07:22 am
سندھ پاکستان کی جان مگر؟

سندھ پاکستان کی جان مگر؟

07:22 am

جنرل قمر جاوید باجوہ کہتے ہیں کہ ’’سندھ پاکستان کی جان، سندھی بہترین فوجی جوان ہیں، آرمی چیف نے سندھ کے عوام کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سندھ کے جوان جفاکش ، محنتی اور وفادار ہیں، پاکستان کو بنانے میں سندھ کا اہم کردار ہے‘‘ بے شک سندھ کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ نے جو کچھ کہا وہ بالکل درست ہے۔
 
شاہ عبد الطیف بھٹائی ؒ اور مخدوم ہاشمؒ   ٹھٹھوی کی سندھ دھرتی پورے ملک کے لئے محبتوں کی ماں ہے، مشہور اسلامی جرنیل محمد بن قاسمؒ نے سندھ دھرتی کو ظالم ، جابر، بدمعاش، لٹیرے اور خونی دہشت گرد راجہ داہر سے آزاد کروایا تھا، اسی لئے سندھ دھرتی کو باب الاسلام بھی کہا جاتا ہے، سندھ کے عوام کی پاکستان سے محبت ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے، لیکن برا ہو ان وڈیروں، نوابوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور بھارتی  راتب خوروں کا کہ جنہوں نے سندھ کے عوام کو ’’تعلیم‘‘ سے ، سندھ کے شہروں کو ’’ترقی‘‘ سے جان بوجھ کر محروم رکھا تاکہ سندھی عوام کے کندھوں پر سوار ہوکر کرپشن کے اتوار بازار سجائے جاسکیں۔
نفرت کے سوداگروں نے سندھ کے عوام کو قومیت کے نعروں میں تقسیم کرکے اپنا اپنا الو تو سیدھا کرلیا لیکن افسوس کہ پاکستان  کے پاکستان کے دل صوبہ سندھ کے اکثر شہروں کی سڑکیں ،بازار ، گائوں، گوٹھیں، سکولز، کالجز، دفاتر آج بھی کسی بیوہ کی اجڑی مانگ کے مناظر پیش کررہے ہیں۔
میں سندھ کے شہروں سجاول، ٹھٹھہ، حیدر آباد، بدین، نواب شاہ، کنڈیارو، سکھر، محراب پور، جیکب آباد ، لاڑکانہ، میرپور خاص، سانگھڑ، تھرپارکر وغیرہ کی برباد سڑکوں اور وہاں بسنے والے کروڑوں عوام کی کسمپرسی، بے بسی اور زبوں حالی کا کیا تذکرہ کروں؟اس لئے کہ پورا سندھ ہی پینے کے صاف پانی کو ترس رہا ہے، پانی اگر مٹی ملا ہوا ہو تو تب  بھی پیاسا انسان جی  کڑا کر پی ہی لیتا ہے، افسوس صدر افسوس کہ بلاول زرداری کے صوبہ سندھ کے گائوں، گوٹھوں میں آج لاکھوں سندھی عوام جوہڑ کا پانی پینے پر مجبور ہیں، ان گزرے پینتالیس سالوں میں سندھ اور پاکستان کے عوام نے لاڑکانہ، گڑھی خدا بخش کے مکینوں  کو اسلام آباد کا اقتدار سونپا ، سندھ یا پورا ملک تو رہا ایک طرف مگر اللہ ہی جانے کہ لاڑکانہ بھی اگر آج تک ترقی سے محروم چلا آرہاہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟
سنا ہے کہ بلاول زرداری مذہبی شدت پسندی کے بڑے مخالف ہیں، کوئی ان سے پوچھ کر قوم کو بتائے کہ سندھ کے عوام اور سندھ کے کھنڈرات نما شہروں کو ترقی سے محروم رکھنے کے ذمہ دار بھی کیامذہبی  شدت پسند ہیں؟ آج2019 ء کے جدید دور میں بھی اگر سندھ کے لاکھوں عوام پینے کے صاف پانی کو ترس رہے ہیں تو اس کی ذمہ داری کیا مولویوں پر عائد ہوتی ہے؟
سندھ میں بسنے والے ، کسی جہادی یا کسی مولوی نے تو لندن میں سرے محل نہیں بنایا، سندھ دھرتی پر رہنے والے کسی مذہبی لیڈر نے تو دوبئی میں جائیدادیں نہیںبنائیں، سندھ دھرتی پر آباد  کسی مدرسے والے نے تو کراچی سے لے کر لاہور اور اسلام آباد تک بلاول ہائوس کی طرزپر محلات تو تعمیر نہیں کئے‘ جب دیکھو انہوں نے  ’’مذہبی شدت پسندی‘‘ کا ’’ہوا‘‘ کھڑا کرکے لوٹ مار کی سیل لگا رکھی ہوتی ہے۔
گزشتہ روز میری لاڑکانہ کے رہائشی سندھ پولیس کے ایک سندھی جوان سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ  سنا ہے کہ اندرون سندھ کا سب سے بڑامسئلہ ’’ہندو لڑکیوں کو زبردستی اسلام میں داخل کرنا بنا ہوا ہے۔‘‘ سندھ پولیس کے  اس جوان کا جواب تھا سائیں یہ ساری افواہیں ڈالر خور این جی اوز اور میڈیا کی پھیلائی ہوئی ہیں‘ وگرنہ زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ سندھ کا اصل مسئلہ ’’کاروکاری‘‘ ہے میرا اگلا سوال تھا کہ ’’کاروکاری‘‘ کی لعنت میں مسجدوں کے مولوی‘ مدرسوں کے طالب علم‘ کالعدم جہادی یا دیگر مذہبی تنظیموں کے کارکن کتنے فیصد ملوث ہیں؟
اس کا جواب تھا ’’ایک فیصد بھی نہیں‘ کاروکاری کی قبیح ترین رسم میں سرمایہ دار‘ وڈیرے‘ سیکولر یا علم سے دور جاہل لوگ ہی ملوث ہیں‘‘ آپ کراچی کو سندھ کا دارالخلافہ کہتے ہیں لیکن پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی زبوں حالی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ شہر کراچی کے کس کس علاقے کا ذکر کیا جائے۔  آپ جس علاقے میں بھی جائیں گے وہ علاقہ آپ کو حکمرانوں کے سوتیلے پن کا شکار نظر آئے گا۔
بقول جنرل قمر جاوید باجوہ سندھ پاکستان کی جان ہے، یقینا ، یقینا مگر یہ ’’جان‘‘ بڑی دکھی ہے، ستم در ستم کہ پاکستان کی جان صوبہ سندھ  کے دکھوں کو دور کرنے کے لئے عمران خان کی وفاقی حکومت نے بھی کچھ نہیں کیا؟
صرف پاکستان بنانے میں ہی نہیں، بلکہ پاکستان بچانے میں بھی سندھ  کا کردار بہادرانہ رہے گا (ان شاء اللہ) لیکن سندھ ارباب اقتدار اور ارباب اختیار سے پوچھتا ہے کہ سندھ کے عوام کو بیماریوں اور وبائوں سے بچانے کیلئے ، سندھ کو کرپشن کے کیل، کانٹوں سے نجات دلانے کے لئے، کراچی سمیت پورے سندھ کی سڑکوں کی تعمیر نو کے لئے ، سندھ کو کچہرے کے ڈھیروں اور گندے پانی سے چھٹکارا دلانے کیلئے  سندھ میں طبی اور تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے کون کردار ادا کرے گا؟

 

تازہ ترین خبریں