07:21 am
 کشمیریوں  سے  اظہار یکجہتی کافقید المثال مظاہرہ

 کشمیریوں  سے  اظہار یکجہتی کافقید المثال مظاہرہ

07:21 am

بروز اتوار یکم ستمبر 2019ء کو جماعت اسلامی نے کراچی میں مقبوضہ کشمیر کے پابند سلاسل مسلمانوں کے حق میں ایک فقید المثال جلسے کا انعقاد کیا تھا اس جلسے میں سندھ بھر سے عوام نے شرکت کر کے یہ ثابت کر دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے جو یکطرفہ فیصلہ کیا ہے اور اس جنت النظیر خطے کو بھارت میں ضم کرنے کے کوشش کی گئی ہے اس کو نہ صرف مسترد کر دیا ہے بلکہ یہ عہد کیا ہے کہ کشمیر کی آزادی ، خودمختاری اور انسانی حقوق کے لئے جدوجہد جاری رہے گی جلسے کو 3بجے شروع ہونا تھا لیکن اس دوران اچانک بارش شروع ہو گئی جو پہلے ہلکی تھی لیکن بعد میں تیز ہو گئی ، اس کے باوجود بھی جلسہ گاہ میں موجود عوام اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئے اور اپنے قائدین کے آنے اور ان کی تقریریں سننے کے لئے اطمینان سے بیٹھے رہے ۔ حالانکہ ماضی میں یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جب کبھی اتنا بڑا جلسہ منعقد ہو تا ہے اور اس دوران اچانک بارش شروع ہو جائے تو عوام میں بے چینی بڑھ جاتی ہے اور وہ بارش سے بچنے کے لئے پناہ گاہ تلاش کرنے کی تلاش میں جلسے سے اٹھ جاتے ہیں لیکن جماعت اسلامی کے اس جلسے میں ایسا نہیں ہوا ۔ عوام اطمینان و سکون سے بیٹھے رہے بلکہ بارش سے بھی لطف اندوذ ہو تے رہے ۔
اس جلسے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس میں جماعت اسلامی کے کارکنوں، رہنمائوں کے علاوہ ہر مکتبہ فکر کے افراد نے بھرپور شرکت کی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بھی شامل تھے مزید براں مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کے سیاسی و سماجی کارکنوں نے بھی بھرپور شرکت کر کے مقبوضہ کشمیر میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کی عملی مذمت کر کے ساری دنیا کو یہ باور کراد یا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت کے غیر آئینی ، غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات منظور نہیں ہیں اور ان محصورین کی آزادی کے لئے جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ میرے اپنے مشاہدے کے مطابق جماعت اسلامی کے اس تاریخی جلسے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی جس میں خواتین ، بچوںاور بزرگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ اپنی جذباتی ، اخلاقی اور اسلامی یگانگت کا مظاہر ہ کر رہے تھے ۔ پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حق میں یہ پہلا بڑا جلسہ تھا جو حقیقی معنوں میں پاکستان کے عوام کی ترجمانی کر رہا تھا ۔ اس جلسے کی صدارت جماعت اسلامی کے امیر   سراج الحق نے کی تھی اور انہی کی تقریرہر لحاظ سے مقبوضہ کشمیر میں مقید مسلمانوں کی ترجمانی کر رہی تھی ۔ سراج الحق دلائل اور برہان سے گفتگو کرتے ہیں لیکن اس دن انہوں نے انتہائی جذباتی تقریر کی تھی جس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی قابض فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر کئے جانے والے ظلم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے وعدہ لیا کہ وہ کشمیر کی آزادی کے لئے کیا جنگ کرنے کے لئے تیار ہیں ، عوام نے نعروں کی صورت میں انہیں اپنے یقین سے آگاہ کیا کہ وہ دامے درمے سخنے اور قدمے ان کے ساتھ کھڑے ہیںاور کشمیر کی آزادی کے لئے جنگ کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔
 سراج الحق کی تقریر کافی دیر تک جاری رہی اس دوران ابرِ رحمت بھی قطروں کی صورت میں گرتی رہی جو اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ آسمان بھی مظلوم مسلما نو ں کے ساتھ ہے ۔ سراج الحق کی تقریرسے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی اور این ڈی خان نے بھی تاریخی اور قانونی حوالوں سے کشمیر سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مودی کی مقبوضہ کشمیر سے متعلق یکطرفہ فیصلے کو نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ اس کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ گزشتہ ایک ماہ سے جو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا ہوا ہے اسے فی الفور اٹھایا جائے واضح رہے کہ اس مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے پورا علاقہ ایک بڑی جیل میں بدل گیا ہے ۔ کھانے پینے کی چیزیں تقریباً ناپید اور نایاب ہیں ،سکول اور کالج بند ہیں ، ہرقسم کے ذرائع ابلاغ پر مودی سرکار نے پابندی عائد کر رکھی ہے جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے ۔ مزید براں جو کشمیر کرفیو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں بھارتی فوج فوراً گرفتار کر لیتی ہے اور پھر ان کو بھارت کے مختلف شہروں مثلا ً الہ آباد، دہلی، لکھنو اور بنارس کی جیل خانوں میں قید کر دیا جاتا ہے ایک اور اذیات ناک صورتحال یہ بھی ہے کہ ان کے لواحقین کو مقبوضہ کشمیر کی پولیس اور بھارت کی قابض فوج انہیں یہ نہیں بتاتی کہ ان کے پیاروں کو کس جگہ اور کس جیل میں قید رکھا گیا ہے یہ انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے جس سے مقبوضہ کشمیر کے عوام روزانہ کی بنیاد پر گزر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر کشمیری اور پاکستانی باہم مل کر لندن ، امریکہ اور کینیڈامیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم کو بے نقاب کر نے کے لئے مسلسل ریلیاں نکال رہے ہیں اور وہاں کے عوام کو آگاہ کر رہے ہیں کہ نریندر مودی اکیسویں صدی کا ہٹلر ہے جو نا صرف کشمیری عوام اور مسلمانوں کا دشمن ہے بلکہ پاکستان کے خلاف جنگی عزائم بھی رکھتا ہے ۔
 مودی کے اس ناپاک عزائم اور منصوبے میں امریکہ اور اسرائیل برابر کے شریک ہیں پاکستان کی عوام کشمیر سے متعلق امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کو سمجھ چکے ہیں اور عالمی سامراج کے پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے جو شیطانی حکمت عملی جاری ہے اس کا فہم اور ادراک بھی رکھتے ہیں اور اس کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنے کے لئے اپنی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں ۔ 
  دریں اثناء ابھی حال ہی میں مالدیپ میں ہونے والی اسپیکرز کانفرنس میں پاکستان کے قومی اسمبلی کے اسپیکر قاسم سوری نے وہاں بڑی جرات ِ رندانہ کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھایا تھا اور وہاں دیگر ممالک سے آئے ہوئے اسپیکرز کو بتایا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا ہے جس کو فی الفور بند ہونا چاہئے نیز بھارت کو چاہئے کہ اس نے 5اگست کو جو مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرنے کا جوڈرامہ رچایا ہے اسے فورا ً واپس لیا جائے ۔ قاسم سوری کی تقریر کو ان سنی کرنے کے لئے بھارتی وفد نے بہت شور و غوغا مچایا لیکن وہ ناکام رہے ، قاسم سوری نے اپنی تقریر جاری رکھی اور پاکستان کے موقف کو بڑی خوبصورتی سے پیش کر کے مالدیپ کی پارلیمنٹ کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔ مالدیپ ایک مسلمان ملک ہے جس کو بھارت اپنی طاقت کے ذریعے اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرتا ہے جس میں اسے ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی مالدیپ مقبوضہ کشمیر سے پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کر تاہے۔ 




 

تازہ ترین خبریں