07:23 am
قصہ208 ارب روپے اِدھراُدھرہونے کا!

قصہ208 ارب روپے اِدھراُدھرہونے کا!

07:23 am

٭ کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خا ن  نے حیرت کا اظہار کیا کہ صنعت کاروں کو دو کھرب آٹھ روپے کیسے معاف کر دیئے گئے؟ خزانہ اور توانائی کے مشیر و وزیر ندیم بابر اور عمر ایوب نے ایسی گول مول تشریح کی کہ معاملہ مزید الجھ گیا۔کیا جواب دیا کہ ایسا کرنا ضروری تھا، اس سے بہت آمدنی ہو گی۔ قارئین کی آسانی کے لئے مختصر بات کہ آصف زرداری اور نوازشریف کی حکومتوں نے بجلی اور گیس کے خسارے پورے کرنے کے لئے عوام پر اضافی ٹیکس لگا دیا۔ ان سے 416؍ارب (چار کھرب 16 ارب)روپے گیس کمپنیوں کے پاس جمع ہو گئے۔ یہ معاملہ عدالتوں تک پہنچا۔ سپریم کورٹ نے یہ ٹیکس غیر قانونی قرار دے دیا۔ یہ بھاری رقم عوام کو واپس ملنی چاہئے تھی مگر حکومت اور کمپنیوں نے بندر بانٹ کر لی۔ 208 ارب روپے حکومت نے خزانے میں بھر لئے اور208 ارب ان کمپنیوں کو بخش دیئے گئے۔ اس بارے میں پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کی بجائے صدارتی آرڈی ننس کا بدنام طریقہ اختیار کیا گیا۔ اور چند سطروں کے ایک صدارتی حکم کے ذریعے عوام سے جبری وصول کئے جانے والی اربوں کی نصف رقم ان کمپنیوں کو تحفہ میں دے دی گئی جو نیب کی تحقیقات کے مطابق عوام کو فروخت کی جانے والی گیس پر 15 فیصد کی بجائے 70 فیصد نفع کما کر پہلے ہی اربوں، کھربوں سے تجوریاں بھر چکی ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں وزرا نے موٹی موٹی اصطلاحوں والے جو اعداد و شمار پیش کئے، ان سے وزیراعظم غالباً مطمئن نہیں ہو سکے اور ہدائت جاری کر دی کہ یہ باتیں صحافیوں اور عوام کو بتائیں۔ مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا ہے۔ ایک دیہات میں ایک گھر میںچوری ہوئی مگر چرائے ہوئے سامان کی گٹھڑی اندر رہ گئی۔ تھانیدار آیا۔ لوگ جمع تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ جناب میں بتاتا ہوں، چوری کیسے ہوئی ہو گی! یہ کہ چور رات گئے پچھلی دیوار سے اندر کودا ہو گا اور پھر باورچی خانے کی کھڑکی سے اندر آ گیا ہو گا۔ سارے لوگ سو رہے ہوں گے۔ وہ بہت سامان باندھ کر باہر لایا ہو گا اور گٹھڑی اٹھا کر دیوار پر سے باہر کودنے کی کوشش کی ہو گی مگر گٹھڑی بہت بھاری ہو گی، ہاتھ سے چھوٹ گئی ہو گی اور پھر گٹھڑی اندر اور میں باہر!!
٭وزیراعظم پاکستان کی طرف سے تین بار فون آنے پر تنگ آ کر سعودی وزیرخارجہ نے خود ہی اسلام آباد جا کر مقبوضہ کشمیر کے بارے میں تشویش کے اظہار کا فیصلہ کر لیا۔ راستے میں عرب امارات کے اس نائب وزیرخارجہ کو بھی ساتھ لے لیا جس نے یمن پر عرب فوجوں کے حملے میں پاکستان کی عدم شرکت پر اسے دشمن قرار دے کر ناقابل بیان سخت کلامی کی تھی۔ اس کے بعد ہی ابوظہبی میںہندوئوں کے دو مندر بنا کر بتوں سمیت بھارتی وزیراعظم کو تحفہ میں پیش کئے گئے تھے۔ شائد بار بارٹیلی فون کے ایسے ہی سلسلے میں تشویش کا اظہار کرنے افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ بھی آ رہے ہیں! ایک خبر یہ بھی جاری ہوئی کہ ہمارے وزیرخارجہ نے بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ سے بھی بات کی ہے۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بنگلہ دیشی وزیرخارجہ نے کیا ردعمل ظاہر کیا؟ کوئی تشویش بھی ظاہر کی یا نہیں؟
٭ایک خبر کہ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید احمد کی املاک کے بارے میں سندھ کے 26 اضلاع میں نیب کی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں اور یہ کہ دو اضلاع میں اہم جائیدادوں کا سراغ مل گیا ہے۔ میں کوئی تبصرہ نہیں کرتا۔ سندھ میں سادات پر وقت آیا ہوا ہے، سید قائم علی شاہ، سید مراد علی، سید ناصر حسین اور اب سید خورشید شاہ؟ سید توخیر میں بھی ہوں مگر میرے پاس تو ایک بائیسکل بھی نہیں!لطیفہ یاد آ گیا ہے۔ ایک چوہے نے ہاتھی کے بچے سے پوچھا کہ تمہاری عمر کیا ہے؟ اس نے کہا چھ مہینے اور تمہاری عمر کیا ہے؟ چوہے نے کہا عمر تو میری بھی چھ ماہ ہے مگر میں ذرا بیمار شمار رہتا ہوں!
٭پنجاب کی حکومت نے اچانک ایسے ہسپتالوں کی نجکاری کا اعلان کر دیا ہے جن کے ساتھ تدریسی کالج بھی منسلک ہیں۔ اس حکم کے مطابق آئندہ حکومت کی بجائے نجی ڈائریکٹروں کے بورڈ ہسپتال چلائیں گے۔ ان ہسپتالوں اور کالجوں کے پرنسپل اور ایم ایس کے عہدے ختم کئے جا رہے ہیں اب ان کی جگہ ڈائریکٹر اور منیجر وغیرہ انتظام سنبھالیں گے! اس تبدیلی سے متاثر ہونے والے لاہور کے ہسپتالوں میں ملک کا سب سے بڑا اور قدیم ترین میوہسپتال اور سروسز، جناح، جنرل، چلڈرن اور دوسرے اہم ہسپتال ہوں گے۔ اس تبدیلی کے بعد ان ہسپتالوں کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دوسرے عملے کو سرکاری ملازمتوں کا تحفظ اور سہولتیں ختم ہو جائیں گی دوسری طرف غریب عوام کی مفت علاج کی سہولت بھی بند ہو جائے گی۔ عام لوگ نجی ہسپتالوں کے اخراجات کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ میرے ایک عزیز نے لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں ایک آنکھ کا آپریشن کرایا۔ بِل آیا 72 ہزار روپے! میری اہلیہ مرحوم کے صرف چار پانچ ہفتے کے علاج پر تقریباً آٹھ لاکھ روپے خرچ ہوئے، ابھی تک قرضے ادا نہیں کر پایا۔ پتہ نہیں غریب عوام کا کیا بنے گا؟
٭لندن میں کشمیری اور پاکستانی افراد کا ایک اور بہت بڑا مظاہرہ پارلیمنٹ ہائوس سے شروع ہو کر بھارتی سفارت خانے پر ختم ہوا۔ مظاہرین نے پولیس کے اوپر سے سفارت خانے پر ہزاروں گندے انڈوں، ٹماٹروں، لہو رنگ پانی سے بھرے غباروں اور دھواں دینے والے آتش بازی کے پٹاخوں کی یلغار کر دی۔ خبر کے مطابق سفارت خانے کے شیشے ٹوٹ گئے۔ مظاہرین نے وزیراعظم ہائوس کے باہر بھی مظاہرہ کیا اور بھارت کے خلاف یادداشتیں پیش کیں! پتہ نہیں، مظاہرین گندے انڈے کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟ ایک سیانے نے بتایا ہے کہ صحت مند انڈا پانی میں ڈوب جاتا ہے مگر گندا انڈا تیرنے لگتا ہے!
٭پاک فوج کے چیف آف سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ بات بالکل درست اور آسان ہے۔ بلدیات جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہیں مگر حکومتوںکو ہضم نہیں ہوتیں اسی لئے  پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتو ںنے کافی عرصہ پہلے سارے بلدیاتی ادارے ختم کر دیئے تھے۔ ان کی جلد بحالی کی بھی کوئی امید نہیں۔پختونخوا کی حکومت نے صاف کہہ دیا ہے کہ ایک سال پہلے بحال نہیں ہو سکتے۔ پنجاب کی حکومت نے یہ اعلان بھی نہیں کیا۔ ویسے ماضی میں بھی کون سی حکومت کو بلدیاتی حکومتیں ہضم ہوتی تھیں؟ ذوالفقار علی بھٹو نے چھ سال تک ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت ملک میں مسلسل ایمرجنسی نافذ کئے رکھی اور بلدیات کے انتخابات نہ ہونے دیئے۔ 1990ء کے عشرہ میں شہباز شریف وزیراعلیٰ بنے تو ایک سال بلدیات کے انتخابات نہ ہونے دیئے۔ عدالتی حکم پرکرانے پڑے تو خدشہ پیدا ہوا کہ ان کے چیئرمینوں کے عہدوں پر اپوزیشن قبضہ کر لے گی سو ایک سال تک چیئرمینوں کے انتخابات روکے رکھے! یہ مسئلہ بھی ہائی کورٹ نے حل کیا۔ مشکل کے ساتھ چیئرمین آئے تو فنڈ روک لئے! یہی عمل اب سندھ میں ہو رہا ہے۔ بلدیات موجود ہیں فنڈز اور اختیارات کوئی نہیں۔ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ فیصل آبادی گھنٹہ گھر بنے ہوئے ہیں۔اختیارات کی ساری سڑکیں وزیراعلیٰ کی میز پر جمع ہو جاتی ہیں۔ بلدیات قدموں میں دبی ہوئیں، اختیارات وزیراعلیٰ کی جیب میں! کراچی، سکھر میں کچرے کے پہاڑی سلسلوں کی خبریں عام ہوئیں تو حیدرآباد سے ایک عزیز نے فون کیا ہے کہ سارے شہروں میں مقابلہ کرا لیں، حیدرآباد سب سے آگے ہو گا!
٭رحیم یارخان: اے ٹی ایم چوری کا ملزم صلاح الدین دفنا دیا گیا۔ اس کے بھائی کے مطابق جسم زخم زخم تھا۔ کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جس پر تشدد نہ ہوا ہو۔ اور اس کے ’پوسٹ مارٹم‘ کی ابتدائی رپورٹ کہہ رہی ہے کہ کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں ہوا، اس لئے پولیس کو بری کر دیا گیا ہے! پتہ نہیں، پولیس نے پوسٹ مارٹم کی اس رپورٹ کی کیا قیمت ادا کی ہو گی؟ مگر ان لوگوںکو کسی نے نہ بتایا کہ ظلم کا انجام کیا ہوتا ہے؟ ڈرو اس وقت سے جب کہیں چھپنے کو جگہ نہیں ملے گی!
 

تازہ ترین خبریں