صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔‘‘
حزن و ملال، افسوس، پریشانی انسان کوڈپریشن کی طرف لے جاتی ہیں۔ لہٰذا دھیان رکھو کہ ان کی نوبت نہ آنے پائے۔ گھبرائو مت اور ہمت نہ ہارو کہ بالآخر تم ہی غالب ہو کر رہوگے اگر تم واقعی مومن ہوئے۔ یہ بہت عظیم آیت ہے، جس میں قیامت تک کے لئے ہمارے لئے بشارت ہے۔ مسلمانوں کا دنیا میں غلبہ و اقتدار اور سر بلندی حقیقی ایمان کے ساتھ مشروط ہے۔ حقیقی ایمان وہ ایمان ہے جس کی گواہی آدمی کا عمل دے رہا ہو، انسان کا کردار شاہد ہو کہ یہ واقعی اللہ پر، رسول پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والا ہے۔ یہ نہیں کہ ایمان صرف نوک زبان پر ہو ۔اس وقت دنیا میں پونے دو ارب مسلمان ہیں ،لیکن بیشترکا حال یہ ہے کہ یقین کی دولت سے کوسوںدور ہیں۔ مسلم دنیا کے حکمران تو معاملات اور حالات کو ایمان و یقین کی روشنی میںدیکھنے کی بجائے مادی زاویہ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔     (جاری ہے )

غلبہ و کامرانی کے لئے انہیں بھروسا اللہ پر نہیں، جدید ٹیکنالوجی اور اسلحہ پر ہے، جبکہ یہ سب چیزیںثانوی ہیں۔ اصل چیز اللہ پر یقین اور اعتماد ہے۔ اگر اللہ پر یقین اور بھروسا نہ ہو تو اسلحہ، ہتھیار حتیٰ کہ ایٹم بم بھی دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔ ہاں اگر اللہ پر پختہ یقین ہوا تو ضرور غلبہ و سر بلندی حاصل ہو تی ہے۔ طالبان افغانستان کی شاندار مثال ہمارے سامنے ہے، جو ایمان کے ہتھیار سے لیس تھے، تو بے تیغ ہی امریکا سے ٹکرا گئے اور اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔ آج امریکا وہاں سے دم دبا کر بھاگ رہا ہے۔ آگے فرمایا:’’اگر تمہیں زخم(شکست) لگاہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے۔‘‘
اگر غزوئہ احد میں تمہارے 70 افرادشہید ہوئے ہیں اور بہت سارے زخمی بھی ہوئے ہیں، اگر تمہیں ایک چرکہ لگا ہے، تو ذرا غور کرو کہ وہ قوم جو تمہارے مقابل ہے یعنی قریش مکہ انہیں بھی تو ایسا زخم لگ چکا ہے۔ ایک سال پہلے ان کے بڑے بڑے سردار نہتے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ تم اس وقت جو اتنے پریشان اور صدمے سے نڈھال ہو رہے ہو، تو اس کیفیت سے نکلو ۔یہ کیفیت اگرچہ تمام مسلمانوں کی نہ ہو گی، چند ایک کی ہی ہو گی، تاہم قرآن مجید اصلاح کے لئے عمومی انداز میں بات کرتا ہے، تاکہ قیامت تک سب لوگ اس سے رہنمائی پائیں ۔
 ’’اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں۔‘‘
یعنی ہو سکتا ہے کسی ایک معرکے میں مسلمان فتح مند ہو جائیں اور کسی دوسرے معرکے میں مسلمانوں کو نقصان پہنچے اور بظاہر شکست ہو۔ یہ گردش ایام ہے، جس سے مسلمانوں کو بھی واسطہ پڑے گا، لیکن بالآخر کامیابی انہی ہی کی ہو گی۔غور کیجئے نبی کریم ﷺ کی مختصر سی  حیات طیبہ میں اللہ نے ان سے کیا کچھ کام لیا ہے۔ اگرچہ اس دوران میںکئی نہایت مشکل مراحل آئے، کتنے ہی غزوات اور سرایہ ہوئے اور حضورﷺ کو کئی صدمات دیکھنے پڑے ،لیکن بالآخر فیصلہ کن غلبہ اور کامیابی رسول کریم ﷺ اور آپؐ کے ساتھیوںہی کی ہوئی ۔غزوئہ احد میں مسلمانوں کو جو چرکہ لگا ہے، اس میں کئی مصلحتیں ہیں۔ اس میں ایک مصلحت یہ ہے کہ’’اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ اللہ ایمان لانے والوں کو متمیز (نمایاں) کر دے اور تم میں سے بہت سوں کو رتبہ شہادت دے اور اللہ بے انصافوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
 یعنی غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کو جو تکلیف پہنچی اور اُن کی جو شہادتیں ہوئیں، یہ سب کچھ اس لئے ہوا تاکہ اللہ ممیز کر دے ان لوگوں کو جو اللہ پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اوربعضوں کو مقام شہادت سے سر فراز فرما دے، جو ایک بہت اونچا منصب اور بلند مقام ہے۔   ؎
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن 
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی 
 شہادت کی آرزو ہر مسلمان کے دل میں ہونی چاہئے۔ حدیث نبویؐ ہے کہ جس شخص کی موت اس حال میں آ گئی کہ نہ تو اس نے اللہ کی خاطر کسی جنگ میں حصہ لیا، اور نہ کبھی اس کی آرزو ہی اس کے دل میں پیدا ہوئی، (کہ میں کسی اسلامی جنگ میں شریک ہوں اور اس میں مجھے شہادت نصیب ہو) وہ تو ایک درجے کے نفاق پرمرا ہے۔ یعنی ایسے شخص کا ایمان خالص نہیں ہے۔ اس میں نفاق کی آمیزش آگئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نفاق سے بچائے اور شہادت بلندکا مرتبہ عطا فرمائے ۔ (آمین) 
آگے فرمایا:’’کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ(بے آزمائش) بہشت میں جاداخل ہو گے(حالانکہ) ابھی اللہ نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور(یہ بھی مقصود ہے کہ ) وہ یہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے۔‘‘
’’اور موت(شہادت) کے آنے سے پہلے تم اُس کی تمنا کیا کرتے تھے، سوتم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا۔‘‘
اس کا ایک خاص پس منظر یہ ہے کہ غزوئہ احد سے پہلے غزوئہ بدر ہوا۔ اس میں صرف313 مسلمانوں کو شریک ہونے کا موقع ملا تھا۔اُن کے پاس صرف آٹھ تلواریں تھیں، مگر پھر بھی غزوئہ بدر ہوا ہے، کفار کے ساتھ دو بدو مقابلہ ہوا ، اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے، وہ خواہش کر رہے تھے کہ کاش ہم بھی معرکہ بدر میں شریک ہوتے اور ہمیں بھی شہادت نصیب ہوتی۔ تو فرمایا کہ تم اس سے پہلے شہادت کی بڑی آرزو بھی کرتے تھے ، تمہیں شہادت کا مقام عطا کر کے اللہ نے تمہاری یہ آرزو بھی پوری کر دی۔    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی ایمان فرمائے۔ (آمین) 

 

تازہ ترین خبریں