07:20 am
فعال وزیراعظم اور ن لیگ میں ممکنہ تعاون؟

فعال وزیراعظم اور ن لیگ میں ممکنہ تعاون؟

07:20 am

احسن اقبال مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل ہیں چند دن پہلے انہوں نے موجودہ ناکام حکومت کا علاج نئے انتخابات یا پھر مارشل لاء کو قرار دیا تھا۔ آرمی چیف جنرل باجوہ نے اس کا جواب دے دیا ہے  کہ فوجی طاقت سے زیادہ اخلاقی قوت موثر ہوتی ہے جبکہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے ہی وابستہ ہے۔ ن لیگ گاہے گاہے نئے انتخابات کو موجودہ ناکام حکومت کا علاج بتایا کرتی ہے۔ جنرل باجوہ کا شکریہ کہ انہوں نے مارشل لاء کی خواہش مند (ن) لیگ کو جواب آں غزل دے دیا ہے۔ احسن اقبال اور ن لیگ والے‘ ایک سیاسی مولانا بھی کشمیر پر وزیراعظم کو ناکام ثابت کر رہے ہیں۔ ان سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے ’’گونگے‘‘ نواز شریف کے ہاں مودی نجی مہمان بنا کر ہی شادی میں شریک تھے۔ ’’گونگے‘‘ وزیراعظم نواز شریف کے مقابلے میں پارلیمانی عددی کمزوری کے باوجود کشمیر اور بھارت کے حوالے سے عمران خان نہایت فعال اور نہایت اہل وزیراعظم ثابت ہو رہے ہیں۔ جتنا کشمیر پر عمدہ کردار اور موقف عمران خان نے پیش کر رکھا ہے اس کا عشر عشیر بھی شریف خاندان کے 35سالہ طویل اقتدار میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ احسن اقبال کے نئے انتخابات کی خواہش نہ صرف پوری نہیں ہوگی بلکہ موجودہ حالات میں عمران خان کا اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کا راستہ اپنانا نہ صرف ملکی مسائل کے حل  سے اغماض بلکہ جان  بچا کر راہ فرار اختیار کرنا کہلائے گا بلکہ جس قوت ارادی اور جرات سے اکیلے وہ مودی ظالم  حکومت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔ نئے انتخابات کے سبب تو یہ عمدہ ترین قومی عمل بھی رک جائے گا۔ لہٰذا اگر خدانخواستہ خود عمران خان بھی چاہیں تو اگلے تین ماہ میں وہ اپنی عددی قلت کو دور کرنے کے لئے نئے انتخابات کا راستہ اپنا لیں تو بھی حساس قومی مفادات‘ خطے کے حالات‘ مقبوضہ کشمیر کے لئے ابتلاء لاچکے حالات بھلا نئے انتخابات کا راستہ کیسے کھولنے دیں گے؟ آرمی چیف کی مدت میں تین سالہ توسیع کا جواز صرف علاقائی مدو جذر اور جنگی حالات کا فیصلہ  ہے۔ یہی حالات نئے انتخابی راستے کو بند کئے ہوئے ہیں۔
 
شیخ رشید اکثر مبالغہ آمیزی اور جھوٹ کا زیادہ استعمال کیا کرتے ہیں۔ ان کا ن لیگ میں فاروڈ بلاک کانیا شوشہ ان کی ایسی خواہش ہے جس میں وہ شہباز شریف یا چوہدری نثار کے ساتھ مل کر اسمبلی میں (اور تحریک انصاف میں اپنی بہت کمزور ہوچکی) حیثیت کو تبدیل کرکے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کا مصداق بننا چاہتے ہیں چوہدری نثار علی خان کا  حامی رہا ہوں۔  چوہدری نثار  ذاتی انا‘ نرگیست  سے بروقت باہر نہیں نکل سکے تھے انتخابی عمل سے پہلے اگر وہ عمران خان کے ساتھ مل جاتے تو وزیراعلیٰ پنجاب آج صرف وہی ہوتے مگر وہ بروقت فیصلہ نہ کرنے کی نفسیاتی کشمکش میں مبتلا رہنے والے کردار بن گئے۔ آج ان کو نئی ن لیگ میں کون رہنما اور قائد مانے گا اور  کون بننے دے گا۔ قائد نئی لیگ کا؟ شہباز شریف کو ن لیگ کی عملاً قیادت اور صدارت میسر رہی ہے انہوں نے اس میسر صدارت اور پارلیمانی قیادت اور اپوزیشن رہنما کردار سے‘ ریاست‘ عوام‘ ملکی مفادات کو کتنا بروقت فائدہ دیا ہے کہ ن لیگ کو نئے سرے سے ان کی گود میں ڈال دیا جائے کہ وہ شیخ رشید کے ساتھ مل کر عمران خان کی ذات کے لئے نئے مسائل پیدا کر دیں۔
شہباز کے لئے شیخ رشید کی نئی محبت‘ ایسے نئے فاروڈ بلاک کی ہرگز ضرورت نہیں بلکہ یہ صرف شیخ رشید کی ذاتی ضرورت ہے مگر یوں بھی وہ تحریک انصاف میں اپنی بہت زیادہ کمزور ہوچکی حیثیت کو ہرگز طاقتور نہیں بن سکیں گے۔ میرا مشورہ ہے ان سے ریلوے وزارت واپس لے لی جائے۔ کابینہ اراکین پر میڈیا کے سامنے باتیں کرنے پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ بطور خاص تحریک انصاف کے اراکین کابینہ کی مکمل زبان بندی اس وقت بنیادی اور فوری ضرورت ہے۔
عمران خان کی وزارت عظمیٰ کی تباہی و بربادی کا کام اپوزیشن نہیں بلکہ وفاقی کابینہ میں جاری جنگ و جدل‘ میڈیا کے سامنے گندے کپڑے دھوتا عمل ہے۔ ایسا صرف اس لئے ہو رہا ہے کہ عوام نے عمران خان کو اتنی پارلیمانی عددی قوت عملی طور پر نہیں دی‘ جتنی نواز شریف کو عوام دیتے رہے ہیں۔ عوام کے اس ناقص عمل کی سزا دیانتدار‘ قوت ارادی سے لبریز عمران خان کو مل رہی ہے اور وہ کمزور ترین عددی قوت پر مبنی حکومت کے باوجود‘ نااہل اور خود غرض اور اپنی اپنی ذات کو نمایاں  کرتے وزراء کے لاحق کیسز کے باجود تاحال جرات مند‘ دلیر‘ فعال‘ متحرک ایسے وزیراعظم کا کردار ادا کر رہے ہیں جو پوری دنیا میں گونگے نواز شریف کا بہترین متبادل کہا اور سمجھا جارہا ہے۔ آج آخر عرب بادشاہتیں کیوں پھر سے عمران خان کے ساتھ ہیں؟ کیوں عمان‘ امارات‘ سعودیہ ‘او آئی سی تیزی سے بھارت سے دور رہے ہیں  اور پاکستانی موقف کے ساتھ آواز ملا رہے ہیں؟ کشمیر پر یہ تبدیل ہوتی عرب حرکت پذیری اکیلے عمران خان کی فعالیت کا ہی ثمر تو ہے۔
ماہرین نجوم ماضی میں کہتے تھے کہ عمران خان وزیراعظم  نہیں بن سکتے‘ مگر جب انسان پرعزم ہو‘ قوت ارادی کا بھرپور استعمال بھی کرتا ہو‘ تو اللہ تعالیٰ ایسے کردار کی کامیابی کے راستے کھول دیا کرتے ہیں۔ ماہرین نجوم کی جزوی طور پر کہی ہوئی بات غلط ثابت ہوچکی ہے۔ ہاں اگلے دو تین ماہ عمران خان کی ذات کے لئے ‘ ریاست پاکستان کے لئے‘ فوج کے لئے‘ پارلیمنٹ کے لئے بہت زیادہ سخت ہیں۔ مجھے متوقع صدارتی خطاب کے دوران بھی اپوزیشن اور حکومتی اراکان میں ہاتھا پائی ہوتی نظر آرہی ہے۔ میں پہلے بھی لکھ چکاہوں کہ برطانیہ میں فریز اور معطل ہوچکی اسمبلی کو غور سے دیکھیں۔ بظاہر ہماری اسمبلی کو نہ معطل کیا جاسکتا ہے نہ ہی فریز مگر مجبوری  وہ سب کچھ کروا دیا کرتی ہے جو ملکہ برطانیہ نے عملاً کر دیا ہے۔ 
ن لیگ میں فاروڈ بلاک کے حوالے سے میں نے جو  اوپر لکھا ہے وہ صرف چوہدری نثار  علی خان اور شہباز شریف کی متوقع قیادت کے نظرئیے کے باطل ہونے کے حوالے سے لکھا ہے جبکہ عملاً شریف خاندان کی طویل مدتی تباہ شدہ خاندانی سیاست کا شدید تقاضا ہے‘ پاک بھارت جنگی حالات کا بھی تقاضا ہے‘ اہل کشمیر کی طویل ہوتی ابتلاء کا بھی تقاضا ہے کہ ن لیگ از خود نئی قیادت کو اپنالے۔ نئی قیادت‘ اس عمل کا نام ن لیگ رکھے یا کوئی اور نام رکھ لئے ۔ خود لیگی اراکین پارلیمنٹ کی ذاتی سیاسی ضرورت بھی یہی ہے کہ وہ عمران خان کے دست و بازو بن جائیں تاکہ عمران خان کو قومی مفادات کی جنگ میں تنہائی کا احساس نہ رہے۔ چوہدری نثار اور شہباز شریف کی بجائے کسی بھی دوسرے اعتدال پسند اور عملیت پسند رہنما کی زیر قیادت موجودہ تباہ شدہ مورال والی لیگ اپنے لئے ایوان اقتدار میں نئی جگہ ایجاد کر سکتی ہے مگر ایسا صرف عمران خان کے دست و بازو بن کر ہی ہوسکتا ہے۔ جو لوگ شاہ محمود قریشی کو عمران خان کی جگہ وزیراعظم بنوانے پر کمربستہ ہیں وہ شائد شاہ محمود کو اتنا گندا کر دیں گے کہ تحریک میں شاہ محمود کا وجود ناقابل برداشت ہو جائے گا۔ تجویز ہے کہ عمران خان فوراً وار کابینہ بنائیں۔

 

تازہ ترین خبریں